وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے شیما کرمانی اور انسانی حقوق سے وابستہ خواتین ورکرز کی گرفتاری ،بدسلوکی کا نوٹس لے لیا

جمعرات 7 مئی 2026 00:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر شیما کرمانی اور انسانی حقوق سے وابستہ خواتین ورکرز کی گرفتاری اور مبینہ بدسلوکی کے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا گیا ہے۔ معاملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے ایڈشنل آئی کراچی آزاد خان کی سربراہی میں واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے احترام اور ان کے بنیادی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی طور پر انہیں اس پر سخت رنج ہے۔

وزیر داخلہ نے شیما کرمانی سے رابطہ کرکے معذرت بھی کی اور یقین دہانی کرائی کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ خواتین اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے احترام اور برابری کے حقوق کی علمبردار رہی ہے۔ انہوں نے شہید قائد بینظیر بھٹو اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی بنیاد ہی انسانی وقار، برابری اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہے، جن پر ہر حال میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔