Live Updates

’’معرکہ حق‘‘ایمان، اتحاد اور قومی وقار کی عملی تصویر ،دفاع ہماری طاقت اور وقار ہماری پہچان ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور

جمعرات 7 مئی 2026 22:28

مظف آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ آپریشن’’بنیان مرصوص‘‘اور’’معرکہ ح‘‘ ایمان، اتحاد اور قومی وقار کی عملی تصویر تھا، معرکہ حق میں پاکستان نے ثابت کیا کہ امن ہماری ترجیح ضرور ہے لیکن دفاع ہماری طاقت اور وقار ہماری پہچان ہے، اپنے شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں، اپنے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور اپنی قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم متحد ہیں، مضبوط ہیں اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں، کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں افواج پاکستان اور عوام کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، زیادہ اتحاد اور زیادہ عزم کے ساتھ دیاجائیگا، کشمیر کے بغیر پاکستان کا تصور ادھورا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیاجائے، آپریشن بنیان مرصوص اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے، پاکستان آرمی، فضائیہ اور بحریہ نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور انتہائی مہارت کے ساتھ ان کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا، یہ کامیابی محض عسکری نہیں بلکہ اخلاقی فتح بھی تھی کیونکہ ہم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے مگر اپنی عزت و وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزادکشمیر نے معرکہ حق بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت مظفرآباد میں منعقدہ’’یوم تشکر ‘‘ کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں اعلیٰ سول و عسکری حکام موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور نے کہاکہ آج ہم تاریخ کے ایک ایسے درخشاں باب کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں جس نے نہ صرف دشمن کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملایا بلکہ پوری دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ایک پائیدار، ذمہ دار اور ناقابلِ تسخیر قوم اور ایٹمی طاقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس معرکے کے پس منظر میں دشمن کی وہی پرانی روش کارفرما تھی، یعنی جھوٹ، فریب اور بے بنیاد الزامات۔ ایک حساس مقام پر پیش آنے والے مشکوک واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، جیسا کہ ماضی میں بھی بارہا کیا جاتا رہا ہے، بھارت نے ہمیشہ اپنی اندرونی سکیورٹی ناکامیوں اور سیاسی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا مگر اس بار بھی ان بے بنیاد الزامات کو جواز بنا کر پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر بلااشتعال حملے کیے گئے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کی گئی لیکن دشمن یہ بھول گیا کہ یہ سرزمین صرف پہاڑوں اور وادیوں کا نام نہیں بلکہ غیرت، ایمان اور قربانیوں کی سرزمین ہے، اس نازک لمحے میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے جس بصیرت، تحمل اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی قیادت میں پاکستان آرمی نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی بھرپور کامیابیاں حاصل کیں اور عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنا اور سراہا۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ عالمی پیش رفت، چاہے وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی ہو یا اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات، ان میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ پاکستان اب صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی قیادت کے لیے ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہا ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ’’بنیان مرصوص‘‘ کا تصور ہمیں قرآنِ کریم سے ملتا ہے، یعنی ایک مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، یہی اتحاد اس معرکے میں نمایاں نظر آیا۔

پاکستان، حکومت اور عوام سب ایک صف میں کھڑے تھے، دشمن کے عسکری اہداف کو نہایت درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، دشمن کے جیٹ طیاروں کو مار گرایا گیا اور یہ ثابت کر دیا گیا کہ پاکستان خواہ روایتی ہو یا جدیدہر قسم کی جنگ کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ دشمن کی جنگ صرف بارود اور گولی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بیانیے، افواہوں اور ذہنوں کی جنگ بھی ہے،بھارت آج بھی میڈیا پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیوں کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستان ایک باشعور قوم کے طور پر ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں آج یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر مستقبل میں کسی قسم کی بھارتی مہم جوئی کی گئی تو افواجِ پاکستان اور عوام اس کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، زیادہ اتحاد اور زیادہ عزم کے ساتھ دیں گے،پاکستان امن چاہتا ہے مگر یہ اس کی کمزوری ہرگز نہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ یہ کامیابی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی، دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو نہ صرف اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی سنجیدہ کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور نے کہاکہ پاکستان آزاد کشمیر کو صرف دفاعی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ ہر شعبے میں مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، دفاعی سطح پر ہماری سرحدوں کی حفاظت، جدید نگرانی کے نظام اور ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی تیاری، یہ سب پاکستان کے مضبوط عزم کا مظہر ہیں۔پاکستان نے آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے مالی معاونت، انفراسٹرکچر کی بہتری، سڑکوں، پلوں، ڈیموں، تعلیمی اداروں اور صحت کے منصوبوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔

قدرتی آفات کے دوران فوری امداد، بحالی کے منصوبے اور عوامی فلاح کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان آزاد کشمیر کو اپنے جسم کا حصہ سمجھتا ہے، نہ کہ صرف ایک خطہ۔وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور نے کہاکہ اگر ہم اپنی تاریخ کی طرف نظر ڈالیں تو ہمیں محمد علی جناح کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عزم اور ایک تاریخی حقیقت ہے۔

کشمیر کے بغیر پاکستان کا تصور ادھورا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا مرکزی نقطہ بنایا ہے۔انہوں نے کہاکہ جہاں ہم آج افواجِ پاکستان کی اس کامیابی کا جشن منا رہے ہیں، وہاں ہمیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و جبر کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ وہاں کے نہتے کشمیری عوام برسوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں،گھروں پر چھاپے، ماورائے عدالت گرفتاریاں، نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں اور حریت قیادت کی طویل نظربندی ایک تلخ حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ صرف مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کو امتیازی سلوک، تشدد اور نفرت انگیز پالیسیوں کا سامنا ہے۔ انتہاپسند عناصر، آر ایس ایس اور سیاسی قوتیں جیسے بی جے پی معاشرے میں تقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں، ہم آج اس فورم سے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں، کشمیر ایک دیرینہ تنازع ہے اور ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں، اس مسئلے کو نظرانداز کرنا عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جائے، جیسا کہ عالمی قراردادوں میں وعدہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر یہ عہد کرتا ہوں کہ ہماری حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر عالمی فورم پر اجاگر کرتی رہے گی،آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے اتحاد کو برقرار رکھیں گے، اپنے وطن کا دفاع کریں گے اور ایک روشن، پُرامن اور باوقار مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہاکہ لائن اف کنٹرول کے قریب بسنے والے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر مشکل گھڑی میں افواجِ پاکستان شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات