دو برس میں 55 فیصد نان اسینشل ادویات مہنگی، ڈریپ سروے مکمل، رپورٹ آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کی جائے گی

جمعہ 15 مئی 2026 14:55

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) ملک میں نان اسینشل ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان(ڈریپ)نے دوسرا جامع سروے مکمل کرلیا، جس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران 55 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ 42 فیصد ادویات کی قیمتوں میں کسی حد تک کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔سروے رپورٹ کے مطابق صرف 2.27 فیصد ادویات ایسی رہیں جن کی قیمتوں میں گزشتہ دو برس کے دوران کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق پہلی اور دوسری سروے رپورٹس آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت نان اسینشل ادویات کی ڈی ریگولیشن برقرار رکھنے یا ختم کرنے سے متعلق اہم فیصلہ کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کے دور میں نان اسینشل ادویات کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم کردیا گیا تھا، جس کے بعد دوا ساز کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی قیمتیں خود مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔

(جاری ہے)

اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں مختلف ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس پر وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے سروے شروع کیا گیا۔ابتدائی مرحلے میں 100 نان اسینشل برانڈز کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا تھا، جبکہ دوسرے اور زیادہ وسیع مرحلے میں ڈریپ نے 500 نان اسینشل برانڈز کی 700 سے زائد ادویات کی قیمتوں کا تفصیلی موازنہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق سروے کیلئے ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان کا انتخاب کیا گیا، جہاں 192 فارمیسیز اور میڈیکل اسٹورز سے ادویات کی قیمتوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ سروے میں مختلف کمپنیوں کی ادویات کی قیمتوں، دستیابی اور مارکیٹ رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق ایک تھرڈ پارٹی سروے بھی کرایا ہے، جس کی رپورٹ جلد وفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے تاکہ فیصلہ سازی میں مزید شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنایا جاسکے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نان اسینشل ادویات کی ڈی ریگولیشن سے بعض ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے متوسط اور کم آمدن طبقے پر مالی دبا بڑھا، تاہم دوا ساز صنعت کا مقف ہے کہ خام مال، درآمدی لاگت، ڈالر کی قدر اور پیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر تھا۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جان بچانے والی اسینشل ادویات بدستور حکومتی کنٹرول میں ہیں اور ان کی قیمتوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو بنیادی ادویات مناسب نرخوں پر دستیاب رہ سکیں۔