Live Updates

پاکستان اور ایران امن دشمن عناصر کے خلاف ’آہنی دیوار‘ بنیں گے، شہباز شریف

DW ڈی ڈبلیو بدھ 24 جون 2026 14:20

پاکستان اور ایران امن دشمن عناصر کے خلاف ’آہنی دیوار‘ بنیں گے، شہباز ..
  • امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف کارروائی روکنے کی قرارداد منظور، ٹرمپ کی طرف سے تنقید
  • پاکستان اور ایران امن دشمن عناصر کے خلاف ’آہنی دیوار‘ بنیں گے، شہباز شریف

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف کارروائی روکنے کی قرارداد منظور، ٹرمپ کی طرف سے تنقید

امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ٹرمپ نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’غلط وقت پر پیش کی گئی اور بے معنی‘ قرارداد قرار دیا۔

ریپبلکن ارکان کی اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان بھی بعض ریپبلکن اراکین کی حمایت سے اس کی منظوری دے چکا تھا۔

(جاری ہے)

یہ قرارداد اس نوعیت کی ہے، جس کے لیے صدر کے دستخط درکار نہیں ہوتے، تاہم اس کی قانونی حیثیت اور عملی اثرات کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

یہ ووٹنگ ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ پر امریکی کانگریس میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہ ان چند مواقع میں سے ایک ہے، جب کئی ریپبلکن اراکین نے صدر ٹرمپ کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔

صدر ٹرمپ نے کانگریس کی اس قرارداد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’غلط وقت پر پیش کی گئی اور بے معنی قرارداد‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران شکست کے قریب تھا، لیکن سینیٹ نے وار پاورز ایکٹ کے تحت ووٹنگ کر کے ان کے کام کو مزید مشکل بنا دیا۔’’ان سینیٹرز نے میرا کام مشکل ضرور کر دیا ہے، لیکن میں کسی نہ کسی طریقے سے اپنا مقصد حاصل کر لوں گا، کیونکہ میں ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں۔‘‘

اس قرارداد کی منظوری ایسے وقت پر سامنے آئی جب روئٹرز/اِپسوس کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 75 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس کی لاگت اور نتائج کے مقابلے میں فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔

سروے میں شامل رائے دہندگان کی اکثریت نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ ہونے والی کسی بھی جنگ بندی یا امن معاہدے کے دیرپا ہونے کے امکانات کم ہیں۔


پاکستان اور ایران امن دشمن عناصر کے خلاف ’آہنی دیوار‘ بنیں گے، شہباز شریف

اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں ایرانی وفد نے منگل کے روز صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شامل تھے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والی ہر قوت کے خلاف ’’آہنی دیوار‘‘ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے عناصر موجود ہیں، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت حاصل کردہ پیش رفت سے خوش نہیں اور امن عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا،’’امن دشمن عناصر کی کوئی کمی نہیں‘‘ جو خطے میں استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، تاہم پاکستان اور ایران ایسے تمام عزائم کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک علاقائی امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے اور کسی کو بھی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام کے لیے ’’دوستی کا ہاتھ بڑھانے‘‘ کی بات کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک ’’متحدہ محاذ‘‘ تشکیل دیں۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کا آپس میں تعاون، یکجہتی اور باہمی اعتماد ہی خطے کے امن، سلامتی اور ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

صدر پزشکیان کے دورے کی اہمیت

ایرانی صدر پزشکیان کا یہ دورہ پاکستان ایسے وقت پر عمل میں آیا، جب سوئٹزرلینڈ میں پیر کے روز ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں ممکنہ حتمی معاہدے کی تفصیلات پر کام کر رہی ہیں۔

پاکستان اور قطر اس سفارتی عمل میں کلیدی ثالثوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک مستقل امن معاہدہ طے پا جائے۔

تاہم مذاکرات کے نتائج اور اب تک طے پانے والے نکات کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آنے کے باعث بعض امور پر ابہام بھی پیدا ہوا ہے۔ اسی دوران لبنان میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے خطے میں امن کی کوششوں کو درپیش چیلنجز مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔

ایرانی میزائل پروگرام سے متعلق پزشکیان کا بیان

شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے میزائل پروگرام کا کوئی ذکر شامل نہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اگر ایران کے پاس میزائل صلاحیت نہ ہوتی، تو ہمارا ملک تباہ و برباد ہو جاتا۔‘‘

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس دفاعی مقاصد کے لیے میزائل موجود نہ ہوتے تو ’’اسرائیل اور امریکہ ایران کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو غزہ کے ساتھ کیا گیا۔‘‘

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی صورت میں مذاکرات نہیں کرے گا۔

صدر پزشکیان نے کہا، ’’ہم کسی بھی شخص یا ملک کے ساتھ، کسی بھی حالت میں، اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کبھی مذاکرات نہیں کریں گے۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات