جیل اصلاحات مشترکہ قومی ذمہ داری، مؤثر تبدیلی کے لئے صوبائی قیادت کا کردار ناگزیر ہے، چیف جسٹس پاکستان

جمعرات 2 جولائی 2026 20:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جولائی2026ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جیلیں فوجداری نظامِ انصاف کی حقیقی عکاس ہوتی ہیں اور جیل اصلاحات کے لئے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ صوبائی قیادت کا مؤثر اور مسلسل کردار ناگزیر ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے قومی عدالتی (پالیسی ساز) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے قومی جیل اصلاحاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عملی اور مربوط اصلاحات ہی جیل نظام میں پائیدار بہتری لا سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے زیر اہتمام قومی عدالتی (پالیسی ساز) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے تحت سپریم کورٹ آڈیٹوریم اسلام آباد میں قومی جیل اصلاحات کانفرنس منعقد ہوئی جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، عدلیہ، وفاقی و صوبائی حکومتوں، جیل انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسانی حقوق کے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

کانفرنس کی نمایاں خصوصیت بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت تھی جنہوں نے متفقہ طور پر قومی جیل اصلاحات کے ایجنڈے پر مکمل تعاون اور عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے جیلوں کے انتظام میں بہتری، قیدیوں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام، انسانی وقار کے تحفظ اور اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط تعاون پر زور دیا۔

کانفرنس کے دوران پاکستان کے جیل نظام کو درپیش چیلنجز، اصلاحی پروگراموں کو مؤثر بنانے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور انسانی حقوق پر مبنی جیل انتظامی نظام کے فروغ کے لئے مختلف تجاویز اور عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔کانفرنس کے اختتام پر کانفرنس اعلامیہ منظور کیا گیاجس میں پاکستان میں جیل اصلاحات کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک اور آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا گیا۔ اعلامیے میں تمام متعلقہ فریقین نے ملک بھر میں مربوط، مؤثر اور پائیدار جیل اصلاحات کے لئے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔