نیویارک ،کشمیری نژاد امریکیوں کی وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات،آزاد کشمیر میں مذاکرات، مفاہمت اور قومی یکجہتی کی اپیل

منگل 14 جولائی 2026 13:06

نیویارک ،کشمیری نژاد امریکیوں کی وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات،آزاد ..
نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جولائی2026ء) آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے امریکی کشمیری اپنی آبائی سرزمین میں جاری حالیہ صورتحال پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ورجینیا، میری لینڈ، نیو جرسی اور نیویارک میں مقیم کشمیری نژاد امریکیوں کے ایک وفد نے حکومتِ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال سے 90 منٹ تک تفصیلی ملاقات کی۔

پروفیسر احسن اقبال اس سے قبل 2025 میں وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے تشکیل دیے گئے اس وفد کا بھی حصہ رہ چکے ہیں، جس نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت سے مذاکرات کیے تھے۔اس ملاقات کے دوران وفد نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے نام ایک یادداشت بعنوان آزاد جموں و کشمیر میں مذاکرات، مفاہمت اور قومی یکجہتی کی اپیل وفاقی وزیر احسن اقبال کے حوالے کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔وفد میں ڈاکٹر غلام نبی فائی، سردار ظریف خان، سردار سوار خان، سردار تاج خان، سردار شعیب ارشاد، آفتاب شاہ، امتیاز کیانی، فاروق قریشی، سردار آفتاب روشن خان، سید اسد حسین گیلانی، ظہیر قریشی، خان عبد الوحید اور سردار ساجد سوار شامل تھے۔یادداشت میں کہا گیاکہ ہم، امریکہ میں مقیم کشمیری برادری کے نمائندے، آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ پیش رفت پر انتہائی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

موجودہ صورتحال کی سنگینی نے ہمیں اس امر پر مجبور کیا کہ ہم وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال سے ملاقات کریں تاکہ موجودہ بحران کے پرامن اور دیرپا حل کے حوالے سے اپنا نقط نظر پیش کر سکیں۔یادداشت میں مزید کہا گیاکہ سب سے پہلے ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے ان افسوسناک واقعات میں اپنے پیاروں کو کھویا۔

ہم عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتے، کیونکہ وہ سب جموں و کشمیر کی اسی سرزمین کے بیٹے اور بیٹیاں تھے۔ ہر قیمتی جان کا ضیاع ہم سب کا مشترکہ نقصان ہے۔ ہم تمام زخمیوں کے ساتھ بھی اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہر زخمی کو اعلی ترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

یادداشت میں حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک بنیادی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے بجلی، آٹے اور دیگر بنیادی ضروریات پر سبسڈی فراہم کی گئی۔ اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں ہیلتھ کارڈ پروگرام کی بحالی کو بھی ایک خوش آئند اور عوام دوست اقدام قرار دیا گیا، جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔

یادداشت میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے مثبت اور مثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔مزید کہا گیاکہ ہم، جو امریکہ میں مقیم کشمیری تارکین وطن ہیں اور اپنی آبائی سرزمین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، حکومتِ پاکستان اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں سے مدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں۔

اس نازک مرحلے پر صبر، تدبر اور دور اندیش قیادت ہی عوام کے اعتماد کی بحالی اور مزید مشکلات سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔یادداشت میں کہا گیا کہ حالیہ احتجاج میں شریک بہت سے افراد نے اپنے حقیقی خدشات اور عوامی مسائل کے باعث احتجاج کیا۔ مشکل حالات میں جذبات اکثر عقل و تدبر پر غالب آ جاتے ہیں، اس لیے ایسے وقت میں ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور سماجی رہنماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں اور مخلصانہ و تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔

یادداشت میں اس بات پر بھی زور دیا گیاکہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان کسی بنیادی نوعیت کا کوئی اختلاف موجود نہیں۔ دونوں ایک مشترکہ تاریخ، مشترکہ اقدار اور پاکستان و جموں و کشمیر کے عوام کے تحفظ، وقار اور روشن مستقبل کے لیے یکساں عزم رکھتے ہیں۔ اگر کہیں اختلافات پیدا ہوئے ہیں تو ان کا حل تصادم میں نہیں بلکہ باہمی احترام، افہام و تفہیم اور پرامن مکالمے میں ہے۔

یادداشت میں خبردار کیا گیا کہ اگر موجودہ کشیدگی طویل ہوتی ہے یا طاقت کے غیر ضروری استعمال کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے مزید جانوں کے ضیاع اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی اہمیت کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے اور ان بے شمار قربانیوں کی قدر کو کمزور کر سکتی ہے جو کشمیری عوام نے کئی دہائیوں سے اپنے جائز حقوق کے لیے دی ہیں۔

یادداشت میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے کئی دہائیوں سے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے زندگی بھر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھی، جبکہ محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین سمیت متعدد کشمیری رہنما طویل عرصے سے قید و بند اور دیگر سختیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

یہ تمام قربانیاں کشمیری عوام کے عزم، استقامت اور آزادی کے جذبے کی روشن علامت ہیں۔یادداشت میں اس امر کا بھی اعتراف کیا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت نے مسلسل آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل اور فلاح و بہبود کے لیے آواز بلند کی ہے۔ اس اہم موقع پر یادداشت میں JAAC کی قیادت سے بھی مودبانہ اپیل کی گئی کہ وہ آئندہ بھی ذمہ دارانہ، پرامن اور تدبر پر مبنی قیادت کا مظاہرہ کرے۔

خاص طور پر ایسے وقت میں جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے متعدد ممتاز رہنما یا تو اس دنیا میں نہیں رہے یا طویل عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، آزاد کشمیر کی قیادت کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ایک مرتبہ پھر پاکستان اور عالمی برادری کے سامنے پرامن، جمہوری اور اصولی انداز میں مثر طریقے سے اجاگر کرے۔یادداشت میں مزید کہا گیاکہ ہم اس حقیقت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں کہ اگر موجودہ بے چینی اور کشیدگی طول پکڑتی ہے تو پاکستان کے مخالف عناصر کو یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے گمراہ کن پروپیگنڈا کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کا تقابل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے کریں۔

ایسا تاثر نہ تو پاکستان کے قومی مفاد میں ہوگا اور نہ ہی کشمیری عوام کے منصفانہ مقف کو تقویت دے گا۔وفد کے اراکین نے اس لیے حکومت پاکستان، ریاستی اداروں، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور تمام متعلقہ فریقوں سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ باہمی احترام، مفاہمت اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا متوازن، پرامن اور سب کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کریں جو قومی یکجہتی کو مضبوط کرے، عوام کے اعتماد کو بحال کرے اور مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی اور تاریخی موقف کو مزید تقویت دے۔

یادداشت میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی قیادت ہمیشہ کی طرح دانشمندی، دوراندیشی اور ہمدردی کے ساتھ اس نازک صورتحال سے نمٹے گی، اور ہر ممکن کوشش کرے گی کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن بحال ہو، عوام کے وقار، فلاح و بہبود اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان اعتماد اور یکجہتی مزید مضبوط ہو۔

یادداشت کے اختتام پر کہا گیاکہ ہمیں یقین ہے کہ تاریخ ہمارا فیصلہ ان اختلافات کی بنیاد پر نہیں کرے گی جو ہمیں ورثے میں ملے، بلکہ اس بنیاد پر کرے گی کہ ہم نے انہیں دانشمندی، انصاف، برداشت اور ہمدردی کے ساتھ کس طرح حل کیا۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ مذاکرات، انصاف اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام اس مشکل مرحلے سے پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور باوقار ہو کر نکل سکتے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کشمیری امریکی وفد کی جانب سے اٹھائے گئے نکات اور خدشات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان میں وسیع قومی اتفاقِ رائے موجود ہے، اور پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست پاکستان کے تمام ادارے سفارتی، سیاسی اور آئینی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت اپنی سفارشات اور مشاہدات کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کی جائے گی۔پروفیسر احسن اقبال نے شرکا کو یاد دلایا کہ وہ اس سرکاری وفد کا حصہ رہ چکے ہیں جس نے 2025 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مذاکرات کیے تھے۔ 12 مہاجرین نشستوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو تصادم کے بجائے افہام و تفہیم اور آئینی طریق کار کے تحت حل کرنے کی خواہاں ہے۔

اس مقصد کے لیے درج ذیل تجاویز زیر غور لائی گئی تھیں۔1چونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے، اس لیے اس کا حل آزاد جموں و کشمیر کی منتخب قانون ساز اسمبلی کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔2. جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس معاملے کو آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ میں لے جائے، اور تمام متعلقہ فریق عدالت کے فیصلے کو تسلیم کریں۔3جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرے تاکہ تمام سیاسی و سماجی قوتیں باہمی مشاورت سے قابلِ قبول حل تجویز کر سکیں۔

4جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دو سینئر ماہرین قانون نامزد کرے، آزاد جموں و کشمیر کے دو ممتاز قانونی ماہرین شامل کیے جائیں، جبکہ حکومت پاکستان بھی اپنے دو نمائندے مقرر کرے تاکہ یہ مشترکہ فورم معاملے کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے۔وفاقی وزیر نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان 12 مہاجرین نشستوں سمیت تمام زیر التوا معاملات کو تصادم کے بجائے مذاکرات، مشاورت اور آئینی طریق کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ تمام تجاویز آج بھی قابلِ عمل ہیں اور تعمیری پیش رفت کے لیے ان پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالی ہمیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے لیے امن، انصاف، ہمدردی، استحکام اور خوشحالی کا ذریعہ بنیں۔ آمین