کپاس کی پیداوار میں 77 فیصد اضافہ، مگر ٹیکسٹائل صنعت شدید بحران سے دوچار

سندھ کے ضلع سانگھڑ کی بدستور ملک کے سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ضلع کی حیثیت برقرار ،دو لاکھ 80 ہزار سے زائد گانٹھیں رپورٹ

اتوار 26 جولائی 2026 16:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جولائی2026ء) پاکستان میں رواں کپاس سیزن کے آغاز پر پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 77.30 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمی حالات، پانی کی قلت، مہنگی توانائی، بھاری ٹیکسوں، خام مال کی محدود رسد اور درآمدی ٹیکسٹائل مصنوعات کے بڑھتے دباؤ کے باعث ملکی ٹیکسٹائل صنعت شدید بحران سے دوچار ہے۔

صنعتکاروں نے کہا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی ای) کی 18 جولائی 2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 15 جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی مجموعی آمد 5 لاکھ 27 ہزار 900 گانٹھیں ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 2 لاکھ 97 ہزار 751 گانٹھیں تھی۔

(جاری ہے)

اس طرح رواں سیزن میں 2 لاکھ 30 ہزار 149 گانٹھوں یعنی 77.30 فیصد اضافہ سامنے آیا۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کپاس کی آمد 2 لاکھ ایک ہزار 497 گانٹھیں رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 38.87 فیصد زیادہ ہے، جبکہ سندھ میں کپاس کی آمد 3 لاکھ 26 ہزار 403 گانٹھوں تک پہنچ گئی، جہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں 113.82 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بلوچستان میں بھی کپاس کی آمد 90.20 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ہزار 700 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔

سندھ کے ضلع سانگھڑ نے بدستور ملک کے سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ضلع کی حیثیت برقرار رکھی، جہاں دو لاکھ 80 ہزار سے زائد گانٹھیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ حیدرآباد، میرپورخاص، جامشورو اور نواب شاہ میں بھی کپاس کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔اگرچہ ابتدائی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فصل اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

معروف کاٹن بروکر عامر نسیم، جنہوں نے حالیہ دنوں میں شہدادپور، سانگھڑ، ٹنڈو آدم اور میرپورخاص کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کا دورہ کیا، کا کہنا ہے کہ سندھ میں کپاس کی فصل کو فوری بارش اور آبپاشی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پانی کی کمی، تیز ہواؤں اور گرمی کے باعث پھول جھڑ رہے ہیں، جس سے پھٹی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور جننگ فیکٹریاں خام مال کی قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں جننگ فیکٹریوں میں دو سے تین روز میں بمشکل ایک لاٹ تیار ہو رہی ہے، جبکہ ٹیکسٹائل ملوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث روئی کی قیمتوں میں تیزی برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی کے باعث روئی کا اسٹیپل اور مائیکرونیئر بھی معمول سے کم ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ ملیں مجبوری کے تحت بلند نرخوں پر خریداری کر رہی ہیں۔

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے تیزی کا رجحان غالب رہا۔ سندھ میں پھٹی کی محدود رسد کے باعث روئی کے نرخ فی من 500 سے 800 روپے تک بڑھ گئے، جبکہ پنجاب میں بھی بارشوں کے باعث رسد متاثر ہونے سے قیمتوں میں 600 سے 800 روپے فی من اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ میں پھٹی کا ریٹ 8 ہزار 500 سے 9 ہزار 300 روپے فی 40 کلو جبکہ پنجاب میں 9 ہزار سے 9 ہزار 800 روپے تک پہنچ گیا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے بھی روئی کا اسپاٹ ریٹ 500 روپے اضافے کے بعد 18 ہزار 300 روپے فی من مقرر کیا۔ مارکیٹ میں سندھ کی روئی 18 ہزار 200 سے 18 ہزار 500 روپے جبکہ پنجاب کی روئی 18 ہزار 800 سے 19 ہزار روپے فی من کے درمیان فروخت ہوتی رہی۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کے مطابق عالمی منڈی میں بھی کپاس کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

نیویارک کاٹن کے سودوں کا ریٹ 77 سے 89 امریکی سینٹ فی پاؤنڈ کے درمیان رہا۔ امریکی محکمہ زراعت (USDA) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2025-26 کے سیزن میں کپاس خریدنے والے بڑے ممالک میں شامل رہا، جبکہ 2026-27 کے لیے بھی پاکستان نمایاں خریداروں میں شامل ہے۔دوسری جانب پی سی جی اے کے اعداد و شمار کے مطابق 15 جولائی تک 4 لاکھ 66 ہزار 925 گانٹھوں کی جننگ مکمل ہو چکی تھی، جبکہ 4 لاکھ 45 ہزار 779 گانٹھیں فروخت کی جا چکی ہیں۔

اس کے باوجود 82 ہزار 121 گانٹھوں کا غیر فروخت شدہ ذخیرہ موجود ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ کپاس کی آمد میں اضافے کے باوجود ٹیکسٹائل صنعت کی خریداری کی رفتار توقعات سے کم ہے۔صنعتی حلقوں نے کہا کہ ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین ساجد محمود نے کہا کہ بجلی، گیس اور دیگر توانائی ذرائع کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، بھاری ٹیکسوں اور بلند شرح سود نے ٹیکسٹائل ملوں کی پیداواری لاگت ناقابل برداشت بنا دی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ملیں، پاور لومز اور سائزنگ یونٹس بند ہو رہے ہیں اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار ہونے والا کپڑا مہنگا ہونے کے باعث مارکیٹ میں چین اور بنگلہ دیش سے درآمد ہونے والا نسبتاً سستا کپڑا مقامی صنعت کے لیے سخت چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف صنعتکاروں بلکہ لاکھوں مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے معاشی مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

کونسل نے توانائی کی قیمتوں میں کمی، ٹیکس اصلاحات، برآمدی مراعات اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے فوری پالیسی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں جمود ختم کیا جا سکے۔ادھر کراچی کی تاریخی کاٹن ایکسچینج عمارت، جو ایک صدی سے زائد عرصے تک ملکی کپاس تجارت کا مرکز رہی، تاحال بند ہے۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کو عارضی ریلیف دیتے ہوئے عمارت میں کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دے چکی ہے، تاہم ایسوسی ایشن کے مطابق انہیں اب تک عمارت کا عملی قبضہ نہیں دیا گیا، جس کے باعث کپاس کی روایتی تجارتی سرگرمیاں مختلف مقامات پر منتقل ہو چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آئندہ چند ہفتوں میں موسمی حالات بہتر رہے، بارشیں ہوئیں، کھاد کی بروقت دستیابی یقینی بنائی گئی اور صنعت کو توانائی و مالیاتی ریلیف فراہم کیا گیا تو کپاس کی موجودہ بہتر پیداوار ملکی معیشت، برآمدات اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر موجودہ مسائل برقرار رہے تو ابتدائی طور پر نظر آنے والا پیداواری اضافہ بھی مطلوبہ معاشی نتائج دینے میں ناکام رہ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صنعت بلکہ قومی معیشت اور روزگار پر بھی مرتب ہوں گے۔