اللہ کا شکر ہےجس نے مسلم لیگ ن کومیرپورڈویژن میں پہلے مرحلے میں شاندار کامیابی دی، مسلم لیگ ن کی قیادت ،آزاد کشمیر، میرپور و کوٹلی کے عوام کو جیت پر مبارکباد دیتی ہوں ، مریم نواز

بدھ 29 جولائی 2026 00:02

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جولائی2026ء) وزیر اعلی مریم نواز نے کہا ہے کہ اللہ کا عاجزی کے ساتھ شکر کہ مسلم لیگ ن کو میرپور ڈویژن میں پہلے مرحلے میں شاندار کامیابی عطا فرمائی ،آزاد کشمیر اور میرپور و کوٹلی کے عوام کو بہترین فیصلہ کرنے پر مبارکباد دیتی ہوں،میرپور کے لوگوں نے اپنے بچوں کے بہترین مستقبل اور ترقی پر مہر لگائی۔

یہ باتیں انہوں نے آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے شیر پر مہر نہیں لگائی اپنی کامیابی اور آزاد کشمیر کی ترقی پر مہر لگائی ہے ،میں سمجھتی ہوں کہ پہلا مرحلہ کامیابی سے جیتا جس کا اثر پورے آزاد کشمیر پر ہوگا،امید ہے آزاد کشمیر کے طول و عرض کے عوام کامیابی اور ترقی کا یہی فیصلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قائد نواز شریف اور محمد شہباز شریف کو مبارکباد دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ ن کو سنا اور سمجھا،نواز شریف نے جو وعدے کیے لوگوں نے اس پر لبیک کہا،آزاد کشمیر کے عوام جانتے ہیں کہ نواز شریف جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی پر شہباز شریف کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ،ان کی محنت کو سراہا گیا،پوری پاکستان مسلم لیگ ن کو بہت مبارکباد جنہوں نے بہت اچھی انتخابی مہم چلائی۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کوبہت محنت سے پورا مہینہ شاندار اور کامیاب مہم چلانے پر مبارکباد دیتی ہوں۔ مریم نواز نے کہا کہ الحمدللہ ہمیں 13 میں سے 9 اہم نشستیں حاصل ہوئیں،انشا اللہ آزاد کشمیر میں باقی نشستوں پر بھی مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فراخدلی اور جمہوریت کی روح کے مطابق پیپلز پارٹی نتائج قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کہ بلاول بھٹو کی جانب سے غلط زبان استعمال کی گئی، بیانات اور غصہ نکالا گیا،عوام کے لیے حقائق جاننا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کو سمجھانا چاہتی ہوں کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں عوام کرتی ہے ،گلگت بلتستان میں عوام نے آپ کے حق میں فیصلہ کیا تو مسلم لیگ نے دل سے قبول کیا۔گلگت الیکشن پر ہم نے خوش ہو کر کامیابی کو تسلیم کیا،وزیراعظم نے مبارکباد دی اور سپورٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت کا الیکشن جیت گئے تو دھاندلی کا الزام نہیں لگایا، میرپور کا ہار گئے تو الزام لگارہے ہیں،دنیا نے پیپلز پارٹی کے جلسوں اور مسلم لیگ ن کے جلسوں میں واضح فرق دیکھا،پیپلز پارٹی کے جلسے خالی تھے، عوام ان کے جلسوں میں آئی ہی نہیں ،جلسے کامیابی کا مظاہرہ نہیں ہوتے مگر آپ کو بیانیے اور پرفارمنس پر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کوئی بیانیہ تھا نہ پرفارمنس تھی اور نہ ہی آزاد کشمیر کے عوام کے لیے کوئی پروگرام تھا۔

پیپلز پارٹی کے پاس آزاد کشمیر کے لیے ریفارم ایجنڈا تھا نہ ہی گورننس کا ریکارڈ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں مسلسل 17 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ایسا تسلسل کسی کو نہیں ملا۔17 سال کے باوجود سندھ کا پروجیکٹ بتانے کا مواد نہیں تھا، عوام کو پرفارمنس اور روڈ میپ نہ دے سکے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام کی سمجھ ہے نہ ان کی ضرورت کی،سندھ کے عوام سہولیات مانگ رہے ہیں،وہاں جہاں بھی گئی ایک ہی آواز سنی کہ ہمیں وہ سہولیات چاہئیں جو پنجاب میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی سہولیات بلا وجہ نہیں آ گئیں، دن رات سخت محنت کا نتیجہ ہیں۔سیاسی بیان بازی سے بات نہیں بنتی، آج کی عوام پرفارمنس دیکھتی ہے، یہ اے آئی کا دور ہے نوجوان بہت با شعور ہیں ،ووٹ لینا ہے تو رو دھو نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ بلاول نے بڑے اور سینئر قائدین پر الزامات لگائے،اگر کارکردگی ہے بتانے کے لیے ایجنڈا ہے اور منشور ہے تو پھر تنقید کا وقت نہیں ہوتا۔

17 سال کی مسلسل حکومت کے باوجود سندھ میں دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، ووٹر کو سمجھ آ گئی تھی-ووٹر نے گرین بس، اپنی چھت اپنا گھر، اپنا کھیت اور اپنا روزگار کو ووٹ دیا،لوگوں نے کسان کارڈ، پکی سڑکوں، ترقی اور امن و امان کو ووٹ دیا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ الیکشن کی تقریروں میں بلاول نے وفاقی حکومت پر تنقید کی لیکن بھول گئے کہ آزاد کشمیر میں پچھلے ایک سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں ہی آزاد کشمیر کے حالات خراب ہوئے ،وفاق پر الزام لگا رہے تھے جبکہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ن لیگ کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا رونا دھونا افسوسناک ہے ،ویڈیوز دیکھیں تو دھاندلی کے ثبوت پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے گھروں سے ملے، سوشل میڈیا پر عوام کے سامنے ووٹوں کے بیگز والی ویڈیوز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے خلاف ایک ایسی دھاندلی کا ثبوت پیش کریں عوام کے ووٹ اور فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ میری بلاول سے درخواست ہے کہ اپنی توجہ سندھ کو بہتر بنانے پر مرکوز کریں،سندھ سے جو بھی پنجاب آتا ہے ایک ہی بات کرتا ہے کہ ہمیں پنجاب جیسا سندھ اور لاہور جیسا کراچی چاہیے۔تھوڑی سی محنت اور فوکس سے سندھ میں بہت ترقی ہو سکتی ہے، اپنی کارکردگی اور صوبے پر غور کریں اور سوچیں کہ آزاد کشمیر نے آپ کی بات کیوں نہیں سنی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ سے نکلنے والی آوازیں سنیں، سڑکوں، ہسپتالوں اور امن و امان کو ٹھیک کریں،میں نے کہا تھا کہ جن کے اپنے صوبوں کی سڑکیں ٹوٹی ہیں وہ آزاد کشمیر کو کیا اچھی سڑکیں دیں گے، خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے، اس سے بہتر راستہ نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی سندھ سے آتا ہے پنجاب کا سی ایم مانگتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ چہرہ پسند ہے بلکہ پرفارمنس پسند ہے، سندھ کے عوام ترقی اور بنیادی سہولیات مانگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو پنجاب جیسا بنائیں گے مگر آپ 17 سال کے باوجود نہیں کہہ سکے کہ ہم آزاد کشمیر کو سندھ بنائیں گے، کراچی کے برے حالات ہیں یہ بات دنیا جانتی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ آزاد کشمیر میں الیکشن پر نگران حکومت نہیں ہوتی ،پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت، اپنے لوگوں اور اپنے وزیراعظم کے ساتھ الیکشن لڑا اور ہارے ،آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں تھی سوچ کر بات کریں، اپنی حکومت پر ہی دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اچھی چیز کا کریڈٹ خود لیتے ہیں اور اپنی ہی حکومت کی ناکامی وفاق پر ڈالتے ہیں۔حکومت کرتے ہوئے اور الیکشن کے بعد بھی روئیں گے تو لوگ رونے پر ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ لوگ ترقی چاہتے ہیں، پراجیکٹس اور نسلوں کی بہتری چاہتے ہیں، رونے والوں کو نہیں کارکردگی کو ووٹ دیتے ہیں،پیپلز پارٹی سے اپیل ہے سندھ کی پرفارمنس بہتر کریں تاکہ سندھ میں کام دیکھ کر ووٹ ملے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کوصحت، تعلیم، الیکٹرک بائیکس اور پنجاب جیسے مختلف کارڈز اور وظائف چاہئیں۔آزاد کشمیر کے عوام سے وعدہ ہے کہ مسلم لیگ ن کامیابی کے بعد ایک دن ضائع کیے بغیر خدمت میں حاضر ہوگی جو پنجاب میں ریفارمز ہوئیں آزاد کشمیر میں بھی وہی کام ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی ضروریات اور سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچائیں گے۔میرپور کی طرح باقی لوگ بھی 2 اور 10 اگست کو مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں ۔