سندھ اسمبلی: اٹھارہویں ترمیم کے خلاف بیانات پر شرجیل میمن کا وفاقی وزراء کو جواب

پیر 7 ستمبر 2026 17:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2026ء) سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو مختصر کارروائی کے بعد منگل کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا ، وقفہ سوالات کے دوران کوئی سوال نہیں دریافت کیا گیا ، اپوزیشن کے رکن کی جانب سے ایچ آئی وی سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی ، اجلاس کے دوران اسٹریٹ لائٹس کے سلسلے میں اٹھارویں آئینی ترمیم کا بھی ذکر ہوا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر نے ارکان کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممبران سوال پوچھتے ہیں لیکن خود ایوان میں موجود نہیں ہوتے۔ آج ایوان میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے متعلق وقفہ سوالات تھا۔ اسپیکر نے کہا کہ انہوں وزیر صاحب تیاری کرکے آئے ہیں لیکن ممبران غیر حاضر ہیں۔

(جاری ہے)

وقفہ سوالات کے دوران کسی بھی رکن نے ضمنی سوال نہیں کیا جس کے بعد وقفہ سوالات ختم کر دیا گیا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی عامر صدیقی نے صوبے میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاو پر اپنی قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سندھ حکومت ایچ آئی وی ایڈز کے معاملے پر کمیشن قائم کیا جائے۔ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ جو مطالبہ کیا گیا ہے اس پر پہلے ہی کام ہو چکا ہے اور انڈوومنٹ فنڈ بھی قائم ہوگیا ہے۔

انہوں نے قرارداد واپس لینے کا کہا۔ بحث کے بعد ایوان نے ایچ آئی وی ایڈز سے متعلق قرارداد مسترد کر دی۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کی رکن قراة العین نے قرارداد پیش کی کہ تمام ہائی ویز پر اسٹریٹ لائٹس لگائی جائیں۔ اس پر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ملک کی تمام ہائی ویز وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے ممبرہ صاحبہ سے کہا کہ وہ اپنے پارٹی ممبران سیکہیں کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں آواز اٹھائیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور مصطفی کمال پر اٹھارویں ترمیم کے خلاف بیانات دینے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا جناح اسپتال پہلے وفاق کے پاس تھا، آج جناح اسپتال اور آئی سی وی ڈی میں پورے ملک سے لوگ علاج کروا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اٹھارویں ترمیم کے مرہون منت ہے۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفاقی وزراء فارم 47 کی پیداوار ہیں اور یہ حقیقی عوامی نمائندے نہیں ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج وفاقی حکومت کے بعض وزرائ اسی ترمیم کے خلاف بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کو پہلے اس ترمیم کے فوائد اور اس کے نتیجے میں صوبوں کی کارکردگی کو دیکھنا چاہیے۔ توانائی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آج تھر سے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ بجلی صرف سندھ یا کسی ایک شہر کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ہے اور نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے۔ سندھ کے وسائل سے پیدا ہونے والی یہ توانائی پورے ملک کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سندھ نے اٹھارہویں ترمیم کے بعد نمایاں پیش رفت کی ہے۔ سکھر جیسے شہروں میں یونیورسٹیز اور جدید طبی سہولیات قائم ہوئی ہیں۔ سینئر وزیر نے گزشتہ چند دنوں میں وفاقی وزراء کے صوبوں اور اٹھارہویں ترمیم سے متعلق بیانات کو "انتہائی افسوسناک" قرار دیا۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال، احسن اقبال، خواجہ آصف سمیت دیگر وفاقی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اٹھارہویں ترمیم یا صوبوں کے اختیارات پر کوئی اعتراض ہے تو پارلیمنٹ میں آکر بات کریں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ہمارے نمائندے موجود ہیں، جو آپ کی ہر بات کا آئینی، قانونی اور اعداد و شمار کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ میڈیا کے سامنے یا عوامی اجتماعات میں بیٹھ کر بیانات دے سکتے ہیں، لیکن اگر واقعی دلیل اور مؤقف ہے تو اسمبلی میں آکر بات کریں۔انہوں نے وفاقی وزراء سے کہا کہ پہلے عوام کے درمیان جائیں، عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہو کر آئیں، پھر قوم کے فیصلوں پر بات کریں۔

خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے ہوئے لوگ قوم کے فیصلے نہیں کر سکتے۔ کارروائی کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے توجہ دلائی کہ ساڑھے چار ماہ سے کچھ پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ انہیں فوری رہا کرایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج اس معاملے پراحتجاج کرنے والوں کو پولیس نے اٹھالیا ہے۔

اجلاس کے دوران اسپیکر اویس قادر شاہ نے سندھ میں بجلی کے بحران اور لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے اس معاملے پر بات کی جائے اور خط لکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صرف سندھ کے خلاف بات کرتی ہے۔ اسپیکر نے ہدایت دی کہ متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں پاور کمپنیوں کے سربراہوں کو طلب کیا جائے۔ بعد میں اجلاس منگل کی دوپہر تک ملتوی کر دیا گیا۔