Live Updates

قطرسے ایل این جی فراہمی میں تعطل، صنعتی پہیہ رکنے کا خدشہ

گیس بحران سے بچنے کیلئے راشننگ اور اسپاٹ کارگوز خریدے جائیں، برآمدی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس دی جائے، میاں زاہد حسین

بدھ 30 ستمبر 2026 17:58

قطرسے ایل این جی فراہمی میں تعطل، صنعتی پہیہ رکنے کا خدشہ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے قطر کی جانب سے فورس میجر کے تحت پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی 5 نومبر تک معطل ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس سپلائی میں تعطل سے صنعتی پیداوار متاثر ہونے اور سردیوں میں گیس بحران سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی سپلائی کرتا ہے، جبکہ پاکستان سالانہ تقریباً 0.22 ٹریلین مکعب فٹ ایل این جی درآمد کرتا ہے، جس کیلئے سالانہ 110 سے 120 کارگوز درکار ہوتے ہیں۔ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران ایران، امریکا جنگ کے باعث پاکستان کو صرف 17 ایل این جی کارگوز مل سکے، جبکہ آخری شپمنٹ 22 ستمبر کو قطر سے پہنچی۔

(جاری ہے)

اس صورتحال کے باعث ملک کو یومیہ 400 ملین مکعب فٹ ایل این جی کی کمی کا سامنا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ سردیوں میں بجلی پیدا کرنے، مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل اور برآمدی صنعتوں کی گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے، اس لیے موجودہ قلت صنعتی سرگرمیوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ گیس کی بلا تعطل فراہمی متاثر ہونے سے فیکٹریوں کو پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے، جبکہ برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر اور شپمنٹس متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ گیس بحران سے بچنے کیلئے راشننگ کا مؤثر نظام اپنایا جائے اور عالمی منڈی سے فوری طور پر ایل این جی کے اسپاٹ کارگوز خریدے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس کی خریداری سے عارضی طور پر کاروباری لاگت بڑھ سکتی ہے، تاہم صنعتی سرگرمیوں میں تعطل اور برآمدات کو پہنچنے والے نقصان سے بچنا زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دستیاب ملکی گیس اور درآمدی ایل این جی کو معاشی ترجیحات کے مطابق استعمال کرے اور برآمدی صنعتوں کو گیس کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی یقینی بنائے تاکہ صنعتی پہیہ چلتا رہے اور ملکی برآمدات متاثر نہ ہوں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کیلئے اقدامات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری خوش آئند ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں صنعتی پہیہ بھرپور طریقے سے چلانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کاروباری برادری کو امید ہے کہ حکومت متبادل ایل این جی سپلائی کا فوری انتظام کرے گی اور توانائی کے بحران میں مینوفیکچرنگ شعبے کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات