مذاکرات کی پیشکش موجود، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنا ہو گا، رانا ثناء اللہ

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ ہیں،مشیروزیراعظم

منگل 6 اکتوبر 2026 22:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اکتوبر2026ء) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش موجود ہے، لانگ مارچ ختم کریں تو بات ہوسکتی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، تمام اداروں اور صوبائی حکومتوں کو غیر مشروط طور پر اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، تحریک انصاف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر مشروط طور پر پاکستان اور وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تحریک انصاف سے کبھی یہ نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جائے گی، حکومت نے پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پر کھڑی ہو، حکومت اور پاکستان کا ساتھ دے، جبکہ عمران خان سے ملاقات، علاج معالجے اور ذاتی ڈاکٹر سے متعلق معاملات حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہاکہ مذاکرات آگے نہ بڑھنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کی بنائی گئی پالیسی سے اتفاق نہیں کیا اور اس پر عملدرآمد کی مخالفت کی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش اب بھی موجود ہے، تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کرے تو بات چیت ہوسکتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ ایک ماہ بھی جاری رکھے تو خود تھک جائے گی،جبکہ موجودہ تعداد اسلام آباد آنے کی پوزیشن میں نہیں، اگر تحریک انصاف استعفے دینا چاہتی ہے تو یہ بھی پہلے کرچکی ہے، دو اسمبلیاں توڑنے کا تجربہ بھی کرچکی ہے اور دوبارہ ایسا کرکے دیکھ سکتی ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور حکومت کے ان سے رابطے بھی موجود ہیں۔