مہاجرین فیس بک کا شکار بھی بن سکتے ہیں،انتہائی محتاط رہیں،انتباہ جاری

فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر متعدد ویب سائٹس مہاجرین کی زندگی میں پریشان کن کردار ادا کر رہی ہیں،ماہرین

اتوار اپریل 12:20

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء)سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جہاں دنیا بھر کے لوگوں کے مابین فوری رابطے کا سبب ہیں، وہیں مہاجرین کے بحران میں بھی سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم فیس بک مہاجرین کی مدد کے بجائے انہیں نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔جرمن ریڈیو کے مطابق اسمارٹ فون کی ٹیکنالوجی نے مہاجرین اور تارکین وطن افراد کو درپیش کئی مشکلات کا حل نکالا ہے۔

پرخطر راستوں کو آسان بنانا ہو یا معلومات حاصل کرنا ہوں، اسمارٹ فون نے اس تناظر میں مدد فراہم کی ہے۔اسمارٹ فونز کی متعدد ایپلیکیشنز، جیسی کہ جی پی ایس درست لوکیشن اور سفر کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ واٹس ایپ، فیس بک اور ایسی دیگر ایپس اپنے عزیزوں سے رابطے میں رہنے کے لیے۔

(جاری ہے)

یوں مہاجرین کے بحران میں اسمارٹ فون مہاجرین اور تارکین وطن افراد کے لیے ایک انتہائی قیمتی شے قرار دی جا رہی ہے۔

فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر متعدد ویب سائٹس مہاجرین کی زندگی میں ایک اور پریشان کن کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے میڈیا اینڈ کمیونیکشن ڈائریکٹر لیونارڈ ڈوئل کے مطابق کئی نام نہاد پرائیویٹ چینلز تشدد اور ظلم وستم کے واقعات کی لائیو اسٹریم بھی کرتے ہیں تاکہ ان کے گھر والوں اور رشتہ داروں سے رقوم بٹوری جا سکیں۔

اس طرح کے کئی واقعات رپورٹ کیے جا چکے ہیں، جن میں انسانوں کے اسمگلر پہلے غیر قانونی سفر کی خاطر رقوم لیتے ہیں اور بعد ازاں انہی مہاجرین کو اپنی قید میں رکھ کر ان افراد کے گھر والوں سے اضافی رقوم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیونارڈ ڈوئل کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مہاجرین اور تارکین وطن ان تلخ حقائق سے بے خبر ہیں اور وہ فیس بک یا سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس کے ذریعے ان اسمگلروں سے رابطے کرتے ہیں۔اس تناظر میں لیونارڈ ڈوئل نے کہا کہ حکومتوں کو ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دینا چاہیے کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر شائع کردہ تمام تر مواد کی ذمہ داری لیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments