شریف خاندان کا بہت پردہ رکھا ،اگر دو تین کہانیاں بتا دوں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، میں نے زندگی کے 34سال ایک شخص کے ساتھ سگے بھائی سے بھی زیاد ہ وفاداری دی لیکن اس نے میری وفاداری کا احساس نہیں کیا،وقت آنے پر اس شخص نے مجھے دھوکا دیا،چوہدری نثار

نواز شریف کو فوج نے نہیں نکالا، فوج کے ساتھ لڑنے سے منع کیا تھا، جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو تو حسین کے انکار کی طرح ڈٹ جائو ،عوام 25جولائی کو ثابت کریں کہ تین بے وفا لوگ میری عزت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ،گدھے کو تخت نشین کر دو تو وہ گدھا ہی رہتا ہے، اگر کسی چور کو جج بنا دو تو وہ چور ہی رہے گا،میرا مخالف پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بڑے دعوے کر رہا ہے، اگر مردکا بچہ ہے تو پی ٹی آئی کا ٹکٹ چھوڑ کرسامنے آئے ، عوام ٹکٹوں والوں کو ایک ہی ٹرین میں بٹھائیں گے،میں نے الیکشن ہارنے کے باوجود اربوں روپے کا ہسپتال واہ میں کھڑا کر دیا، ترقی زبان درازی کا نہیں دل گردے کا کام ہے،میرے مخالفیں نے خود کو مشرف، بے نظیرکے سامنے بیچا، آج عمران خان کے سامنے لیٹے ہیں،سن لو میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج نہیں ہوں، تمام زندگی ٹکٹ کے لئے درخواست نہیں دی سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا ٹیکسلا میں انتخابی جلسے سے خطاب

منگل جون 23:17

ٹیکسلا (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میں نے زندگی کے 34سال ایک شخص کو وفاداری دی،اتنی وفاداری دی کہ ایک سگا بھائی بھی نہیں دے سکتا،میں نے صرف اس شخص کی شکل دیکھ کر اس کا ساتھ دیا،اس شخص نے میری 34سال کی وفاداری کا احساس نہیں کیا،وقت آنے پر اس شخص نے مجھے دھوکا دیا،جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو تو حسین کے انکار کی طرح ڈٹ جائو ، عوام 25جولائی کو ثابت کریں کہ تین بے وفا لوگ میری عزت کو نقصان نہ پہنچا سکے،میں نے نواز شریف اور اس کے خاندان کا بہت پردہ رکھا،اب بھی پردہ رکھنا چاہتا ہوں،میں نے پورے ایک سال پردہ رکھا،میں ایک سال تک وزارت سے الگ ہو کر بیٹھ گیا،میں نے کہا تھا کہ عدلیہ سے لڑائی مت لڑو،میں نے کہا تھا کہ فوج کے خلاف بات مت کرو،میں نے کہا تھا کہ فوج نے تمہیں نہیں نکالا،اگر دو تین کہانیاں بتا دوں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے،پچیس تاریخ کو عوام ٹکٹوں والوں کو ایک ہی ٹرین میں بٹھائیں گے ،ٹیکسلا والو سر اونچا کر کے میرے لئے ووٹ مانگو ،گدھے کو تخت نشین کر دو تو وہ پھر بھی گدھا ہی رہتا ہی ، اگر کسی چور کو جج بنا دو تو وہ چور ہی رہے گا،میرا مخالف پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بڑے دعوے کر رہا ہے،اگر مردکا بچہ ہے تو پی ٹی آئی کا ٹکٹ چھوڑ کرسامنے آئے، ،میں الیکشن ہار گیا لیکن اربوں کا اسپتال واہ میں کھڑا کر دیا،علاقے میں ایسی جگہ نہیں ملے گی جہاں میری کارکردگی کا نشان نہ ہو،علاقے میں ترقی کرانا زبان درازی کا نہیں دل گردے کا کام ہے۔

(جاری ہے)

وہ منگل کو یہاں حلقہ این اے 63 میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ٹیکسلا کی عوام نے میرا دل خوش کر دیا،میں زندگی کے 34سال ایک شخص کو وفاداری دی،اتنی وفاداری دی کہ ایک سگا بھائی بھی نہیں دے سکتا،میں نے صرف اس شخص کی شکل دیکھ کر اس کا ساتھ دیا،اس شخص نے میری 34سال کی وفاداری کا احساس نہیں کیا،وقت آنے پر اس شخص نے مجھے دھوکا دیا۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ میں1981 میں ٹیکسلا میں نیا تھا ، تین شخصیات نے مجھے اس علاقے میں متعارف کرایا، قاری سعید الرحمان ، مولانا عبداللہ، مولانا سعیدی نے مجھے اس علاقے میں متعارف کرایا، میں نے 34 سال اس علاقے کو اپنی وفاداری دی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ایسی جگہ نہیں ملے گی جہاں میری کارکردگی کا نشان نہ ہو،میں نے اس علاقے میں سکول بنائے،میں الیکشن ہار گیا لیکن اربوں کا اسپتال واہ میں کھڑا کر دیا،علاقے میں ترقی کرانا زبان درازی کا نہیں دل گردے کا کام ہے،میں نے اپنے آپ کو بیچا نہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میرے مخالفین نے خود کو مشرف، بے نظر کے سامنے بیچا آج عمران خان کے سامنے لیٹے ہیں،میرا مخالف کام نہیں کرتا مگر آستینیں چڑھا کر ووٹ مانگنے آ جاتا ہے،میرا مخالف پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بڑے دعوے کر رہا ہے،میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر مرد کے بچے ہو تو پی ٹی آئی کا ٹکٹ چھوڑ کر میرے سامنے آئو۔اگر دو تین کہانیاں بتا دوں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، اگر میں چاہتا تو اپنے مخالف سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ چھین سکتا تھا،چوہدری نثار نے کہاکہ سن لو میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج نہیں ہوں،ٹیکسلا والو پچیس تاریخ کو ثابت کرو کہ تین بے وفا لوگ میری عزت کو نقصان نہ پہنچا سکے،میں نے نواز شریف اور اس کے خاندان کا بہت پردہ رکھا،اب بھی پردہ رکھنا چاہتا ہوں،میں نے پورے ایک سال پردہ رکھا،میں ایک سال تک وزارت سے الگ ہو کر بیٹھ گیا،میں نے کہا تھا کہ عدلیہ سے لڑائی مت لڑو،میں نے کہا تھا کہ فوج کے خلاف بات مت کرو،میں نے کہا تھا کہ فوج نے تمہیں نہیں نکالا،اگر دو تین کہانیاں بتا دوں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 1985 میں جب میں آیا تو شیخ کریم کے علاوہ یہاں کوئی ن لیگی نہیں تھا،ٹیکسلا میں ایک ایک اینٹ میں نے لگائی،اگر میں چاہتا تو اپنے مخالف سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ چھین سکتا تھا،میں نے تمام زندگی ٹکٹ کے لئے درخواست نہیں دی، میں نے 1985 میں بھی ٹکٹ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی،ان سب ٹکٹ والوں کی 25 تاریخ کو بری حالت ہو گی،پچیس تاریخ کو ٹیکسلا والے ٹکٹوں والوں کو ایک ہی ٹرین میں بٹھائیں گے۔

ٹیکسلا والو سر اونچا کر کے میرے لئے ووٹ مانگو, گدھے کو تخت نشین کر دو تو وہ پھر بھی گدھا ہی رہتا ہی ، اگر کسی چور کو جج بنا دو تو وہ چور ہی رہے گا مودی مسلمانوں کے حق میں بات کردے، اقوام متحدہ کشمیر میں آزادی کی بات کردے مگر سرور خان ٹیکسلا سے وفا نہیں کرے گا،میں الیکشن جیتا یا ہارا لیکن علاقے میں اربوں کے کام کرائے ، نواز شریف کو تو اتنا بھی نہیں پتا کہ پی او ایف کے ملازمین کتنے ہیں ،میں نے ان سے کہا کہ پرائیویٹائزیشن نہیں ہو سکتی ، میں ہر مقام پر لڑا ہوں، میں نے علما دین کی جنگ لڑی ، میں نے کراچی آپریشن کیا ، آج افسوس ہوتا ہے جب ن لیگ خود کو کراچی امن کی دعویدار بنتی ہے ،چوہدری نثارمیں نے ناموس رسالت کی حفاظت کی میں نے کئی ملکوں کے سفیروں کے سامنے خاکے رکھے ،میں نے کہا کہ میں سوشل میڈیا بند کرنے لگا ہوں میں نے کہا کہ ہمارے لئے ناموس رسالت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ،میری کوششوں سے پانچ دن کے اندر اندر یہ بیہودہ خاکے بند کرا دیئے ، راجناتھ سنگھ کو یہاں سے بھگا دیا تھا،نواز شریف نے کہا کہ راجناتھ سنگھ سے عزت سے پیش آنا میں نے جب تقریر کی تو راجناتھ کو ہمت نہ ہوئی میرے سامنے ٹھہرنے کی ،جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو، ڈٹے رہو حسین کے انکار کی طرح ۔

Your Thoughts and Comments