انڈین ایڈمنیسٹریٹو سروسزکے قابل ترین افسر شاہ فیصل نے استعفیٰ دے دیا

کشمیر میں ہونے والے مظالم پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ بھارت نے 200 ملین مسلمانوں کو ہندو جنونیوں کے سامنے ڈال رکھا ہے، شاہ فیصل

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جنوری 18:55

انڈین ایڈمنیسٹریٹو سروسزکے قابل ترین افسر شاہ فیصل نے استعفیٰ دے دیا
نئی دہلی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-09 جنوری 2019ء ) :کشمیر میں ہونے والے مظالم پر احتجاج کرتے ہوئے انڈین ایڈمنیسٹریٹو سروسز کے قابل ترین افسر شاہ فیصل نے استعفیٰ دے دیا۔تفصیلات کے مطابق کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و ستم کی داستانیں 7دہائیوں پر محیط ہیں ۔ان 70 سالوں میں بھارتی فوج نے بربریت کی وہ وہ داستانیں رقم کیں جن کو سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

ان 70سالوں میں وادی کشمیر کی آزادی کی تحریک بہت سے نشیب و فراز سے گزری تاہم کوئی بھی ظلم اور دباو کشمیری عوام کی اس جدوجہد کو دبا نہ سکا۔بھارت فوج نے ہر حربہ اپنا کر دیکھ لیا تا ہم اس حوالے سے انہیں ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی۔گزشتہ دو دہائیوں میں جتنا عروج تحریک آزادی کشمیر کو برہان وانی کی شہادت کے بعد ملا اسکی مثال نہیں ملتی۔

(جاری ہے)

یہ تحریک اب ایک ایسا طوفان بن چکا ہے جس کو روکنا بھارتی فوج کے بس کا کھیل نہیں ہے۔

اس حوالے سے بھارت فوج کے اکثر افسران بھی حقیقت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں تاہم بھارت اپنی ڈھٹائی اور اٹوٹ انگ کے راگ الاپنے سے باز نہیں آتا۔یہاں تک کہ بھارت کی یہ غیر انسانی ضد اب تک سینکڑوں کشمیریوں کی جان لے چکی ہے۔اس حوالے سے اقوام متحدہ نے بھی کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے ،رپورٹ جاری کردی ہے۔بھارت نے اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد اپنی غلطی سدھارنے کی بجائے اقوام متحدہ کی رپورٹ ہی مسترد کر چکا ہے۔

تاہم اب بھارت کے اندر سے کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آواز اٹھنے لگی ہے۔بھارتی تجزیہ کار اس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ بھارت اپنے سیاہ کرتوتوں کے باعث وادی میں اپنی گرفت کھو چکا ہے۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ انڈین ایڈمنیسٹریٹو سروسز کے قابل ترین افسر شاہ فیصل نے کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے فیس بک پر اپنے استعفے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں کشمیر میں ہونے والے مظالم پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے رہا ہوں۔بھارت نے 200 ملین مسلمانوں کو ہندو جنونیوں کے سامنے ڈال رکھا ہے اور انکاکوئی پرسان حال نہیں۔انکا کہنا تھا کہ ان سب مظالم کے جواب میں میں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے دوست احباب اور اہل خاندان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس فیصلے پر شاہ فیصل کی حمایت کی۔دوسری جانب بھارت میں شاہ فیصل کے استعفے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

نئی دہلی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments