قطر میں کورونا وائرس سے مزید 13 افراد متاثر ہو گئے

کورونا سے متاثرین کی کل تعداد 482 ہو گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر مارچ 10:27

قطر میں کورونا وائرس سے مزید 13 افراد متاثر ہو گئے
دوحہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مارچ 2020ء) قطر میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کی تمام تر حکومتی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ بہترین احتیاطی انتظامات کے باوجود قطر میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قطری وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مملکت میں مزید 13 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد کورونا کے شکار افراد کی مجموعی گنتی 482 تک جا پہنچی ہے۔

کورونا کے یہ تازہ ترین شکار وہ افراد ہیں جو حال ہی میں دیگر ممالک سے قطر لوٹے ہیں، جن میں سے پانچ قطری شہری جبکہ آٹھ تارکین وطن ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق مزید چھ افراد کورونا سے صحت یاب ہو گئے ہیں،جن میں ایک قطری بھی شامل ہے۔ اس طرح مملکت میں کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی گنتی 33 ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر میں کورونا وائر س کا سب سے بڑا نشانہ مزدور طبقہ بن رہا ہے۔

ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق مملکت میں سینکڑوں مزدور کورونا وائرس کے باعث ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ تاہم انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ جس کے باعث مزدوروں میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایمنسٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قطری حکومت کی کورونا کی روک تھام کے حوالے سے موثر اقدامات نہ کرنے پر دارالحکومت دوحہ میں مزدوروں کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دوحہ حکومت نے ملک میں کام کرنے والی لیبر کو اسپتالوں میں لانے اور ان کے معائنے سے انکار کر دیا ہے۔دوسری طرف قطری حکومت کی لا پرواہی کے خلاف مزدور طبقے میں حکومت کے خلاف غم وغصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوحہ میں متعدد مقامات پر حکومت کے خلاف مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے قطری حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فٹبال ورلڈ کپ کے لیے جاری تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر کارکنوں کا تواتر کے ساتھ طبی معائنہ کرے تاکہ انہیں کورونا کے خطرے سے بچایا جا سکے تاہم قطری حکومت اس حوالے سے خاطرہ خواہ اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

دوحہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments