سعودی عرب میں 20 سال قبل اغواہونے والے بچے اصل والدین کو مِل گئے

اغوا کار خاتون کو اپنے ہاں پلنے والے بچوں کا شناختی کارڈ بنوانا مہنگا پڑ گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ فروری 11:46

سعودی عرب میں 20 سال قبل اغواہونے والے بچے اصل والدین کو مِل گئے
دمام(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔12فروری 2020ء) سعودی عرب میں آج سے 20 سال قبل ایک ہسپتال سے دو مختلف واقعات میں نومولود بچوں کے اغوا ہونے کے کیس کی گُتھی بالآخر سُلجھ گئی۔ اغوا کے یہ دونوں کیسز کوئی سُراغ نہ مِلنے پر بند کر دیئے گئے تھے اور دونوں نومولود بچوں کے والدین 20 سال تک اپنے جگر کے ٹکڑوں کو سینے سے لگانے کی خواہش دِلوں میں دبائے بیٹھے رہے۔

مگر اللہ کی اُن کی سُن ہی لی۔ اُردو نیوز کے مطابق دمام سے اغوا ہونے والے 2 نومولود بچوں کا پتا چل گیا ہے جو اَب جوانی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ الشرقیہ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اغوا کے ان معاملات پر سے پردہ تب ہٹا جب ایک سعودی خاتون نے دو لڑکوں کے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے محکمہ احوال مدنیہ (برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا ادارہ) سے رجوع کیا۔

(جاری ہے)

خاتون کا احوال مدنیہ کے روبرو یہ موقف تھا کہ بیس برس قبل اُسے دو نومولود پبلک مقام سے ملے تھے۔ تب سے وہ ان کی دیکھ بھال کرتی آرہی ہے۔ اس کے ذہن میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ پولیس میں رپورٹ درج کرادے ۔ تاہم احوال مدنیہ کی جانب سے معاملے کو مشکوک جانتے ہوئے پولیس کو اطلاع کر دی گئی۔ پولیس نے 50 سالہ خاتون کے ہاں پلنے والے دونوں نوجوانوں کا ڈی این اے کیا گیااور مختلف معلومات جمع کی گئیں۔

جب پرانا ریکارڈ کھنگالا گیا تو پتہ چلا بیس برس قبل دمام شہر کے ایک ہسپتال سے 24 ربیع الثانی 1417ھ کو ایک نومولود کے اغوا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ ایک رپورٹ 8ربیع الثانی 1420ھ کوایک اور نومولود کے اغوا کے حوالے سے ریکارڈ ہوئی تھی۔دونوں بچوں کا ڈی این اے ہسپتال میں تھا۔ چیک کرنے پر پتہ چلا کہ یہ وہی بچے ہیں جنہیں اغوا کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے مطابق 50 سالہ سعودی خاتون کو اغوا کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ گم شدہ اولاد کی آس میں بیٹھے والدین تک ان کے جگر گوشوں کو پہنچا دیا گیا۔ جو اسے ایک معجزے کی طرح جان کر خُدا کا لاکھ لاکھ شکر بجا لا رہے ہیں۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments