سعودی شوریٰ کی خاتون رُکن نے خواتین کو جج بنانے کا مطالبہ کر ڈالا

ڈاکٹر لطیفہ الشعلان نے سوال اُٹھایا کہ سعودی عدالتی قانون میں جج کے لیے مرد ہونے کی شرط لازمی نہیں تو خواتین پر پابندی کیوں ہے؟

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل ستمبر 11:49

سعودی شوریٰ کی خاتون رُکن نے خواتین کو جج بنانے کا مطالبہ کر ڈالا
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،3 ستمبر، 2019ء) سعودی عرب میں خواتین کو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بہت سے حقوق دیئے گئے ہیں اور ان پر کئی شعبوں میں ملازمتوں کے دروازے بھی کھول دیئے گئے ہیں۔ تاہم سعودی شُوریٰ کی رُکن ڈاکٹر لطیفہ الشعلان سعودی خواتین کی ایک شعبے میں شمولیت نہ ہونے پر نالاں نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر لطیفہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی خواتین کو بھی جج مقرر کیا جائے۔

انہوں نے موٴقف اختیار کیا کہ 1428ھ میں لاگو کیے گئے سعودی عدالتی قانون میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی کہ جج صرف مرد ہی ہو سکتا ہے اور عورت کے جج بننے پر ممانعت ہے، عدالتی قانون کی دفعہ 31 میں جج بننے کی جو شرائط بیان کی گئی ہیں اس کے مطابق جج کا سعودی شہری ہونا، اچھے کردار کا حامل ہونا، فرائض انجام دینے کی اہلیت شامل ہیں۔

(جاری ہے)

اس میں جج کے صرف مرد ہونے کی شرط کا کوئی ذکر نہیں۔

اس کے باوجود سعودی خواتین کو جج نہ مقرر کرنا ناقابل فہم ہے؟ سبق ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر لطیفہ الشعلان نے اپنے موٴقف کی حمایت میں مزید کہا ہے کہ شیخ الازہر ڈاکٹر محمد طنطاوی 2003ء میں فتویٰ جاری کر چکے ہیں کہ خواتین کو جج مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس فتوے کی بنیاد پر ہی بعد میں مصری خاتون ڈاکٹر دانی الجبالی کو مصر کی سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ کئی دیگرعرب ممالک میں بھی سعودی خواتین جج کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراکش، تیونس، الجزائر، سوڈان، اُردن، مصر اور بحرین میں بھی خواتین جج کے طور پر انصاف کی فراہمی کی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھا رہی ہیں۔ اس لیے سعودی خواتین کو بھی جج کے عہدے پر تعینات کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments