Paigham E Mustafa SAW

پیغام ِ مصطفی ﷺ

حضرت سلیمان اپنے سلیمانی تخت پر بیٹھ کرایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کررہے تھے۔ ۔ایک مقام آیاجہاں حضرت سلیمان  تخت سے نیچے تشریف لے آئے اور پیدل سفر کرنے لگ گئے ساتھیوں نے عرض کیا ، یہ کیا ماجرا ہے آپ تخت سے نیچے کیوں تشریف لے آئے ہیں۔۔ آپ نے فرمایا۔ ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آخری نبی ﷺ قیام فرمائیں گے

ہفتہ اپریل

Paigham e Mustafa SAW
رؤف اُپل
حضرت سلیمان اپنے سلیمانی تخت پر بیٹھ کرایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کررہے تھے۔ ۔ایک مقام آیاجہاں حضرت سلیمان  تخت سے نیچے تشریف لے آئے اور پیدل سفر کرنے لگ گئے ساتھیوں نے عرض کیا ، یہ کیا ماجرا ہے آپ تخت سے نیچے کیوں تشریف لے آئے ہیں۔۔ آپ نے فرمایا۔ ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آخری نبی ﷺ قیام فرمائیں گے اور میں اسی وجہ سے تخت سے اتر کر پیدل سفر کررہا ہوں ۔
۔ اللہ کے وہ پیارے نبی ﷺ 20 اپریل 571ء عیسوی 12 ربیع الاول کو مکہ کے مقام پر مشہور قبیلہ قریش میں پیدا ہوئے۔
آپ ﷺ کی والدہ کا نام حضرت آمنہ تھا جبکہ آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے وفات پاچکے تھے، اس لیے آپ ﷺکی پرورش دادا عبدالمطلب نے کی ولادت کے بعد آپ ﷺ کو ابو لہب بن عبدالمطلب کی لونڈی نے چند دن تک دودھ پلایا ، اس کے بعد روایت کے مطابق بنی سعد قبیلے کی خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ  کے سپرد کیا گیاجنہوں نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا، آپ چار برس تک حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپرد رہے۔

۔چھ برس کی عمر میںآ پ ﷺ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوگیا، والدہ کے انتقال کے بعد تمام ذمہ داری آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب نے ادا کی ، آٹھ برس کی عمر میں دادا بھی وفات پاگئے۔ ۔ پھر آپ ﷺ کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے ادا کی ۔ ۔ پندرہ برس کی عمر میں جنگِ فجار میں حصہ لیا۔۔آپ ﷺ اپنے چچا کے ساتھ کئی تجارتی سفر کئے اور تجارت کا پیشہ ہی اختیار کیا۔
۔ ایمانداری اور سچائی کی وجہ سے صادق اور امین کہلائے۔ ۔ 25سال کی عمر میں آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ  سے ہوا جن کی عمر اس وقت 40 سال تھی ۔ ۔آپ ﷺ غار حرا میں اللہ کی عبادت کے لئے جایا کرتے تھے ایک دن جب آپ ﷺ معمول کے مطابق خارِ حرا میں عبادت میں مصروف تھے اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو وحی دے کر بھیجا۔ ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے کہا۔
۔ اے اللہ کے نبی ﷺ پڑھیے ۔۔۔۔
اقرا باسم ربک الذی خلق۔ ۔ ۔
ترجمہ: پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے ہر شے کو پیدا کیااور انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔۔۔۔
آپ ﷺ پر کپکپی طاری ہوگئی گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ  سے فرمایامجھ پر کمبل ڈال دو۔ ۔ سارا واقعہ بیان فرمایا۔ ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام مختلف روپ میں حضرت محمد ﷺ کے پاس تشریف لاتے اور پیغامِ الہی پہنچاتے ۔ ۔ آپ ﷺ نے مکہ میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ۔ جیسے جیسے پیغامِ الہی پہنچاتے گئے آ پ ﷺ کی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔ ۔ شروع شروع میں حضرت خدیجہ ، حضرت ابوبکر صدیق ، زید بن حارث اور حضرت علی وغیرہ نے اسلام کو قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔
۔ جبکہ اہلِ مکہ کی اکثریت نے صادق اور امین کہنے کے باوجود اسلام قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیابلکہ آپ ﷺ کے راستے میں مشکلات کھڑی کرنا شروع کردیں۔ ۔ قریش مکہ نے آپ ﷺ اور ساتھیوں پر ظلم کی انتہا کردی اسی دوران آپ ﷺ نے کچھ ساتھیوں کو حبشہ ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی چنانچہ کچھ مسلمان مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ ۔ انہی مظالم کی وجہ سے آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کا فیصلہ کیا۔
۔ ایک رات آپ ﷺ نے حضرت علی کو اپنے بستر پر سونے کا حکم فرمایا اور خود حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لے کر اسی سر زمین کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت سلیمان نے پیدل سفر فرمایا تھا۔ ۔ ہجرتِ مدینہ کا واقعہ 622 عیسوی کو پیش آیا ، مدینہ میں قیام سے پہلے آپ ﷺ نے غار ثور میں اور قبا میں قیام فرمایا، قبا میں اسلام کی تاریخ کی پہلی مسجد کی بنیاد رکھی۔
۔ مدینہ میں آپ ﷺ کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ۔مدینہ میں آپ ﷺ نے حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر قیام فرمایا ۔ ۔ مدینہ میں قیام کے دوران اسلام نے بہت ترقی کی منازل طے کیں، یہاں میثاقِ مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا گیا جو دنیا کا پہلا تحریری معاہدہ تھا۔ ۔ 624 عیسوی کو کفارِ مکہ سے جنگ لڑنا پڑی جو تاریخ میں عزوہ بدر کے نام سے مشہور ہوئی جس میں اللہ تعالی نے اسلام کو فتح نصیب فرمائی اس کے بعد غزوہِ احد اور غزوہِ خندق میں آپ ﷺ نے بہادری اور سپہ سالاری کے جوہر دکھائے۔
۔ 628 ہجری میں حج کی نیت سے مسلمانوں کے قافلے کے ساتھ مکہ روانہ ہوئے مگر حج اداناں کیا جا سکا اس دوران مسلمانوں اور کفارِ مکہ کے درمیان صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا ۔ ۔628 عیسوی کوہی خیبر فتح ہوا۔ ۔اس کے بعد غزوہِ حنین، غزوہِ طائف اور غزوہِ تبوک کے واقعات پیش آئے۔ ۔ مسلمانوں کی ایک بڑی طاقت کے ساتھ مکہ فتح ہوا ۔۔ 9 مارچ 631 عیسوی (9 ذوالحج 10 ہجری( کو آپ ﷺنے حج ادا کیا ، اس موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحابہ اکرام موجود تھے۔
۔ خطبہ حج میں آپ ﷺ نے دین مکمل ہونے کی نوید سنا دی ۔ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کسی کالے کو گورے ، عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ، دین میں بڑھائی کا دارومدار صرف تقوی پر ہے۔ ۔8 جون 632عیسوی بمطابق 12 ربیع الاول 11 ہجری کو پیارے نبی ﷺ ،حسن وجمال کا کرشمہ دنیا سے پردہ فرماگئے مگر اسلام کا آفاقی نظام اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے، جو رہتی دنیا تک راہِ ہدایت بھی ہے اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کا زینہ بھی۔۔ اسلام برابری رواداری اور انصاف کا درس دیتا ہے اور حضور ﷺ کی زندگی اس کا بہترین نمونہ یعنی رول ماڈل ہے۔ ۔ آج کے دور میں اگر ہم اسلام کی روشنی کو اپنی زندگیوں پر لاگو کر لیں تو ذلیل وخوار ہونے سے بچ سکتے ہیں ورنہ حالات آپ کے سامنے ہیں۔

Your Thoughts and Comments