Hazrat Imam Zain Ul Abideen

حضرت امام زین العابدین

آدم سادات ،پیکر اخلاق محمدی صلی اللہ علیہ وسلم،موسس عزاداری جن کے نشان قدم مکہ پہچانتاہے

جمعہ جنوری

Hazrat Imam Zain ul Abideen
آغا سید حامد علی شاہ موسوی
فرزند رسول صلی اللہ علیہ وسلم وارث مقصد کربلا امام زین العابدین علی بن حسین بن علی بن ابی طالب نے 15جمادی الاول (بعض روایات 5شعبان)38ہجری کو مدینہ منورہ میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین کے پاکیزہ گھرانے میں آنکھ کھولی۔آپ کی والدہ گرامی حضرت شہر بانو آخری ساسانی بادشاہ یزدگرد دوم کی بیٹی تھیں۔
امام علی ابن الحسین کا ددھیال سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور ننھیال نو شیرواں عادل سے تھا۔ہشام بن عبدالملک جو بنوامیہ کا دسواں اور مردان خاندان کا ساتواں حکمران تھا وہ ایک دفعہ حج کے لئے مکہ گیا ،رش کے باعث حجر اسود کے قریب پہنچ کر بھی اسے بوسہ لینے کا موقع نہ مل سکا۔
اسی دوران حضرت امام زین العابدین حجرا سود تک پہنچے تو عوام نے آپ کی خاطر رستہ چھوڑ دیا۔

یہ صورتحال دیکھ کر ہشام سخت برہم ہوا اور حسد کے باعث ہشام سے پوچھا یہ کون ہے۔حالانکہ وہ جانتا تھا۔وہیں پر کھڑے دنیائے عرب کے مشہور شاعر فرزوق نے ایک قصیدہ پڑھ کر آپ کا تعارف کرایا۔
”اے ہشام اگر تو ان کو نہیں پہچا نتا تو مجھ سے سن۔یہ وہ ہیں قرآن جن کے فضائل کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔یہ وہ ہیں جن کے دلیرانہ اقدام دیکھ کر شیروں کے دل کانپتے ہیں۔
یہ وہ ہیں جن کی جودوسخا پر ابرباراں کو بھی رشک آتاہے۔یہ وہ ہیں جن کے نشان قدم مکہ پہچانتا ہے انہیں خانہ کعبہ جانتاہے ۔ان سے ساری دنیا واقف ہے ساری مخلوق ان سے شنا سا ہے ،ان سے حرم آشنا ہے۔اس خاندان کے فرد ہیں جو پورے روئے زمین کیلئے باعث زینت ہے۔انہی لوگوں نے اپنے علم کی روشنی سے ہمارے لئے دین کی وضاحت فرمائی․․․․․․یہ وہ ہیں جن کے دروازے سے کبھی سائل خالی نہیں لوٹتا․․․․․یہ وہ ہیں کہ خالق کائنات نے ان کو بڑے فضائل عطا فرمائے ہیں ان کے جسم پھول کی مانند تازہ اور نورانی بنائے ہیں۔
یہ فرزند فاطمہ ہیں اگر تو انہیں نہیں پہچانتا تو سن یہ فرزند خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔․․․․․“
آپ کی عبادت گزاری اور زہدوتقوی انتہا تک پہنچا ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ زین العابدین ،سید الساجدین ،عابد اور سجاد کے لقب سے جانے پہچانے جاتے ہیں علامہ ابن حجر رقم طراز ہیں کہ آپ علم زہد اور عبادت میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین جیتی جاگتی تصویر تھے ۔
(صواعق محرقہ)امام زہری ،ابن مسیب اور ابن عینیہ کہتے ہیں کہ ہم نے امام علی ابن الحسین سے زیادہ افضل عبادت گزار اور فقیہہ کسی کو نہیں دیکھا(نور الابصار)علامہ شبلنجی کہتے ہیں کہ امام مالک فرماتے ہیں کہ آپ کو کثرت عبادت کی وجہ سے زین العابدین کہا جاتاہے(نور الابصار)عالم اہلسنت حضرت علامہ عبدالرحمن جامی روایت کرتے ہیں کہ امام زین العابدین ایک مرتبہ نماز تہجد میں مشغول تھے شیطان اژدھے کی شکل میں آگیا اور آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کو کاٹنا شروع کردیا لیکن آپ عبادت میں مشغول رہے۔
جب امام نے اپنی نماز مکمل کرلی تو طمانچہ مار کر شیطان کو دور ہٹا دیا اسی وقت ہاتف غیبی نے تین بار صدادی ”بے شک آپ عبادت گزاروں کی زینت ہو۔“اس کے بعد آپ کا یہی لقب مشہور ہو گیا(شواہدالنبوة)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد گورنری میں 87ھ ء میں سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کی ایک دیوار گر گئی تھی جب اس کی مرمت کا سوال پیدا ہوا،تو عمر بن عبدالعزیز نے حضرت امام زین العابدین کو سب پر ترجیح دی(وفاء الوفاء جلدا)۔

کربلا کے دشت میں بھوک پیاس برداشت کرنے والے امام زین العابدین مدینہ کے سینکڑوں غریب گھروں کی کفالت فرماتے تھے ،یہ سلسلہ آپ نے تاحیات جاری رہا۔ظلم جبر اور پابندیوں کے میں امام زین العابدین نے انبیاء کے اسلحہ،دعاؤں اور مناجات سے تبلیغ کا راستہ اختیار کیا۔آپ کی دعاؤں کے مجموعے صحیفہ کا ملہ(صحیفہ سجادیہ)کو زبور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعبیر کیا گیا۔
آج جب وطن عزیز کو ازلی دشمن بھارت کی مکاریوں کا سامنا ہے۔ایسے حالات میں دشمنان دین ووطن کی سازشوں سے بچنے کے لئے امام زین العابدین کی یہ مناجات اور درس عمل ہے۔
”․․․․․․کتنے ہی دشمن ہیں جنہوں نے میرے خلاف دشمنی کی تلوار کھینچی اور اپنے چھرے کی دھار کو صیقل کیا اور اپنی سختیوں کی باڑ کو تیز بنالیا اور میرے لئے قاتل زہر پانی میں ملا دیا ہے۔
اور ایک لمحہ کیلئے بھی ان کے تعاقب کی نظریں غافل نہ ہوئیں اور وہ دل میں یہ عزم لئے رہے کہ مجھے نامساعد حالات میں مبتلا کردیں اور سختیوں اور تلخیوں کے گھونٹ پلادئیے لیکن اے پروردگار جب تو نے دیکھا میں ان سنگینیوں کو برداشت کرنے سے کمزور ،آمادہ جنگ لوگوں کے مقابلے سے قاصر اور مجھے نشانہ ستم بنانے والے دشمنوں کی بہت بڑی تعداد کے سامنے تنہا ہوں تو میں نے اس سلسلے میں کچھ سوچا بھی نہ تھا لیکن تونے بلا کہے بلا دعا کیے میری مدد کردی اور میری کمر کو مضبوط ومستحکم کردیا میری خاطر دشمن کی باڑ کو کندکردیا اور اسے اتنا بڑا الاؤ لشکر جمع کرنے کے باوجود بھی اکیلاکر دیا اور میرے پایہ کو اس سے بلند ترین کر دیا۔
جس تیر کا رخ اس نے میری طرف کیا تھا اسے اس کی طرف پلٹا دیا نہ اس کا غصہ فرد ہو سکا نہ اس کے دل کی آگ ٹھنڈی ہو سکی اور اس نے اپنی ہی بوٹیاں کاٹ لیں اور اس طرح ناکام ہو کر منہ پھر لیا کہ اس کے لاؤ لشکر نے اس سے بغاوت کرلی کتنے اس طرح بغاوت کرنے والوں میں فریب سے مجھ سے ظلم کیا اور شکاری جال میری راہ میں بچھائے۔اپنی نگاہ غضب کا پہرہ لگایا اس طرح گھاٹ لگا کر بیٹھ گئے جیسے درندہ شکار میں بیٹھتا ہے کہ کس وقت شکار ملے اور وہ شکار کو پھاڑ ڈالے۔
اس وقت بھی میرے سامنے خوشیوں کا اظہار اور انتہائی کینہ پر ور نظروں سے دیکھتے رہے۔مگر میرے خدایا جب تو نے اپنی بابرکت اور بلند وبرترہستی کی بناء پر ان کی اندرونی خباثت کو دیکھ لیا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ برے جذبات اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں تو تونے انہیں سر کے بلند انہی کے گڑھے میں دھکیل دیا اور ان کے کھودے ہوئے غار ہلاکت میں جھونک دیا ۔
اب وہ اپنے غرور وتکبر کے مظاہرہ کے بعد ذلیل ورسوا ہو کر اپنے اس پھندے میں گرفتار ہو گئے ہیں جس میں کل مجھے دیکھنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔۔۔جو تیرے سایہ رحمت میں آجائے اس کوئی پامال نہیں کر سکتا اور جو تیری مدد کی پناہ لے لے وہ پریشان نہیں ہوتا۔“
آپ اگر چہ گوشہ نشینی کی زندگی بسر فرمارہے تھے لیکن روحانی اقتدار آپ ہی کے پاس تھا،25محرم الحرام95ھ مطابق714ء کو آپ کو زہر دے دیا گیا57سال کی عمر آپ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔
آپ کے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ مدینہ منورہ میں اپنے عم بزرگوار حضرت امام حسن علیہ السلام اور دادی خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کر دئیے گئے۔علامہ شبلنجی ،علامہ ابن حجر،علامہ ابن صباغ مالکی،علامہ سبط ابن جوزی تحریر فرماتے ہیں کہ جس نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا،وہ ولید بن عبدالملک ہے(نور الابصار ،صواعق محرقہ،فصول المہمہ،تذکرہ سبط ابن جوزی،ارجح المطالب ،مناقب جلد4)۔
ملاجامی تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ناقہ قبر پر نالہ وفریاد کرتا ہوا تین روز میں مر گیا(شواہد النبوة)
خانوادہ نبوت کی عظیم ہستی اور فصحائے عالم کے سردار حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پوتے امام زین العابدین علیہ السلام(المعروف سید سجاد وعابد بیمار )کے ذکر کے بغیر کر بلا کی داستان نامکمل ہے ،بعد از شہادت امام حسین علیہ السلام امام زین العابدین نے اپنی عمہ محترمہ نواسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت علی کے ہمراہ خاندان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنبھالا اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود جس بے مثال جرات اور لازوال عزم وثبات کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی تحفظ دین وشریعت کی تحریک کو سنبھالا دیا وہ تاریخ انسانیت کا ناقابل فراموش باب ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے اسیران کربلا کے ہمراہ ظالمین کے خلاف امن احتجاج عزاداری کی بنیاد رکھ کر ہر عہد کے مظلومین کو منزل کا راستہ بتلا دیا۔اپنی دعاؤں اور مناجا ت کو جبروتشدد کے سیاہ ترین دور میں تبلیغ کا ذریعہ بنایا ،کوفہ وشام میں اپنے خطبات کے ذریعے یزیدیت کا گھناؤ نا چہرہ بے نقاب کیا اور مقصد شہادت حسین کو انداز میں اجاگر کیا کہ ظلم وجبر کے ایوان میں زلزلہ طاری ہو گیا۔

Your Thoughts and Comments