Hazrat Sakina Bint Alhussain Salam Ullah Alahe

حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہ

عشق خدا کی لازوال داستان کربلا کا دوسرا باب حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہ قربانی کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے جن کی درد ناک شہادت نے ہر زمانے کے انسانوں کو تڑپا کررکھ دیا

ہفتہ اکتوبر

Hazrat Sakina Bint Alhussain Salam ullah Alahe
آغا سید حامد علی شاہ موسوی
تمام مورخین محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اسیران کر بلا کوفہ وشام کے بازاروں میں مقصد حسینیت کو اجاگر کرنے کیلئے خطبات نہ دیتے تو آمریت وملوکیت شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ چھپانے میں کامیاب ہو جاتی اور انقلاب کربلا نا مکمل رہ جاتا ۔اس لئے حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے فرمایا
حدیث عشق دوباب است کر بلا ودمشق
یکے حسین رقم کردودیگر زینب رضی اللہ عنہا
عشق خدا کی لازوال داستان کربلا کا دوسرا باب حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہ قربانی کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے جن کی درد ناک شہادت نے ہر زمانے کے انسانوں کو تڑپا کررکھ دیا اور مظلومیت ظلم وبربریت پر فتح یاب ہونے میں کامیاب ہوئی ۔
جس طرح ہادی برحق محمد مصطفی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نواسوں حسنین بے پناہ پیار کرتے تھے اسی طرح امام حسین رضی اللہ عنہ دختر حضرت سکینہ سلام اللہ علیہ سے بے حد پیار کرتے تھے ۔

امام عالی مقام فرماتے ”سکینہ کو میں نے نماز شب کی دعاؤں ومناجات میں اللہ سے مانگا ہے میں اللہ سے دعا کرتا تھا کے اللہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی بیٹی عطا فرما جس سے میں ایسے ہی محبت کروں جیسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی سے کرتے تھے اور وہ مجھ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا اپنے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتی تھیں میری بیٹی میرے بغیر نہ رہ سکے اور میں اس کے بغیر نہ رہ سکوں۔


حضرت سکینہ بن الحسین سلام اللہ علیہ24ذوالحجہ56ھ کو عید مباہلہ کے روز صفحہ ارضی پر تشریف لائیں امام حسین رضی اللہ عنہ نے آپ کا نام اپنی والدہ گرامی کے نام پر فاطمہ اور والدہ نے رقیہ تجویز فرمایا۔آپ سکینہ اور رقیہ کے ناموں سے مشہور ہوئیں ۔رقیہ کا مطلب ہے بلندی اور ترقی کی جانب چڑھنا اور سکینہ نام کی وجہ شہرت یہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی کو اپنے دل کی تسکین قرار دیتے تھے۔
حضرت سکینہ بنت الحسین کے والد گرامی نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام حسین رضی اللہ عنہ اور والدہ حضرت ام رباب تھی جوامراء القیس بن عدی کی صاحبزادی تھیں۔حضرت رباب کے والد عرب کے عظیم خاندان کے سرداروں میں سے تھے آپ کے دادا عدی کندی سلاطین کندی کے آخری فرد اور صاحب سپاہ وپرچم تھے ۔حضرت رباب کی والدہ زینب بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف کی چچاز اد بہن تھیں۔
جب امام حسین رضی اللہ عنہ 28رجب 60ھ کو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کیلئے اپنے پیارے نانا کے شہر مدینہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو حضرت سکینہ کی عمرمبارک 3سال اور سات ماہ تھی۔
اپنے باپ کے علاوہ حضرت سکینہ سلام اللہ علیہ کا دو مزید ہستیوں کے ساتھ بے پناہ محبت کا بہت روایات میں تذکر ملتا ہے۔ایک حضرت سکینہ سلام اللہ علیہ کے ششما ہے بھائی حضرت علی اصغر ہیں جن کی پیاس بجھانے کیلئے دشت کر بلا میں حضرت سکینہ کی بے قراری دلوں کو تڑپا دیتی ہے اور دوسرے امام حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت سکینہ کے چچا حضرت عباس علمدار ہیں ۔
چچا بھتیجی کا پیار ایک ضرب المثل بن چکی ہے۔میدان کربلا میں حضرت عباس کو امام حسین رضی اللہ عنہ کو جنگ کی اجازت نہیں دی تھی اور انہوں نے اپنی پیاری بھتیجی کی خواہش پر محض دریا سے پانی لانے کی اجازت حاصل کی تھی۔حضرت عباس جیسے دلاور اور بہادر نے اطاعت امام کرتے ہوئے جنگ نہ کی اور حضرت سکینہ وعلی اصغر پانی لانے کیلئے اپنے بازو کٹادئیے۔
حضرت عباس علمدار وفاکا استعارہ بن گئے اور آج بھی ’سقائے سکینہ کہلاتے ہیں۔
عزاداری کے جلوسوں میں سب سے آگے حضرت عباس علمدار کا علم ہوتا ہے تو اس کے ساتھ حضرت سکینہ کا خالی مشکیزہ بھی بندھا ہوتا ہے۔برصغیر پاک وہند میں اعوان برادری حضرت عباس علمدار سے ہی نسبت رکھتی ہے۔
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہ امام حسین رضی اللہ عنہ حد پیار کرتے تھے اور سکینہ بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتی تھیں وہ ہمیشہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سینے پر سویا کرتی تھیں ۔
لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی پیاری بیٹی کی محبت کو خدا سے محبت پر قربان کر دیا۔جب امام حسین رضی اللہ عنہ دس محروم کو خیام سے روانہ ہوئے تو آپ کا گھوڑارک گیا۔آپ نے دیکھا تو شہزادی سکینہ گھوڑے کے سموں سے لپٹی ہوئی ہیں امام نے حضرت سکینہ کو اتر کر سینے سے لگا لیا اور کہا سکینہ بیٹا مجھے مت روکو میرے نانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین میرے قتل کے بغیر نہیں بچ سکتا۔
میں نے تمہیں نماز شب کی دعاؤں میں اللہ سے مانگا تھا لیکن میں اللہ کی محبت پر تمہاری محبت قربان کررہاہوں میرے بعد ثابت قدم رہنا ہماری قربانی دین خداوندی کے تحفظ کیلئے ہے۔اس جدائی کا مرحلہ بہت دشوار تھاامام نے دعا فرمائی کہ سکینہ کو نیند آجائے۔حضرت سکینہ کو فوراً نیندنے آلیا اور امام اپنی بہوں بیٹیوں اور ازواج سے رخصت ہو کر اپنے آخری جہاد پر روانہ ہو گئے۔

روایات بتاتی ہیں کہ حضرت سکینہ اس وقت نیند سے بیدار ہوئیں جب امام حسین رضی اللہ عنہ گھوڑے سے گر چکے تھے اور آپ کا گھوڑا ذوالجناح خیام میں آچکا تھا حضرت سکینہ نے دیکھا کہ خیام میں کہرام مچا ہوا تھا۔آپ فوراً خیمے سے نکل کر میدان کی طرف دوڑیں ۔جناب زینب واُمّ کلثوم دونوں بہنیں مقتل کی طرف تلاش کرتی رہیں ۔رات کا وقت ہے،چاروں طرف اُداسی کا عالم ہے تو ایک جگہ سے سکینہ کے رونے کی آواز آئی۔
آواز کی طرف چلیں تو وہی نشیب جس میں حسین شہید ہوئے تھے ،وہاں یہ بچی رورہی تھی۔
حمید ابن مسلم روایت کرتا ہے کہ جب خیام حسینی میں یزیدی فوج نے آگ لگائی تو میں نے دیکھا ایک بچی(حضرت سکینہ)کے دامن میں آگ لگی ہے میں نے آگے بڑھ کر اس بچی کو پکڑ کر آگ بجھانا چاہی تو بچی چیخی شیخ تم نامحرم ہو مجھے ہاتھ نہ لگانا میں سید زادی ہوں اور نبی صلی اللہ عیہ وسلم کی اولاد سے ہوں۔
جب خاندان رسول کی باعظمت خواتین سے چادریں چھین کر انہیں قیدی بنا کر کوفہ وشام کے بازاروں سے گزارا گیا تو تمام باعظمت خواتین نے اپنے بالوں سے اپنے چہرے کا پردہ بنایا ہوا تھا سکینہ کمسن تھیں لہٰذا وہ اپنے ہاتھوں سے چہرے کو چھپائے رکھتیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مشکل ترین وقت میں بھی خاندان رسالت کو اسلامی تعلیمات کی پاسداری کا کس قدر خیال اور احساس تھا۔

حضرت سکینہ کو بعد از شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ نے پناہ مظالم کا سامنا کرنا پڑا جب خیام حسین رضی اللہ عنہ کو لوٹا گیا تو شمر ذی الجوشن نے حضرت سکینہ کے کانوں سے بالیاں کھینچ کر اتار لی تھیں جس سے ان کے کان زخمی ہو گئے تھے۔جب اسیری کے دوران حضرت سکینہ چلتے چلتے گر پڑتیں تو انہیں شمر طمانچے مارتا اور یزیدی فوج کے سپاہی مامور تھے جو انہیں تازیانے مارتے۔

شہزادی سکینہ کے دوران اسیری خطبات خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت وبلاغت کا نمونہ ہیں کوفہ میں ایک مقام پر جناب سکینہ نے تماشائی ہجوم سے مخاطب ہو کر فرمایا:رسول اللہ نے تمہارے ساتھ کیا براکیا تھا جس کے بدلے میں تم نے ان کی آل کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا؟ہمارے قتل اور ہمیں قیدی بنا کر تم فکر کرتے ہو ہمیں جنہیں اللہ نے پاک وپاکیزہ بنایا اور ہر رجس کو ان سے دور رکھا،اے ظالمو!یاد رکھو تمہارے لیے ہلاکت ہے“
جب قیدیوں کا قافلہ شام کے ایک بازار سے گزر رہا تھا تو ایک عورت نے گھرکی چھت سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے سراقدس پر پتھر مارا اپنے باباکے سر کے ساتھ یہ ظلم دیکھ کر حضرت سکینہ تڑپ گئیں ۔
آپ نے پھوپھی سے پوچھا اے پھوپھی ناقہ صالح کے بچے کی طرح فریاد کروں تو حضرت زینب نے انہیں روک دیاکہ ہم نے کسی کیلئے بددعا نہیں کرنی ۔
یزید نے کو قصر یزید سے متصل ایسے زندان میں قید کیا تھا جس میں سردی اور گرمی سے بچنے کے لئے کوئی انتظام نہ تھا،یہاں تک کے قیدیوں کے جسموں کی کھال اُترنے لگی تھی ۔جس مقام میں پر اہل بیت کو قید کیا گیا وہ ایک کھنڈر کی شکل میں تھا۔
حضرت سکینہ زندان میں ہر وقت اپنے بابا حسین کو یاد کرکے روتی رہتی تھیں۔جس سے تمام بڑے بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے اور زندان میں ہر وقت کہرام کا سماں رہتا یہ کہرام اور گریہ وبکایزید کو سخت پریشان کئے رکھتا تھا ۔اپنے بابا امام حسین کو یاد کرتے کرتے اسی زندان میں حضرت سکینہ نے جام شہادت نوش کر لیا۔
حضرت سکینہ کا یوم شہادت 13صفر ہے جبکہ بعض روایات میں 6یا13صفر61ھ بھی بیان کیا گیا ہے۔
جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ اپنے بابا کی رحلت کے بعد چند دن زندہ رہ سکیں ایسے ہی حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہ اپنے بابا کی جدائی ایک ماہ اور چند دنوں سے زیادہ برداشت نہ کرسکیں۔ حضرت سکینہ کا مزار اقدس دمشق شام میں ہے جہاں ہر روز ہزاروں مسلمان حاضری دیتے ہیں اور اس معصوم شہیدہ سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments