Hazrat Syedna Ali Al Murtaza Karam Ullah Waja

حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہ شیر خدا حیدر کرار

شیر خدا حیدر کرار حضرت علی کرم اللہ وجہ کو پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺکے چچازاد اوردامادہونے کاشرف حاصل ہے خواجہ ابوطالب کی زندگی کے اندرہی آپ کوحضورﷺنے اپنی پرورش میں لے لیا تھا لہذا آپ کی تعلیم وتربیت دوجہاں کے سردارمعلم انسانیت صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے بذات خودکی

Muhammad Sohaib Farooq محمد صہیب فاروق پیر مئی

Hazrat Syedna Ali Al Murtaza Karam ullah Waja
شیر خدا حیدر کرار حضرت علی کرم اللہ وجہ کو پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺکے چچازاد اوردامادہونے کاشرف حاصل ہے خواجہ ابوطالب کی زندگی کے اندرہی آپ کوحضورﷺنے اپنی پرورش میں لے لیا تھا لہذا آپ کی تعلیم وتربیت دوجہاں کے سردارمعلم انسانیت صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے بذات خودکی۔اوریہ بات بالکل عیاں ہے کہ جب مربی ورہبرکامل واکمل ہو گا تواس کے تربیت یافتہ بھی غیر معمولی اوصاف کے حامل ہوں گے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں کہ جن کے فضائل ومناقب سب سے زیادہ روایات میں وارد ہوئے ہیں آپ کی شان بہت بلندوبالاہے آپ نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سب سے زیادہ قربت حاصل کی تھی اورسفرو حضر میں آپ کے رفیق رہے ۔غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کوآپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ علی کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میری نیابت و اعتمادکے معاملہ میں تمہاری حیثیت ومرکزیت وہ ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھ تھی ؟ہاں یہ ضرورکہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔


سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں " کہ ایک دن میں اور رسول اللہ ﷺگھر سے نکلے اورجب کعبہ کے دروازے پر پہنچے تو آپ نے مجھے فرمایا بیٹھ جاؤاورمیرے کاندھوں پرپیر رکھ کر اونچے ہوئے اورفرمایاکہ کھڑے ہوجاؤفرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا تو میری کمزوری کو آپ نے محسوس کیا اور فرمایا کہ اب تم میرے کندھوں پر سوار ہوجاؤچنانچہ میں سوار ہوگیا اوردوجہاں کے سردارصلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے جب مجھے کندھوں پر اٹھایا تومجھے ایسا لگا کہ میں آسمان کی بلندی تک پہنچ جاؤں گا فرماتے ہیں ا س طرح میں کعبہ کی چھت پر پہنچ گیا اوروہاں پر جو پیتل اورتانبے کا بُت بنا ہوا تھا میں نے اس کو دائیں بائیں موڑا آگے پیچھے جھکایا اور بالآخراس کو اکھیڑدیا آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے فرمایا کہ ا سے گرادو میں نے اسے گرایا تو وہ ایسے چُورچُور ہو گیا جیسے شیشے کے بنے ہوئے برتن پھرمیں نیچے اتر آیا
چنانچہ یہ محبت اس وقت بام عروج کوپہنچ گئی جب ہجرت کے دوسرے سال رسول اللہ ﷺنے حضرت علی کرم اللہ وجہ کا عقد اپنی لخت جگر حضرت فاطمة الزہرا ء رضی اللہ عنہاسے کردیااوراان سے فرمایافاطمہ میں نے تمہارانکاح اپنے اہل بیت کے بہترین فرد سے کردیا ہے"
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم حضرت علی کرم اللہ وجہ کو پیارسے ابوتراب کہا کرتے تھے۔
حجة الوداع کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ لوٹے تو راستے میں جب غدیر خْم پر پہنچے تووہاں ایک خطبہ دیااوراس میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خصوصیت اورشان کوبیان کرتے ہوئے فرمایاکہ ”میں جس کا دوست اورحامی ہوں علی اس کے دوست اور حامی ہیں“ پھر دعا دی "اے اللہ اس کی حمایت فرما جوعلی کی حمایت کرے اوراس کی دشمنی تو بھی کرجواْن کی دشمنی کرے۔
یہ کہنے کا سبب یہ تھا کہ بعض لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیجا شکایت کی تھی اوران پربلاوجہ اعتراض و تنقید کی تھی۔اس خطبہ کے بعد لوگوں کے دلوں میں جو شکوک و شبہات تھے وہ رفع ہوگئے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کو بھی حضور ﷺسے جنونی حد تک محبت تھی اوراپنے آقاو مولٰی کی بھوک وپیاس بھی گوارانہ تھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم کے گھرفاقہ تھا حضرت علی کرم اللہ وجہ کویہ معلوم ہواکہ میرے محبوب آقا کا شکم مبارک خالی ہے توبہت بیقرار ہوئے چونکہ اپنے گھرمیں بھی کھانے کوکچھ نہ تھااس لئے فورا کسی مزدوری کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اورایک یہودی کے باغ میں پہنچے اوراس کی باغ کی سینچائی کا کام اپنے ذمہ لیا اورایک ڈول کے بدلے ایک کھجور اجرت طے پائی آپ رضی اللہ عنہ نے ۱۷ڈول پانی کے نکالے اوراسکے عوض ۱۷عجوہ کھجوریں لیکر اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم کی خدمت میں پیش کیں اورجب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے اس میں سے کچھ تناول فرمالیں تو تب آپ رضی اللہ عنہ کوراحت ہوئی ۔

حضرت علی کرم اللہ کی ایک صفت کمال شجاعت تھی آپ کی جوانمردی اوربہادری ضرب المثل ہے بدرواحد ،خندق وخیبرہر معرکہ حق وباطل میں آپ نے جراء ت و بہادری کی تاریخ رقم کی۔کئی غزوات میں آپ علمبردارہوتے تھے غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے اپنی تلوارذوالفقارحضرت علی کرم اللہ وجہ کے ہاتھ میں دی اوراس جنگ کے بعدان کو ہمیشہ کے لئے بخش دی جس سے آپ نے دشمنان اسلام کا قلع قمع کیا۔
یوں تو حق و باطل کے ہر معرکہ میں شیرخدانے اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے لیکن غزوہ خیبر۷ہجری میں آپ نے عزم وہمت اوراستقلال کی مثال رقم کردی۔خیبرمدینہ منورہ کے شمال مشرق میں ایک یہودی کالونی تھی جہاں بہت مضبوط اوربلند وبالا قلعے تھے۔اوریہودی دین اورپیغمبراسلام کے خلاف ہونے والی ہرسازش کا حصہ ہوتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم کی یہ خواہش تھی کہ اس ناسورکا خاتمہ ضروری ہے مسلمانوں کے لشکرنے ان خیبر کے قلعوں پر حملہ کیا لیکن ان میں ایک قاموص نامی قلعہ ناقابل تسخیربناہواتھا اوروہاں سے پسپائی کا سامناتھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے فرمایا کہ کل جھنڈااسی شخص کے ہاتھ میں ہوگا جس کو اللہ تعالی اوراس کا رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم پسند فرماتا ہے اوراسی کے ہاتھ یہ قلعہ فتح ہوگا۔اس اعلان نے تمام اصحاب میں ایک تجسس کی فضاقائم کردی تھی اورہرکوئی اس اعزازواکرام کا متمنی تھا چنانچہ اسی دوران ارشاد ہواکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہاں ہیں ؟بتلایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے فرمایا کہ ان کو بلاؤوہ حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے ان کی دونوں آنکھوں پر پنا لعاب دہن لگایااوردعا کی ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میری تکلیف ایسے دور ہوگئی گویا کبھی تھی ہی نہیں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے ان کے ہاتھ میں علم دیا۔میدان کارزارمیں یہودیوں کا مشہورشہسوار و پہلوان مرحب آپ کویوں للکارتا ہوا آگے بڑھا تمام خیبرجانتاہے میں مرحب ہوں ہتھیارسے لیس ہوں بڑاتجربہ کارہوں ا س نے اپنے سر پر لوہے کا خود پہنا ہوا تھا حیدر کرار نے اس کے جواب میں فرمایامیری ماں نے میرانام شیررکھاہے جھاڑیوں کے شیرجیساخوفناک ہوں اس کے بعد آپ  نے اس کمال کا وارکیا کہ اس کا آہنی خوداورسردونوں ایک ساتھ کٹ گئے اوراس کے جبڑے بھی ٹوٹ گئی اسی خیبر کی لڑائی کے دوران ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم کو ضرب لگائی جس سے ڈھال آپ کے ہاتھ سے گرگئی توشیرخدانے قلعہ کے ایک بھاری بھرکم دروازہ کو جس کو چالیس آدمی بمشکل اٹھا سکتے تھے اکھیڑااوراس کو اپنی ڈھال بنائے رکھا یہاں تک کے یہودیوں کو کھلی شکست ہوگئی ۔
ہجرت کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم حضرت علی کرم اللہ وجہ کواپنے بستر پر لٹاکر گئے حالانکہ اس وقت قریش کے ۱۰۰سپہ سالار تلواریں سونتے گھر کے باہر کھڑے تھے اوربظاہرموت کا نقشہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے فرمایا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکے گا یہ کمال جرا ء ت اور بہادری تھی کہ حیدر کرارذرہ برابر بھی گھبرائے نہیں بلکہ بلندہمتی اورحوصلے کا مظاہرہ کیا اورساری رات اطمینان سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم کے بستر پر استراحت فرماتے رہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ شیر خدا حیدرکرار دامادرسول حسنین کریمین کے ابا کی شہادت تاریخ اسلام کا ایک سیاہ باب ہے اورمسلمانوں کو اس سے بہت بڑاسبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔جب امیرالمومنین حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ نے خلافت کا بارگراں اٹھایا تواس وقت حالات انتہائی کشیدہ اورناگفتہ بہ تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مطالبہ پر ہونے والی چپقلش بہت سنگین صورت اختیار کر گئی اورکچھ باطل اورشریر قوتوں نے اسے مسلمانوں کے آپس میں فتنہ وانتشاراورقتل وغارت کا محرک بنا دیا۔
اوریہ پراپگینڈہ اورسازش اتنی خطرناک صورت اختیار کر گئی کہ جس ہستی نے رسول اللہ ﷺکے گھر میں پرورش پائی جنہوں نے وحی کو اترتے دیکھا جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ امت کے کچھ ناعاقبت اندیشوں اورفتنہ پرورو ں نے ان کو مسلمانی سے بھی نکال دیا حالانکہ ان سے بڑا کامل ایمان والا کون تھا۔
سوچنے کی بات ہے کہ سازش وافترا ء بازی کیسی خطرناک چیز ہے کہ جس کی وجہ سے سب سے پہلے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم پرایمان لانے والے کامل الایمان عظیم المرتبت ہستی کوایمان ہی سے بے دخل کردیاگیااوران پرغلط قسم کے فتوے صادرکیے گئے تاریخ بتلاتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے خلاف سارے خارجی عبداللہ بن وہب الرابسی کے مکان میں جمع ہوئے اوراس نے اس موقع پرایک فتنہ انگیز خطبہ دیا اس دنیاکے بارے میں ان کو زہد کی تلقین کی اورجنت وآخرت کی رغبت دلائی اچھے کام کرنے کا حکم دینے اور برائی سے روکنے پر ابھارااور کہا کہ اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اپنے بھائیوں کو نکال لو اورپہاڑ کی کسی کھوہ میں رہ پڑویامدائن میں سے کسی جگہ چلے جاؤ۔
اوریہ بات طے کرکے مدائن کی طرف چلنے کی تیاری کی تاکہ اس پر قابض ہوں اور قلعہ بند ہو جائیں۔اوراپنی ساری رشتہ داریاں قرابتیں اورتعلقات چھوڑ کر نکل پڑے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اس طرح اللہ تعالی ہم سے راضی ہو جائے گا۔
ایک اور خارجی لیڈر نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کو اس طرح بلیک میل کرنے کی کوشش کی کہنے لگا اے علی اگرتم نے اللہ تعالی کی کتاب کے مقابلہ میں لوگوں کو حکم یعنی فیصل بنانا نہ چھوڑا تو ہم تم سے جنگ کریں گیاوراس جنگ کو اللہ تعالی کے قرب اوررضا مندی کا ذریعہ سمجھیں گے۔
کتنی عجب بات ہے کہ جس جنت کے یہ اپنے آپ کو حقدار گردان رہے تھے کیا ان کو اس بات کا علم نہ تھا کہ یہ وہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں کہ جن کے سسرشافع محشرﷺ کی شفاعت کے بغیر کوئی جنت میں قدم نہیں رکھ سکتااور یہ کہ جن کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم نے کئی مرتبہ جنت کی خوشخبری دی بلکہ فرمایا اے علی جنت میں تیرا گھر میرے گھر کے سامنے ہوگا یہ وہی علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں کہ جنکی زوجہ سید ہ فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہاجنت کی عورتوں کی سردارہ اوان کے دونوں پھول سیدناامام حسن اورسیدناامام حسین رضی اللہ عنہماجنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں تو یہ کم عقل جنت میں کس منہ سے جائیں گے؟۔
آج ہمارے معاشرے میں بھی کچھ مختلف قسم کی فکرو اذہان کے حامل لوگ ہیں جو اپنی سوچ کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں اوراپنی رائے پر کسی دوسرے کی رائے کو ذرہ بھر اہمیت نہیں دیتے اور اپنی بات کو حرف اخیر سمجھتے ہیں اوراس سے بڑی حماقت یہ ہے کہ خو کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں دوسروں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالی نے جنت کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہے اس معاملہ کو موجودہ حالات کے تناظر کے اندر سوچنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ اس زمانہ میں بھی کفرکے فتوے بہت سستے ہیں۔

یہ وہ خطرناک اورناپاک سوچیں تھیں جو شیر خدا کی شہادت کا محرک بنیں اوربلآخر اس امت پر وہ سیاہ دن بھی آیا کہ جب تین خارجی عبدالرحمن ابن ملجم،برک بن عبداللہ تمیمی اورعمروبن بکرتمیمی تینوں ایک جگہ اکٹھے ہوئے اورجن خارجیوں کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نروان میں قتل کروایا تھا ان کے لئے دعائے مغفرت کی اس کے بعد کہنے لگے اگر ہم اپنی جان پیچ کر بھی گمراہوں کے سربراہوں کو قتل کردیں تو ملک کو ان سے نجات مل جائے گی اور اس طرح ہم اپنے بھائیوں کے خون کا بدلہ لے لیں گے چنانچہ ابن ملجم بدبخت نے کہا کہ علی کو میں قتل کروں گا برک نے کہا میں معاویہ کا خاتمہ کروں گا اورعمروبن بکر نے کہا عمروبن عاص سے میں نمٹوں گا۔


چنانچہ یہ تینوں اپنے ناپاک عزائم لیے نکل پڑے اورابن ملجم اس دروازہ کے نیچے آکربیٹھ گیا جہاں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نماز کے لئے نکلا کرتے تھے جس وقت آپ نماز فجر کے لئے نکلے اورلوگوں کو بیدار کرنے کے لئے” نماز نماز “کہہ رہے تھے اورلوگ نیند سے بیدار ہوکر نماز کے لئے اٹھ رہے تھے کہ اسی دوران اس بدبخت نے سیدناعلی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے سر کے اگلے حصے پر وارکیاآپ کے سرسے خون کے بہنے سے آپ کی داڑھی کے بال رنگین ہوگئے جب اس نے وار کیا اس وقت نعرہ بھی لگایا " لا حکم الاللہ لیس لک ولاصحابک یاعلی" یعنی حکومت صرف اللہ کی ہے علی تمہاری یاتمہارے ساتھیوں کی نہیں ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آواز دی اس کو پکڑووہ پکڑا گیا اوربعد میں آپ کے سامنے لایا گیا تو فرمایا اس کو گرفتار رکھو اورقید میں حسن سلوک کا معاملہ کرواگر میں زندہ رہا تو سوچوں گا کیا کروں معاف کروں یا قصاص لوں؟ اوراگر مرجاؤں توایک جان کا بدلہ ایک ہی جان سے لیا جائے اوراس کا مْثلہ نہ کیا جائے
اپنے صاحبزادوں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہماسے فرمایا اے عبدالمطلب کے فرزندومسلمانوں کا بے تکلف خون نہ بہانا تم کہو گے امیرالمومنین قتل کر دیے گئے مگر خبردار سوائے میرے قاتل کے کسی اور کو قتل نہ کرنا۔
دیکھو اگر میں اس کے وار سے مرجاتا ہوں تو اس پر بھی ایک ہی وار کرنا اس کا مْثلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم سے سنا ہے کہ“ خبردار کسی ذی روح کو مار کر اس کا مْثلہ نہ کیاجائے خواہ وہ بھونکنے والا کتا ہی کیوں نہ ہو“۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قاتل ابن ملجم کا کہنا تھا کہ میں نے علی پرایساوار کیا ہے کہ اگر پورے شہر والوں پر یہ وار پڑتا تو سب کے سب مرجاتے خداکی قسم میں نے اپنی تلوار کو ایک مہینہ تک زہر میں بجھایا۔
ایک ہزار میں یہ تلوار لی تھی اورایک ہزار خرچ کرکے اس کو زہر آلود کیا تھا۔مگر دوسری طرف بھی حیدر کرار اورشیر خدا تھے جو شجاعت وبلند ہمتی کے پہاڑ تھے ۔
آپ کی شہادت بروز جمعة المبارک ۱۹مضان المبارک صبح صادق کے وقت ۴۰ہجری میں تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی آپ کے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اورکوفہ کے دارالامارہ میں دفن ہوئے ۔

Your Thoughts and Comments