Jamaa Alquran Hazrat Usman Bin Affan Razi Allah Talah Anha

جامع القرآن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ نے شہادت قبول فرمالی،مدینہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں خونر یزی کی اجازت نہ دی

منگل اگست

Jamaa Alquran Hazrat Usman Bin Affan Razi Allah Talah Anha
پیر فاروق بہاؤالحق شاہ
خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام عثمان،لقب ذوالنورین ہے۔آپ کے والد کا نام عفان بن ابی العاص اور والدہ کا نام اروی بنت کر یز تھا ۔آپ عرب کے مشہور قبیلہ بنی امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھو پھی حضرت عثما ن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نانی تھیں۔
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کا پیغام آپ تک پہنچایا ۔حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک وجیہ شخصیت کے مالک تھے۔گھنی داڑھی ،لمبی زلفیں اور ان پر جب عمامہ زیب تن کرتے تو آپ کی شخصیت مزید نکھر جاتی۔اعلیٰ سیرت وکردار کی بدولت آپ ایام جاہلیت میں بھی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

تجارت کے شعبے سے منسلک ہونے کے باعث آپ کا شمار مکہ کے متمول لوگوں میں ہوتا تھا۔

بنو ہاشم کے بعد سب سے زیادہ اکرام حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبیلہ کو حاصل تھا۔
آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل تھے جبکہ آپ سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مشاورت کا اہم ترین رکن بھی تھے۔یہ اعزاز بہت کم صحابہ کرام کو حاصل ہے کہ آپ کو دوبار ہجرت کا شرف حاصل ہوا ۔اسی وجہ سے آپ کو ذوالحجر تین بھی کہا جاتا ہے۔جب آپ نے راہ خدا میں آبائی وطن ترک کیا اور حبشہ کی طرف تشریف لے گئے تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوط علیہ السلام کے بعد حضرت عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اہل خانہ کے ہمراہ اللہ کی طرف ہجرت کی ہے۔
جب سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ بھی مدینہ تشریف لائے اور اپنے آقا ومولا کی بار گاہ میں حاضر ہو گئے۔ہجرت مدینہ کے بعد جب اسلام وکفر کا پہلا معر کہ درپیش ہوا ،اسی اثنا میں آپ کی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا علیل ہو گئیں جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا۔

بئررومہ کی تعمیر:مدینہ منورہ آمد کے بعد بے شمار مسائل نے سر اٹھایا جس میں سے سب سے اہم مسئلہ پانی کا تھا۔یہاں کا پانی مہاجرین کو راس نہ آیا اور صحابہ کرام طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔میٹھے پانی کا ایک کنواں جو کہ ایک یہودی کی ملکیت تھا حضرت عثمان غنی نے 35ہزار درہم میں خرید کرکے مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ 6ہجری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا ارادہ کیا۔
1400صحابہ کرام آپ کے ہمراہ تھے آپ کو خدشہ تھا کہ کفار مکہ مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔جس پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفیر بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا ۔کچھ دنوں کے بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ لینے کے لئے تمام صحابہ کرام سے بیعت لی۔
جبکہ حضرت عثمان کی طرف سے اپنے دست اقدس کو حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دیا۔یہ بیعت اللہ کریم کو اتنی پسند آئی کہ سورة فتح میں آیت نازل ہوئیں جس میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا(ترجمہ ومفہوم)کہ بے شک اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہو گئے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیٹھ کر (حضرت عثمان کی شہادت کا بدلہ لینے کی)بیعت کر رہے تھے۔

غزوہ تبوک میں مسلمان لشکر کی نصرت:شاہ ولی اللہ دہلوی اپنی کتاب ازالہ الخفاء میں حضرت سالم بن عبداللہ کی ایک رویات نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ تبوک کے سفر میں جتنی بھوک ، پیاس اور سواری کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثال نہیں ملتی۔دوران سفر ایک مرتبہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے بہت بڑی مقدار میں سامان اونٹوں پر لاد کر حضور کی خدمت میں روانہ کیا۔
روایت کے مطابق ان اونٹوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ طویل قطار ہونے کی وجہ سے تاریکی نظر آتی تھی جسے دیکھ کر سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی سے ارشاد فرمایا کہ لوگو تمہارے لئے بہتری آگئی ۔جب سامان اتار ا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ!میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راضی ہوں تو بھی عثمان سے راضی ہو جا۔
یہ جملہ آپ نے ارشاد فرمانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ بھی حضرت عثما ن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دعا کریں۔روایات کے مطابق اس لشکر کے لئے1900اونٹ ایک سو گھوڑے دو سواوقیہ چاندی اور ایک ہزار دینا رشامل تھے۔
آپ نے دور جاہلیت میں بھی کبھی زنانہ کیا۔اور نہ ہی شراب پی اور نہ ہی کسی غیر اخلاقی کام سے آپ کا دامن آلودہ ہوا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔آپ بہت ذہین اور زیرک شخصیت تھے ۔فقہی معاملات پر آپ کی دسترس تھی مسائل کا حل قرآن وسنت سے پیش کرتے ۔آپ کا سب سے عظیم کارنامہ قرآن کریم کو ایک قرات پر جمع کرنا ہے۔آپ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسخہ حاصل کرکے حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن زبیر اور سعید بن العاص کو اس مسودہ کی نقول تیار کروائیں۔
اس کے علاوہ جتنے بھی نسخے موجود تھے۔ان کو نذر آتش کرنے کا حکم جاری کیا۔ترمذی شریف میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ روایت کرتے ہیں کہ سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے۔دنیا و آخرت میں میرا رفیق عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے جبکہ ایک اور روایت میں ہے کہ عثمان جنت میں میرے رفیق ہیں ۔
البدایہ والنھا یہ میں حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اول شب سے طلوع فجر تک حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہے۔
اور فرماتے اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی عثمان سے راضی ہو جا۔حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ امت میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے سیدنا عثمان ہیں۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا سن کر فرمایا اے لوگوں تم پر ہمیشہ تباہی رہے گی۔
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگواس بد اعمالی کی وجہ سے تم پر کوہ احد ٹوٹ پڑے۔شہادت کے وقت نوجوان صحابہ آپ کی حفاظت کے لئے کمر بستہ تھے اور آپ سے اجازت طلب کرتے رہے کہ باغیوں پر حملہ کرکے ان کو تہ تیغ کر دیا جائے۔لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت نہ دی کہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ پہلے شخص بنیں جس کی وجہ سے مدینہ الرسول میں خونریزی ہو۔

Your Thoughts and Comments