Jashn Meelaad Al Nabi SAW

جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

جمعہ نومبر

Jashn Meelaad Al Nabi SAW
پیر فاروق بہاؤ الحق شاہ
جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کا ذکر کرتے ہوئے1400سال گزر چکے ہیں لیکن نہ تو ذکر کرنے کا حق ادا ہو گا اور نہ ہی اس کی تازگی میں کوئی کمی آئی۔اردو زبان میں کئی ادباء،شعرانے اپنے اپنے اندازمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد پڑھا اور سب نے اپنی بساط کے مطابق بارگاہ رسالت میں اپنا ہدیہ عقیدت پیش کیا لیکن دور جدید کے اردو میں لکھی گئی سیرت کی کتابوں میں میں ایک خوبصورت اضافہ ضیاء النبی ہے جس کے خالق ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ہیں جنہوں نے سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا تذکرہ اتنے والہانہ انداز میں کیا کہ خود اردو کو اس پر رشک آیا ہو گا۔

میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت بیان کرتے ہیں”یہ ایک بدیہ امر ہے کہ جب کسی کو انعام سے بہرہ در کیا جاتاہے تو اس کا دل مسرت وانبساط کے جذبات سے معمور ہو جاتاہے اس کی نگاہ میں اس نعمت کی جتنی قدروقیمت اور اہمیت ہو گی اسی نیت سے اس کی مسرت وانبساط کی کیفیت ہو گی۔

لیکن جس چیز کے ملنے پر خوشی کے جذبات میں طلاطم پیدا نہیں ہوتا تو اس کا واحد مطلب یہ ہوتاہے کہ اس چیز کی اس شخص کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ۔

اگر یہ چیز اسے نہ ملتی تب بھی اسے افسوس نہ ہوتا۔مل گئی ہے تو اسے کوئی خوشی نہیں۔شمع جمال مصطفوی کے پروانے ایسے قدر ناشناس نہیں نبوت کا ماہ تمام طلوع ہواتو ان کی زندگی کے آنگن میں مسرتوں اور شادمانیوں کی چاندنی چٹکنے لگی۔ان کے دلوں میں غنچے کھل کر شگفتہ پھول بن گئے۔وہ یہ جانتے ہوئے اور تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ اس احساس عظیم پر شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے پھر بھی وہ اپنی سمجھ کے مطابق بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر میں رگئے اور اس کی حمدوثناء کے گیت گانے لگے“۔
آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے ضمن میں بہت کم تذکرہ آپ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ کا کیا جاتا ہے۔صاحب ضیاء النبی نے اتنے دلپزیر انداز میں حضرت عبداللہ کا ذکر فرمایا کہ جو ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو اس دنیا میں تشریف لائے ۔اس ماہ مبارک اور اس موقع پر بیان کرنے کے لئے صاحب ضیاء النبی نے جس اسلوب کا اختیارکیا وہ عدیم المثال ہے۔
القابات کا خوبصورت انتخاب،الفاظ کے چناؤ میں ذاتی عقیدت کا تاثراور سب سے بڑھ کر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سیل رواں کو ضبط کے بندھن میں باندھ کر جن حسین الفاظ کاانتخاب کیا اس کی جدید اردو ادب میں مثال ملنا مشکل ہے۔ملاحظہ فرمائیے ۔”ربیع الاول کا مہینہ تھا۔دو شنبہ کا دن تھا اور صبح صادق کی ضیاء بار سہانی گھڑی تھی۔رات کی بھیانک سیاہی چھٹ رہی تھی اور دن کا اجالا پھیلنے لگا تھا جب مکہ کے سردار حضر ت عبداللہ مطلب کی جواں سال بیوہ بہونے حسرت ویاس کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے سادہ سے مکان میں ازلی سعادتوں اور ابدی مسرتوں کا نور چمکا۔

اسی مقام پر آپ کی ولادت با سعادت کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں”ایسا مولود تولدہواجس کے من موہنے مکھڑے نے نہ صرفانی غمزدہ جاں کو سچی خوشیوں سے مسرور نہیں کیا بلکہ ہر درد کے مارے کے لبوں پر مسکراہٹیں کھیلنے لگیں۔اس نورانی پیکر کے جوہ فرمانے سے صرف حضرت عبداللہ کا کلبہ احزاں جگمگانے لگتا بلکہ جہاں کہیں بھی مایوسیوں اور حرماں نصیبوں نے اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے وہاں امید کی کرنیں روشنی پھیلانے لگیں اور ٹوٹے دلوں کو بہلانے لگیں۔
صرف جزیرہ عرب کا بخت خفتہ بیدار نہیں ہوا بلکہ وہ انسانیت جو صدیوں سے ھواوہوس کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی اور ظلم وستم کے آہنی شکنجوں میں کسی ہوئی کراہ رہی تھی اس کو ہر قسم کے ذہنی معاشی اور سیاسی غلامی سے رہائی کا مژدہ جانفزاملا“۔
(ضیاء القرآن جلددوم)۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا تذکرہ جمیل کرتے ہوئے آپ مزید تحریر فرماتے ہیں۔
”حضور کی ولادت باسعادت سوموارکے روز بارہ ربیع الاول شریف کو ہوئی۔بعض نے کہا کہ ربیع الاول کی سترہ تاریخ تھی جبکہ بعض نے کہا کہ ربیع الاول کی نو تاریخ تھی ۔حضرت آمنہ فرماتی ہیں کہ جس رات سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی میں نے ایک نور دیکھا جس کی روشنی سے شام کے محلات جگمگااٹھے۔یہاں تک کہ میں ان کو دیکھ رہی تھی دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو حضرت آمنہ سے ایک نور نکلا جس نے سارے گھر کو بقعہ نور بنا دیا ہر طرف نور ہی نور نظر آتا تھا۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کو حضور کی دایہ بننے کا شرف نصیب ہوا جس پر وہ فخر کیا کرتی تھیں۔وہ ارشاد فرماتی ہیں کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو حضور کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں پراٹھا دیا اور میں نے ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی تیرا رب تجھ پر رحم فرمائے۔
حضرت شفاء فرماتی ہیں کہ اس نور مجسم کے ظاہر ہونے سے پہلے میرے سامنے مشرق ومغرب میں روشنی پھیل گئی۔یہاں تک کہ میں نے شام کے بعض محلات کو دیکھا۔ولادت با سعادت کے وقت کثیر معجزات وقوع پذیر ہوئے جن کا اجمالی تذکرہ ضیاء النبی شریف میں موجود ہے۔
تاہم میں صرف ایک روایت نقل کرنے پر اکتفا کروں گا۔حضور ضیاء الامت روایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں”حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ میں اس رات کعبہ میں تھا۔
میں نے بتوں کو دیکھا کہ بت اپنی اپنی جگہ پر سجدہ سر کے بل کر پڑے تھے اور دیوار کعبہ سے یہ آواز آرہی ہے(ترجمہ)”مصطفی اور مختار پیدا ہوا۔اس کے ہاتھ کفار ہلاک ہوں گے اور کعبہ بتوں سے پاک ہو گا اور وہ اللہ کی عبادت کا حکم دے گا جو حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے“۔اس مختصر مضمون کے آخر میں میلاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منانے کی تحسین کرتے ہوئے صاحب ضیاء النبی کچھ اس طرح رقم طراز ہوئے”سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد وہ عظیم المرتبت انعام ہے جس کو منعم حقیقی نے اپنی قدرت کی زبان سے خصوصی طور پر علیحدہ ذکر کیا ہے(ترجمہ)یقینا بڑا احسان فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جب اس نے بھیجا ان میں ایک رسول انہیں میں سے۔
پڑھتا ہے ان پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں اور پاک کرتا ہے انہیں اور سکھاتا ہے انہیں کتاب وحکمت اگر چہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔(سورة آل عمران164)اس انعام کو خصوصی شان یہ ہے کہ دیگر انعامات اپنوں اور بیگانوں ،خاص وعام،مومن اور کافرکے لئے ہیں اور اس لطف وکرم سے صرف اہل ایمان کو سرفراز فرمایا۔غلامان مصطفی ہر زمانہ میں اپنے رب کریم کی اس نعمت کبری کا شکر ادا کرتے آئے ہیں ۔زمانے کے تقاضے کے اعتبار سے شکر کے انداز کو مختلف تھے لیکن جذبہ شکر پر عمل کا روح رواں رہا۔اور جو خوش بخت اس نعمت کی قدروقیمت سے آگاہ ہیں وہ تاابداپنی فہم و استعداد کے مطابق اپنے رحیم وکریم پر وردگار کا شکر ادا کرتے رہیں گے۔

Your Thoughts and Comments