Seerat Shahadat Hazrat Imam Hussain RA

سیرت شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی بھی خبر دے دی گئی تھی۔

پیر ستمبر

Seerat Shahadat Hazrat Imam Hussain RA

صاحبزادہ مفتی خلیل احمد
سیدالشہداء حضرت سیّد نا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارک5شعبان المعظم4ھ کومدینہ طیبہ میں ہوئی۔حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی بھی خبر دے دی گئی تھی۔امیر المومنین حضرت سیّدنا علی‘حضرت سیّدتنا فاطمہ الزہراء اور دیگر صحابہ کبار رضی اللہ عنہ واہل بیت کے جاں نثار سبھی لوگ آپ کے زمانہ شیر خوارگی ہی میں جان گئے تھے کہ یہ فرزندار جمند ظلم وستم کرنے والوں کے ہاتھوں شہید کردیا جائے گا۔


ارض طف مقام شہادت:
اُم الموٴمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ‘فرماتی ہیں‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی کہ میرا بیٹا سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ میرے بعد ٓ”ارض طف“میں شہید کیا جائے گا ۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اُس مقام کی یہ مٹی لا کردی ہے اور بتایا ہے کہ یہ زمین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ بنے گی“۔

(المعجم الکبیر للطبرانی ‘مستدرک حاکم)۔حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے رسول کریم رؤف ورحیم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرا یہ بیٹا حسین رضی اللہ عنہ جس جگہ شہید کیا جائے گا اُس کا نام ”کر بلا “ہے ۔لہٰذا جو شخص تم میں سے اُس وقت وہاں حاضر ہو وہ ضرور اُن کی مدد کرے“۔(البدایة والنہا یة‘کنز العمال ‘تہذیب تاریخ دمشق لا بن عسا کر)حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ معرکہ”کربلا “میں حاضر تھے اور حضرت سیّدنا امام حسین کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پاک میں حاضری دینے کیلئے خداوندقدوس سے اجازت طلب کی ‘جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بار گاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو اُس وقت حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور حضور نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومنے اور پیار کرنے لگے ۔
فرشتہ نے عرض کیا :”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے پیار کرتے ہیں؟حضور نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں!۔اُس نے کہا:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سیّد نا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے گی“۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں اُن کی شہادت گاہ کی مٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھادوں ۔
پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے اُمّ الموٴمنین حضرت سیّد ہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا۔ایک روایت میں ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے اُمّ سلمیٰ !جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیا گیا ہے ۔اُمّ الموٴمنین حضرت سیّدہ اُمّ سلمیٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اُس مٹی کو شیشی میں بند کر لیا جو سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خون بن گئی۔
(صواعق محرقہ ص118)
ابن سعد روایت کرتے ہیں کہ امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے موقع پر کر بلا سے گزر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اُس زمین کا نام دریافت فرمایا ۔لوگوں نے کہا اس زمین کانام کر بلا ہے۔کر بلا کا نام سنتے ہی بہت روئے۔پھر فرمایا کہ ایک روز میں حضور نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رورہے ہیں ‘میں نے عرض کیا‘یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں رورہے ہیں؟تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ابھی ابھی میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے تھے ‘اُنہوں نے مجھے خبر دی:”میرا بیٹا حسین رضی اللہ عنہ دریائے فرات کے کنارے اُس جگہ پر شہید کیا جائے گاجس کو کر بلا کہتے ہیں“۔
(البدایة والنہایة جلد 4جز8ص188)
اس حدیث شریف کو حضرت امام ابو داؤد رحمة اللہ علیہ اور حضرت امام حاکم رحمة اللہ علیہ نے حضرت اُمّ فضل بنت حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ‘آپ فرماتی ہیں ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے یہ خبر دی کہ میری اُمت عنقریب میرے اس بیٹے حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے گی اور (حضرت )جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اُس جگہ (مقام شہادت)کی تھوڑی سی سرخ مٹی بھی لا کر دی“۔
(مشکوٰة ‘دلائل النبوة فتح الباری)
قاتل ابلق رنگ کا کتا:
ابن عسا کر رحمة اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد بن عمر بن حسن رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم کر بلا میں نہر فرات پر حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شمر ذی الجوشن کو دیکھ کر فرمایا:”اللہ عزوجل اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا‘میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک ابلق رنگ کا کتا میرے اہل بیت کے خون میں منہ ماررہا ہے“۔(البدایة والنہایة جلد4جز8ص178۔)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل اہل بیت کو ”اہلق رنگ کا کتا“یعنی سفید داغ والا کتا قرار دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق قاتل امام ‘شمر ذی الجوشن کے جسم پر کوڑھ برص کی بیماری کے باعث سفید داغ تھے۔

حضرت امام بیہقی رحمة اللہ علیہ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمة اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔آپ اُس وقت اُمّ الموٴمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دولت کدہ میں جلوہ افروز تھے اور حضرت جبرائیل امین علیہ السلام بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے۔
حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کیا،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!عنقریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ان کو شہید کر دے گی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ جگہ بتادوں جہاں ان کو شہید کیا جائے گا۔پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ہاتھ سے عراق کی جانب طف کی طرف اشارہ کیا اور اُس جگہ کی سرخ مٹہ بھی اُٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی۔

(مجمع الزوائد جلد 9ص188۔)
حضرت یحییٰ حضر می رحمة اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جنگ صفین کے سفر میں میں امیر الموٴمنین حضرت سیّد نا مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔جب آپ نینوی (کربلا)کے برابر پہنچے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا:”اے ابو عبداللہ امام حسین رضی اللہ عنہ !فرات کے کنارے صبر کرنا میں نے عرض کیا کیا بات ہے؟آپ نے فرمایا نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایاتھا کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نہر فرات کے کنارے پر شہید کیاجائے گا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اُس جگہ کی مٹھی بھر مٹی دکھائی۔
(البدایة والنہایة)حضرت امام حاکم رحمة اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ:اللہ(تبارک وتعالیٰ جل مجد ئہ ا لکریم)نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے انتقام میں ستر ہزار قتل کئے تھے اور اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے بدلہ میں ایک لاکھ چالیس ہزار قتل کروں گا“۔(البدایة والنہایة ،مستدرک حاکم)

Your Thoughts and Comments