کلین مائی کراچی مہم کے پہلے دن 7152ٹن کچرا اٹھایا گیا ہے ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

مہم کو ناکام بنانے کے لئے کراچی کے نام نہاد اونر اور دوست کہلانے والوں نے بھاری پتھر سیوریج لائنوں میں ڈالے تھے جس کسی نے بھی یہ پتھر گٹروں میں ڈالے ہیں ، وہ اس شہر اور شہریوں کا دشمن ہے،ہماری مخالفت بھلے کریں لیکن شہریوں کو سزا نہ دیں میں صفائی کر کے اسے ڈی ایم سی کے حوالے کروں گا،اس کے بعد ڈی ایم سیز کو اسے برقراررکھنا ہے ، صفائی مہم کے دوسرے روز شہر کے دورے کے موقع پر گفتگو

اتوار ستمبر 19:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2019ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کلین مائی کراچی مہم کے پہلے دن 7152ٹن کچرا اٹھایا گیا ہے جبکہ دوسرے دن بھی بھاری پتھر 24انچ کی سیوریج لائن ملیر 15سے نکالے گئے ہیں جوکہ کراچی کے نام نہاد اونر اور دوست کہلائے جانے والے نے اس مہم کو ناکام بنانے کے لیے ڈالے تھے۔ انہوں نے یہ بات دوسرے دن کراچی شہر کے دورے کے موقع پر کہی ۔

وزیراعلی سندھ کے ہمراہ صوبائی وزرا سعید غنی ، ناصر شاہ ، مرتضی وہاب ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ روشن شیخ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ تھے ۔وزیراعلی سندھ نے اپنے دورے کا آغاز لیاری، ڈسٹرکٹ ویسٹ سے کیا۔ وزیراعلی سندھ نے ملیر، بھینس کالونی کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعلی سندھ جب لیاری پہنچے تو جاوید ناگوری اور چیئرمین ڈی ایم سی سائوتھ ایاز ملک نے ان کا استقبال کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے لیاقت کالونی ، نیاآباد کا دورہ کیا جہاں وزیراعلی سندھ عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔وزیراعلی سندھ نے کمشنر کراچی کو لیاری سے تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت دیں ۔انہوں نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کا کام روزانہ کی اسائنمنٹ کے طور پر کرنا ہے۔وزیراعلی سندھ نے ڈی آئی جی سی آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا۔ ڈی آئی جی کا دفتر لیاری میں ہے لیکن ان کو اپنے آفس کے باہر کچرا نظر نہیں آرہا ۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دفتر کے باہر صفائی کروائیں۔وزیراعلی سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر پولیس افسران کو اپنے دفتر سے خراب گاڑیاں فوری نکالنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے لیاری کی جی ٹی ایس کابھی دورہ کیا۔وزیراعلی سندھ نے ڈی ایم سی سائوتھ اور ڈی سی کو ہدایات دی تھیں ۔ وزیراعلی سندھ نے لکڑی گونڈل علاقے کا دورہ کیا۔

لکڑی گونڈل ایریا میں عارضی جی ٹی ایس بنائی گئی ہے ۔ یہ مچھر کالونی کے پاس کے پی ٹی کی زمین میں ہے ۔ سندھ حکومت یہاں صفائی کر وا رہی ہے۔وزیراعلی سندھ نے کمشنر کو کہا کہ کے پی ٹی والوں کو کہیں کہ اپنے علاقے کو صاف کریں۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹرک اسٹینڈ، ماڑی پور کا دورہ کیا ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ہاکس بے روڈ پر پرانی گاڑیاں پارک کرنے پر سخت برہم ہوئے ۔

وزیر اعلی سندھ نے ایس ایس پی ویسٹ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں فوری روڈ سے ہٹائیں۔وزیراعلی سندھ نے ڈی ایم سی ویسٹ پر روڈ پر صفائی نہ ہونے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ وزیراعلی سندھ نے ایم سی ویسٹ کو ہدایت کی کہ آپ اپنے علاقے کو بہتر کریں۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ماڑی پور ، مشرف کالونی موڑ اور عارضی جی ٹی ایس کا بھی دورہ کیا۔

وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ یہاں کل رات تک14کچرے کی گاڑیاں لائی گئیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ مکمل ریکارڈ رکھا جائے، میں ایک ایک رسید چیک کروں گا۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ہالٹ ، کالا بورڈ، ملیر 15کا دورہ کیا۔ وزیراعلی سندھ نے وہاں موجود گٹر کا بھی معائنہ کیا اس کے بارے میں وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ اس گٹر میں بھاری پتھر نکلے ہیں ۔

وزیر اعلی سندھ کو یہ بھی بتایاگیا کہ پی ٹی آئی کے ایم این اے اکرم نے یہاں دھرنا دیا تھا۔لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت یہاں اس گٹر میں پتھر ڈالے گئے ہوں گے۔وزیرا علی سندھ نے کہا کہ جس کسی نے بھی یہ پتھر گٹروں میں ڈالے ہیں ، وہ اس شہر اور شہریوں کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مخالفت بھلے کریں لیکن شہریوں کو سزا نہ دیں۔وزیراعلی سندھ نے قائد آباد پل کے نیچے والے ایریا کا معائنہ بھی کیا۔

وزیراعلی سندھ نے ڈی سی ملیر کو پل کے ارد گرد تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ پل کے نیچے صفائی کا خیال رکھا جائے۔وزیراعلی سندھ نے بسوں کے اسٹاپ کو بھی ریگولیٹ کرنے کی ہدایت کی۔پارٹی اراکین نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا بھینس کالونی ریلوے پھاٹک پر شاندار استقبال کیا۔ وزیراعلی سندھ کا جئے بھٹو ، جئے مراد علی شاہ کے نعروں سے استقبال کیاگیا۔

وزیراعلی سندھ گاڑی سے اتر کر پارٹی ورکروں سے ملے۔وزیراعلی سندھ نے بھینس کالونی میں کچرے کی لفٹنگ کا جائزہ لیا۔ وزیراعلی سندھ لوگوں سے ملے اور انہیں یقین دلایا کہ صفائی کا کام زبردست طریقے سے ہوگا۔وزیراعلی سندھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج صفائی مہم کے دوسرا دن ہے۔میں اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائوں گا۔یہ کام لوکل گورنمنٹ کا ہے، کنٹونمنٹ کا ہے ، کے پی ٹی کا ہے لیکن الزام میرے اوپر ہے، اس وجہ سے میں نے اس کام کا بیڑا اٹھا یا ہے۔

میں صفائی کر کے اسے ڈی ایم سی کے حوالے کروں گا،اس کے بعد ڈی ایم سیز کو اسے برقراررکھنا ہے ۔یہ پتھر ملیر ہالٹ پر گٹر میں ڈالے گئے تھے۔ ایک ایم این اے نے وہاں دھرنا دیا تھا، مقصد شاید شہر کے ڈرینیج سسٹم کو تباہ کرنے کا تھا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جس کو سیاست کرنی ہے کرے، عوام دشمنی نہ کرے۔وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نی21ستمبر سے ایک مہینے کی صفائی مہم شروع کی ہے آج دوسرا دن ہے، اتوار کا دن ہے اور میں صبح سے ہی نکل آیا ہوں اور میں میڈیا کے دوستوں کا شکرگزار ہوں جو ہمارے ساتھ ہیں ۔

آج میں نے لیاری سے اپنے دورے کا آغاز کیا ڈسٹرکٹ سائوتھ سے اور پھر ڈسٹرکٹ ویسٹ مچھر کالونی وغیرہ یہ سارا علاقہ دیکھا اور اس وقت ملیر میں ہوں ۔ جو کل میں نے ہدایات دی تھیں اس کو چیک کررہا ہوں اور نظر ثانی بھی کر رہا ہوں جیسا کہ میں نے ڈی ایم سیز کو ہدایات دی تھیں کہ جو جو بھی گاربنیج کے ڈرمز ہیں ان کی نشاندہی کریں ، ان کو ڈاکیومنٹ کریں اور پھر وہ پہلے عارضی جی ٹی ایس میں پہنچا کر اورپھر لینڈ فل سائٹ میں لے جائیں ۔

یہاں پر بھینس کالونی میں بہت زیادہ کچرا اٹھنا شروع ہوگیا ہے میں صرف یہاں کے مقامی لوگوں سے کہتا ہوں کہ صفائی تو ہوجائے گی اور جب تک ہم اپنی مدد آپ نہیں کریں گے تب تک یہ حکومت کام نہیں کرسکتی ، میں نے کل بھی بتایا تھا کہ یہ کام صوبائی حکومت کا نہیں ہے ، یہ کام ڈی ایم سیز کا ہے، یہ کا م کنٹونمنٹ کا ہے، یہ کا م جس حدود میں جو لوکل گورنمنٹ آتی ہے ا س کا ہے اس کے باوجود تنقید کا نشانہ صوبائی حکومت کو بنایا جارہا ہے ۔

ہم نے صفائی مہم کی شروعات کی ہے ہم انشا اللہ کراچی کو صاف کر کے دکھائیں گے لیکن اس کے بعد مینٹین کرنا لوکل گورنمنٹ کا کام ہے اور جہاں جہاں جو ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا م کررہی ہے وہاں پر ان کا کام ہے ۔ ان سے میں مدد چاہوں گا۔ماڑی پور روڈ ریلوے کی زمین پر بہت زیادہ کچرا ہے ۔ وزیراعلی سندھ سے کراچی کے کل کے دورے سے متعلق پوچھے گئے سوال اور ساتھ ساتھ وزیراعلی سندھ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اب تک آپ کے دورے سے کیا نتائج اخذ کیے جاچکے ہیں اور کتنا فیصد کراچی کا حصہ صاف ہوچکا ہے اور آپ کے یہ دورے کب تک جاری رہیں گے، کے جواب میں وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ میں ان دونوں سوالوں کے جواب دے دیتا ہوں کہ میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ کراچی کے اندر کنٹونمنٹ ایریاز بھی ہیں، ریلورے کے انڈر بھی زمینین ہیں اوراسی طرح کے پی ٹی اور دیگر ادارے بھی ہیں جن کی زمینیں ہیں۔

ریلورے لائن کے اوپر جہاں سے میں گزر رہاتھا۔ حالانکہ یہ ہماری کے سی آر کی ریلوے لائن ہے ، کراچی میں جہاں ہمیں سرکلر ریلوے بنانی ہے ۔ سرکلر ریلوے کی زمین تو ہمیں نہیں دے رہے ہیں ، میں نے ان سے سرکاری سطح پر بھی بات کی ہے کہ یہ زمین ہمیں دے دی جائے کیونکہ یہ زمین سندھ حکومت کی ہے ، سندھ کے لوگوں کی ہے ۔ یہ کے سی آر کراچی کے لوگوں کے لیے بنایا جارہا ہے ۔

وہ زمین تو ہمیں نہیں دے رہے مگر اس پر کچرا پھینک رہے ہیں ۔اس وقت صفائی میں کررہاہوں ،اس کے بعد مینٹین ان ہی کو کرنا ہے جب تک یہ زمین ہمیں نہیں دے دیتے ۔ دوسرا جو آپ نے سوال کیا تھا تو کل سے ہم نے یہ کام شروع کیا ہے اور انشا اللہ پورا مہینہ میں خود بھی اس کا معائنہ کرتا رہوں گا، صفائی کے کام کی خود نگرانی کروں گااور اس کا معائنہ کرتا رہوں گا۔

مجھے 6 کے 6 ڈسٹرکٹ میں کمیٹیز نوٹیفائی کرنی ہیں میں نے خود ہر ڈسٹرکٹ کا دورہ کیا ہے اور میں خود بھی نوٹیفائی کروں گااور منسٹر انچارج اس کا دورہ کریں گے۔ ملیر میں سیوریج لائن میں سے پتھر اور بوریا ں نکلنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرااعلی سندھ نے کہا کہ انشا اللہ ایسے عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا ۔ میئر صاحب کو میں نے مدعو نہیں کیا تھا وہ کل تھے جو کہ اچھی بات ہے ۔ میں نے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ ذرہ دور ہٹ جائیں ہمیں کام کرنے دیں اور گورنر صاحب کا تو اس میں کوئی کردار ہے ہی نہیں ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments