علی زیدی کو وزیراعلیٰ سے سوال پوچھنا ہے تو الیکشن لڑ کر سندھ اسمبلی میں آئیں ،مرتضیٰ وہاب

تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے متنازعہ مردم شماری کو منظور کرانے کا منصوبہ تیار کیا، پیپلزپارٹی سندھ کا مقدمہ لڑتی رہی گی،ترجمان حکومت سندھ

بدھ جنوری 17:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے متنازعہ مردم شماری کو منظور کرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن پیپلزپارٹی سندھ کا مقدمہ لڑتی رہی گی۔ انہوں نے وفاقی وزیر علی زیدی کو مشورہ دیا کہ اگر وزیر اعلی سندھ سے سوال پوچھنا ہے تو الیکشن لڑ کر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوجائیں کیونکہ الیکٹ تو علی زیدی ہونگے نہیں، بیرسٹر مرتضی وہاب نے وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث عوامی مسائل، مہنگائی، گیا بجلی کی قلت پر پی ٹی آئی حکومت کو حدف تنقید بنایا بدھ کو سندھ اسمبلی میں کمیٹی روم میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کی بات نہیں مانتے اور قانون پر عمل بھی نہیں کرتیکم از کم اپنے فیصلوں کا تو احترام کریں،انہوں نے خود فیصلہ کیا تھا کہ مردم شماری سے متعلق بنائی گئی کمیٹی صوبوں کا موقف سن کر فیصلہ کرے گی لیکن کمیٹی نے بغیر صوبوں کا موقف سنے رپورٹ کمیٹی اجلاس میں پیش کی اور کابینہ نے خلاف قانون رپورٹ کی منظوری دے دی رپورٹ میں وفاقی وزیر امین الحق کے اعتراضات کا ذکر ہے لیکن انہوں نے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے مگر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سندھ کا مقدمہ نہیں لڑا۔

(جاری ہے)

ثابت ہواکہ اعتراض صرف سندھ حکومت نے کیاہیباقی سب راضی ہیں دوصفحات کی رپورٹ میں کہیں بھی سندھ کے اعتراضات کاذکرنہیں کیاگیا وفاقی وزیر علی زیدی کومخاطب کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ سوال پوچھنے کا بہت شوق ہے تو کبھی وزیراعظم سے پوچھیں کہ نوٹس لینے کے بعد آٹے،چینی کی قمیتیں کم کیوں نہیں ہوئیں،جس آئین پر حلف لیا ہے اسے پڑھیں، کوئی وزیر اعلی اور کوئی وفاقی وزیر ایک دوسرے کو جواب دہ نہیں سوال پوچھنے کا شوق ہے تو وہ سندھ اسمبلی میں آئے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ علی زیدی نے آئین کے تحت حلف لیاہے آئین پاکستان کامطالعہ کرلیں کوئی صوبائی حکومت وفاق کوجوابدہ نہیں ہے میں ان کے اداروں پرسوالات کرسکتاہوں پراس کاایک طریقہ کارہے۔

بریکنگ نیوزکے چکرمیں یہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ میٹنگ میں میں نے علی زیدی کوکہا کہ یہ رویہ مناسب نہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں کسی سرکاری میٹنگ میں اس طرح کا رویہ نامناسب تھا علی زیدی جب اٹھ کرجانے لگے تو بھی میں نے کہا کہ کہ یہ بدقسمتی ہے اخلاقی اعتبارسے اگروہ درست ہیں توہونگے میں اس طرح کے رویے پریقین نہیں رکھتا یہ کہنا کہ میری وجہ سے یہ سب ہوا غلط بات ہیوزیراعظم بتائے کہ چینی کی قیمت سینچری کیوں کراس کررہی ہی پیٹرولیم بحران کیسے ہوا سرکیولرڈیٹ گیاراسوارب سے 2400ارب پہنچ چکاہے سوال پوچھیں کہ کون کون سے وفاقی وزرا عوام کااستحصال کرتے ہیں۔

کس مشیرکوبڑی رقم کی ادائیگی ہونے جارہی ہے ایک عظیم الشان عمارت کوبھی ریگیولرائیز کیاجارہا ہے کہاجارہا ہیکہ وزیراعظم کی اس میں دلچسپی ہے وزیراعظم سے سوال پوچھیں کہ ماضی کی حکومتوں کے فائرٹینڈرکب اداروں کے حوالے کئے جائیں گے وزیراعظم ہائوس میں حیدرآباد یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی کہاں ہے وہ یونیورسٹی وزیراعظم ہاس اور گورنرہائوس میں درسگاہیں کب بن رہی ہیں عوام کو ان سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں انکا کہنا تھا کہ آج وزیر اعلی سندھ کو مشترکہ مفادات کونسل کا مقدمہ لڑنا تھا لیکن وزیر اعظم نے اجلاس ملتوی کردیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments