وفاقی ٹیکس محتسب کے قانون اوررولز ریگولیشن میں ترمیم لاکر انہیں بزنس فرینڈلی بنایا جائے،مقصودانورپرویز

ایف بی آر کی جانب سے روکے گئے بزنس کمیونٹی کے ری فنڈز کی ادائیگیوں میں محکمہ وفاقی ٹیکس محتسب اپنا موثر کردار ادا کرے،،،سرحد چیمبر

وفاقی ٹیکس محتسب کے قانون اوررولز ریگولیشن میں ترمیم لاکر انہیں بزنس ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 نومبر2019ء)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود انور پرویزنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی ٹیکس محتسب کے قانون اوررولز ریگولیشن میں ترمیم لاکر انہیں بزنس فرینڈلی بنایا جائے اور ایف بی آر کی جانب سے روکے گئے بزنس کمیونٹی کے ری فنڈز کی ادائیگیوں میں محکمہ وفاقی ٹیکس محتسب اپنا موثر کردار ادا کرے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی ایڈوائزرز وفاقی ٹیکس محتسب عبدالودوداور طارق احمد نواز کے دورہ سرحد چیمبر کے موقع پرمنعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر شاہد حسین ‘ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین احسان اللہ ‘شمس الرحیم اورعابد اللہ خان یوسفزئی ‘ صدر گل ‘ محمد آصف خان ‘ راشد اقبال صدیقی ‘ فضل واحد سمیت صنعت و تجارت سے تعلق رکھنے والے افراد اور ایف ٹی او آفس کے حکام بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود ا نور پرویز نے وفاقی ٹیکس محتسب کے ادارے کو حقیقی معنوں میں ٹیکس گزاروں کی شکایات کے ازالے اور اُنہیں انصاف دلانے کے لئے موثر ترین فورم قرار دیا اوربزنس کمیونٹی سے کہا کہ وہ انکم ٹیکس ،ْ کسٹمز ،ْ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز سے متعلقہ مسائل سمیت ایف بی آر کے ماتحت ٹیکس محکموں کی ناانصافی اور امتیازی سلوک کے خلاف ایف ٹی او ادارہ کی خدمات حاصل کریں اور اپنی شکایات اس ادارہ تک پہنچائیں تاکہ انہیں فوری اور موثر ریلیف مل سکے۔

انہوں نے بزنس کمیونٹی کیلئے ایف ٹی او ادارہ کی بزنس فرینڈلی پالیسیوں اور فوری انصاف کے حصول کے لئے خدمات کو سراہا اور کہا کہ ٹیکس گزاروں کی شکایات پر آزادانہ تحقیقات کرکے ایف بی آر کو 47 سی45 دن کے اندر ضروری اقدامات اٹھانے کا حکم دینا اس ادارے کی خاصیت ہے جس سے بزنس کمیونٹی کو ریلیف بھی مل رہا ہے ۔ انہوں نے سرحد چیمبر اور صوبائی ٹیکس محتسب ادارہ کے مابین قریبی روابط کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی وجہ سے بہت سی مشکلات سے دوچار ہے اس لئے ایف ٹی او کا ادارہ اس صوبہ کی بزنس کمیونٹی کوخصوصی اہمیت دے اورٹیکسوں سے متعلق مسائل کے حل کیلئے اور ایف بی آر کی جانب سے روکے گئے بزنس کمیونٹی کے ری فنڈز کی ادائیگیوں میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔

انہوں نے وفاقی ٹیکس محتسب کے قوانین اور رولز کو مزید بزنس فرینڈلی بنانے اور اُنہیں انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق از سرنو مرتب کرنے کی ضرورت پر زور بھی دیا۔اس موقع پرصوبائی ایڈوائزر وفاقی ٹیکس محتسب عبدالودوداور طارق احمد نواز نے سرحد چیمبر کے صدر کو یقین دلایا کہ ایف ٹی او کا ادارہ ٹیکس گزاروں کے ساتھ ہونیوالے امتیازی سلوک اور ناانصافی پر مبنی فیصلوں کے خلاف اپنا اہم اور موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے ٹیکس گزاروں سے کہا کہ وہ اپنی شکایات شناختی کارڈ اور ایک سادہ کاغذ پر درخواست کے ذریعے ایف ٹی او کے ادارہ کو بھجوا سکتے ہیں جن پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی او کا ادارہ ٹیکس گزاروں کے ساتھ ایف بی آر کے ماتحت ٹیکس محکموں کی جانب سے بد انتظامی برتنے پر اُن سے باز پرُس کرے گا اور ناانصافی کاشکار ہونیوالے کاروباری طبقے کی شکایات کی تحقیقات کرکے اُن کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں کا ازالہ کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس حکام کا ٹیکس گزاروں کے خطوط کا جواب نہ دینا ان کے معاملات اور مقدمات میں غفلت برتنا ،ْ تاخیر کرنا ،ْ اپنے اختیارات کے استعمال میں تجاوز کرنا ،ْ ری فنڈز اور ری بیٹس کو ناجائز طور پر روکنا اور ٹیکس وصولی میں غیر قانونی دبائو کے طریقہ اختیار کرنا بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے جس کی ایف ٹی او کا ادارہ کسی صورت اجازت نہیں دے گا ۔ انہوں نے سرحد چیمبر کے صدر کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔

Your Thoughts and Comments