26 جنوری بھارتی یوم جمہوریہ نہیں یوم سیاہ ہے

26 جنوری بھارت کا یوم جمہوریہ ہے۔ جبکہ حقیقت میں یہ اس نام نہاد بھارتی سامراج کے چہرے پر پڑا وہ سنہری نقاب ہے جس کی آڑ لے کر بھارت اپنا مکروہ ظالمانہ سامراجی چہرہ چھپا کر دنیا کو دھوکا دیتا ہے۔

جمعہ جنوری

26 January Bharti Youm e Jamhooria Nehin Youm e Siah Hai
جی این بھٹ:
26 جنوری بھارت کا یوم جمہوریہ ہے۔ جبکہ حقیقت میں یہ اس نام نہاد بھارتی سامراج کے چہرے پر پڑا وہ سنہری نقاب ہے جس کی آڑ لے کر بھارت اپنا مکروہ ظالمانہ سامراجی چہرہ چھپا کر دنیا کو دھوکا دیتا ہے۔ جموں کشمیر پر بھارتی غاضبانہ قبضے کے بعد یہاں کے غیور عوام ہر سال 26 جنوری کا دن یوم سیاہ کے طور پر منا کر دنیا کو بھارت مکروہ سامراجی چہرہ دکھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھونگ رچائے خود کو ایک سیکولر جمہوری ملک ثابت کرنے کا ڈھول پیٹے کشمیر میں جاری اس کے ظالمانہ غاضبانہ کالے قوانین کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ کشمیری اس دن کو یوم سیاہ یا بلیک ڈے کے طور پر منائیں۔یوں تو 1947ء میں ریاست جموں کشمیر پر بھارتی فوجی کارروائی اور قبضے کیخلاف کشمیری روز اول سے ہی سرپر پیکار سے ہیں مگر 1989ء سے جس بے جگری سے کشمیریوں نے بھارت کی غاصب 7 لاکھ مسلح افواج کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

(جاری ہے)

دنیا کی بہت کی کہ تحاریک آزادی میں ایک محصور علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں سفاک مسلح افواج کے ساتھ جنہیں ہر طرح سے انسانی حقوق کی پامال کی اجازت ہو نہتے شہریوں کی طرف سے اتنی طویل جدوجہد کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سفاک افواج ہی مظالم کی نت نئی داستان نہیں رقم نہیں کر رہی بلکہ اس نام نہاد جمہوریت نے کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے شہریوں کے حقوق غضب کرتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی اظہار کے تمام ذرائع کو پابند بنانے کے لئے انہیں ہر طرح کے جمہوری حقوق اور قانون امداد سے محروم رکھنے کے لئے طرح طرح کے ظالمانہ سیاہ قوانین رائج کر رکھے ہیں جنہیں پاڈا، افسپا کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔

ان کالے قوانین کے تحت کسی بھی کشمیری کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کیخلاف بھی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں۔ ان کے تمام انسانی اور جمہوری حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔ یہ سب سیاہ کام ایک ایسی غاضب ریاست نے کئے ہیں جسے دنیا میں عوامی جمہوریہ انڈیا کہا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ نہ عوامی سے نہ جمہوری بلکہ بدترین دہشت گرد انڈیا کہلانے کا مستحق ہے۔

26 جنوری کو یہ بدنام دہشت گرد سیاست اپنی نام نہاد یوم جمہوریہ بن کردنیا کو تو گمراہ کر سکتی ہے مگر کشمیری عوام کو بے وقوف نہیں بناسکتی۔ کیونکوہ وہ گزشتہ 70 برسوں سے بھارتی مظالم سہتے آرہے ہیں۔ ان ستر برسوں میں یہ نام نہاد جمہوری ریاست کشمیر کے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کا لہو پی چکی ہے۔ ہزاروں جلے ہوئے گھر اور دکانیں ہزاروں لٹی ہوئی عصمتیں، ہزاروں گمنام قبریں اس نام نہاد جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے بھارت کا اصلی مکروہ سامراجی چہرہ بے نقاب کر رہے ہیں۔

اس 26 جنوری 2018 ء کو بھی لاکھوں کشمیری اپنے محبوس وطن میں بیرون ملک اور پاکستان میں بھارتی یوم جمہوریہ پر یوم سیاہ (بلیک ڈے) منا کر بھارت سے اپنی نفرت کا اظہار کریں گے اور دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھانے کی کوشش کریں گے۔ اب یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اس آواز پر کان دھرے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور جمہوری حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے کئے جانے والے کا مظالم کا نوٹس لے کر بھارت کے خلاف سخت اقدامات کرے۔

پانچ بڑی عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اپنی خاموشی توڑیں۔ مظلوم کشمیریوں کے پیدائشی انسانی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لئے آواز بلند کریں۔ اقوام متحدہ کیا بھارت سے خوفزدہ سے یا اسکی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویٰ کی وجہ سے خاموش ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ خاموشی توڑے اور اپنے ایجنڈے پر موجود دنیا کے دیرینہ حل طلب مسائل میں سے سب سے زیادہ سنگین مسئلے پر اپنی منظور کردہ قرار دادوں پر عمل در آمد کرانے کے لئے سخت سے سخت اقدامات کرے کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے انکے انسانی اور جمہورق حقوق جو اقوام متحدہ کے منظور شدہ پر عمل در آمد کرایا جائے۔

اگر دار فر اور مشرقی تیمور کو انکے عوام کی مرضی کے مطابق علیحدگی کا حق مل سکتا ہے۔ تو کشمیر کی داستان بہت پرانی اور خون سے تر ہے۔ یہ سب سے زیادہ قربانیاں دینے میں بھی سرفہرست ہے۔ تو اس کی طرف سے اغماض کیوں برتا جا رہا ہے۔ کیا غیر مسلموں اور مسلمانوں کے خون میں فرق ہے یا مذہبی تفریق برتی جارہی ہے۔ اب اقوام متحدہ کو آگے بڑھے کر کشمیر میں آگ اور خون کا یہ کھیل بند کرانا ہوگا۔

جسکا ایندھن لاکھوں کشمیری بن چکے ہیں اور بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو اب کشمیر میں اپنے وعدے کے مطابق رائے شماری کرانا ہوگی بھارت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے وہاں انسانی اور جمہوری حقوق بحال کرے۔ تاکہ پر امن رائے شماری کی راہ بحال ہو اور کشمیریوں کو اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق مل سکے۔ حکومت پاکستان اس ہاٹ ایشو پر عالمی رائے عامہ کو بیدار کرے اور دنیا کے سب سے بڑی سامراج کا اصل چہرہ سب کے سامنے لائے۔ خاص طور پر بھارت کی مکاری کی محبت سمجھنے والے عرب اور ایران کی حکومتوں کو بھارتی سامراج کا مکروہ چہرہ دکھائے کہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ کیسا غیر انسانی اور غیر جمہوری رویہ اختیار کئے ہوئے ہے

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

26 January Bharti Youm e Jamhooria Nehin Youm e Siah Hai is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 26 January 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.