بلوچستان سپیکر کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی!

(ن)لیگی ارکان کی بغاوت، بزنجو نئے وزیر اعلیٰ منتخب۔۔۔۔۔ فیصلے اب اسلام آباد میں نہیں کوئٹہ میں ہوں گے، جان جمالی کابیان معنی خیز

جمعرات جنوری

balochistan speaker ke liye b khatre ke ghanti
اسرار بخاری:
بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی دیکھا جائے تو آئین کے مطابق جمہوری عمل ہے اور کسی لحاظ سے غیر قانونی نہیں ہے، وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی جس پر انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور باقاعدہ انتخابات کے نتیجے میں عبدالقدوس بزنجو کو وزیراعلیٰ منتخب کرلیا گیا۔

2013ء کے انتخابات میں (ن)لیگ کو سب سے زیادہ 14 نشستیں ملی تھیں لیکن حکومت سازی کے لئے33 ووٹوں کی ضرورت تھی چنانچہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے اشتراک سے مخلوط حکومت بنائی گئی ۔ اس سلسلے میں فارمولہ یہ طے پایا کہ گورنر پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سے نصف مدت ڈھائی سال کیلئے وزیراعلیٰ نیشنل پارٹی سے اور بقیہ ڈھائی سال کی مدت میں(ن) لیگ کا وزیراعلیٰ ہوگا۔

(جاری ہے)

اس فارمولے کے تحت نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنی مدت پوری کرلی مگر (ن) لیگ کے سردار ثناء اللہ زہری کو پانچ ماہ قبل تحریک عدم اعتماد کے باعث استعفی دینا پڑا۔بلوچستان میں اس تبدیلی سے عوام کی حالت زار میں بہتری تو دیوانے کا خواب ہی ہے جو کام 70 سال سے نہیں ہوسکا چار پانچ ماہ میں کیا معجزہ رونما ہوجائے گا البتہ اس کے سیاسی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

پہلے بات تو یہ کہ (ن)لیگ اس وقت صوبے میں اقتدار سے محروم ہوگئی جب عام انتخابات سر پر ہیں دوسرے (ن)لیگ کے ارکان سے جس طرح اپنی قیادت سے بغاوت کی ہے یقین نہیں کیا جاسکتا وہ سینٹ کے انتخاب میں بھی (ن)لیگ کی قیادت کے فیصلے پر عمل کریں گے یا خود اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کریں گے اس حوالے سے جان محمد جمالی کا یہ بیان غور طلب ہے کہ اب صوبے کے فیصلے اسلام آباد میں نہیں صوبے میں ہی ہوں گے۔

سندھ ، خیبر پی کے اور پنجاب میں بھی اس طرح فیصلے ہونے چاہئیں۔(ن)لیگ بلوچستان میں بغاوت سے سینٹ میں (ن)لیگ کیلئے اکثریت حاصل کرنا او رچیئرمین کا عہدہ حاصل کرلینا بھی سوالیہ نشان ہے اور اس سے اگریہ سمجھا جائے کہ (ن)لیگ سے ہاتھ ہوگیا تو شاید یہ غلط نہ ہوگا۔ ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہوگئے۔ 65 رکنی ایوان میں سے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے 54 ارکان نے ووٹ ڈالے۔

اپوزیشن اتحاد کے عبدالقدوس بزنجو 41 ووٹ لیکر وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہوگئے۔ انکے مدمقابل پشتونخواہ میپ کے سید لیاقت علی آغا نے 13 ووٹ درکارہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے تین امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے جن میں ق لیگ کے میر عبدالقدوس بزنجو جبکہ پشتونخواہ میپ کے دو اُمیدوار عبدالرحیم زیار توال اپنی پارٹی کے اُمیدوار سید لیاقت آغا کے حق میں دستبردار ہوگئے جس کے نتیجے میں دو امیدواروں میں وزارت اعلیٰ کے منصب کیلئے مقابلہ ہوا۔

میر عبدالقدوس بزنجو کو اپوزیشن اتحاد کی حمایت حاصل تھی جس میں جمیعت علمائے اسلام ، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ 2013 کے عام انتخابات میں شمولیت کی اور پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ کم یعنی 544 ووٹ لیکر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 1.8 فیصد رہا۔ ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں نو منتخب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

چودھری شجاعت نے نومنتخب وزیراعلیٰ کو فون کیا اور عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران ان کی حمایت کرنے والی صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا وہ انکی حمایت کرنے اور اس مہم کے دوران ساتھ دینے میں جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بے حد مشکور ہیں۔

تمام سیاسی جماعتوں نے میرا بہت ساتھ دیا اور ارکان اسمبلی نے جمہوری عمل کو آگے بڑھایا ۔ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا جبکہ وزیراعلیٰ بننا ان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ کیا صوبے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی غیر جمہوری عمل نہیں او ر نہ ہی ان کا نواب ثناء اللہ زہری سے کوئی ذاتی اختلاف ہے وہ قابل احترام ہیں ۔ ملازمتوں میں مسلم لیگ (ن) اور (ق)لیگ کے ارکان کو نظر انداز کیا گیا، ترقیاتی منصوبوں میں بھی ان 14 ارکان کو نظر انداز کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے مسائل کے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ ہمارے مسائل اب تک حل نہیں ہوسکے ہیں۔ میرعبدالقدوس بزنجو کو ووٹ دینے والوں میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع ، میر سرفراز بگٹی، شاہد رؤف سردار صالح محمد بھوتانی، خلیل الرحمن دمڑ، میر خالد لانگو، عبدالمالک کاکڑ، حسن بانو رخشانی، کشور جتک، مفتی گلاب ، منظور کاکڑ، مولوی معاذ اللہ،میر عبدالکریم نوشیروانی، حاجی اکبر آسکانی، سردار محمد ناصر، محمد خان لہڑی، طاہر محمود خان، سید آغا رضا، امان اللہ نوتیزئی، پرنس احمد علی بلوچ ، سردار سرفراز چاکر ڈومکی، مجیب الرحمن محمد حسنی،میر عامر رند، جعفر مندوخیل، نوابزادہ طارق مگسی، میر عاصم کردگیلو، عبدالماجد ابڑو، حاجی غلام دستگیر بادینی، ڈاکٹر رقیہ ہاشمی، راحت جمالی، ظفر اللہ زہری، انجنئیر زمرک خان اچکزئی، میر اظہار حسین کھوسہ، نواب چنگیز مڑی ، سردار اختر جان مینگل،سردار عبدالرحمان کھتیران، میر حمل کلمتی،جان محمد جمالی جبکہ انکے مدمقابل پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے سید لیاقت آغا ، کو عبیداللہ بابت، مجید خان اچکزئی، ڈاکڑ حامد اچکزئی، عبدالرحیم زیارتوال، نواب ایاز خان جوگیزئی، سردار رضا محمد بڑیچ، سردار مصطفی خان ترین، نصر اللہ زیرے،عارفہ صدیق، سپوڑ مئی اچکزئی، معصومہ حیات نے ووٹ دیئے ، اجلاس میں پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی منظور خان کاکڑ نے اپنی پارٹی سے منحرف ہوکر مخالف رکن میر عبدالقدوس بزنجو کے حق میں ووٹ دیا جبکہ نیشنل پارٹی کی جانب سے نئے قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کے اعلان کے برعکس ارکان اسمبلی میر مجیب الرحمن محمد حسنی،میر خالد لانگو اور میر فتح محمد بلیدی نے بھی میر عبدالقدوس بزنجو کو ووٹ دیا۔

14 رکنی کابینہ میں مسلم لیگ (ن) کے 11 جبکہ ق لیگ، پشتونخواء عوامی پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کے ایک ایک رکن شامل ہیں، میر عبدالقدوس بزنجو کابینہ کے 14 ارکان میں مسلم لیگ (ن)کے میر سرفراز بگٹی، پرنس احمد علی ، نواب چنگیز مری، سردار سرفراز چاکر ڈومکی، راحت جاملی، میر عاصم کرد گیلو، عبدالماجد ابڑو، حاجی غلامی دستگیر بادینی، میر عامر رند، طاہر محمد خان، حاجی اکبر آسکانی ق لیگ کے شیخ جعفر مندوخیل، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے منظور احمد کاکڑ اور مجلس وحدت المسلمین کے سید آغا رضا شامل ہیں۔

بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کا سورج ڈوب گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے 2 سال16 دن تک نواب ثناء اللہ زہری کے استعفے کے بعد ختم ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان نو منتخب وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام نے مسلم لیگ (ن)سے صوبے کے عوام کے نظر اندز کرنے کا بدلہ لے لیا ۔ ایک بار پھر ثابت ہوگیا مسلم لیگ (ن)کوئی نظریاتی نہیں بلکہ بلبلہ پارٹی ہے۔

2018ء مسلم لیگ (ن)کے ملک سے مکمل خاتمے کا سال ہے ۔ تقریب حلف برداری میں انکے والد لوگوں کی توجہ کا مزکز بنے رہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان رکن اسمبلی نواب ثناء اللہ خان زہری اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما وسابق وزیراعلیٰ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی رکن اسمبلی نے شرکت نہیں کی۔ دوسری طرف (ق)لیگ کی رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر رقیہ ہاشمی کو ڈپٹی سپیکر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈپٹی سپیکر کا عہدہ گزشتہ دو سال سے خالی ہے ۔ دریں اثنا(ق)لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی میر عبدالکریم نوشیروانی نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان اور کابینہ کی حلف برداری کی تقریب سے ناراض ہوکر چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق ناراضگی کی وجہ میر عبدالکریم نوشیروانی کو کابینہ میں شامل نہ کیا جانا بتائی جارہی ہے۔ بلوچستان میں ایک بحران ختم ہونے کے بعد دوسرے کا آغاز ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگی سپیکر کے خلاف بھی محاذ بن گیا اور تحریک عدم اعتماد لانے پر مشاورت جاری ہے۔ نئے سپیکر کیلئے جان محمد جمالی اور صالح بھوتانی کے نام زیر غور ہیں۔ نیشنل پارٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب میں کسی بھی امیدوار کی حمایت نہ کرنے اور حزب اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں مسلم لیگ (ن) بلوچستان نے صوبائی اسمبلی میں نواب چنگیز خان مری کو نیا پارلیمانی لیڈر نامزد کردیا۔ مسلم لیگ (ن)کے 14 ارکان اسمبلی نے سیکرٹری بلوچستان اسمبلی شمس اللہ کو تحریری درخواست دیدی ہے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

balochistan speaker ke liye b khatre ke ghanti is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.