عید آئی تو کیا ہوا!میرے بچے تو بھوکے ہیں

عید پرتمام رشتہ داروں کا ایک دوسرے سے ملنا، پر دیس میں کام کرنے والے بھی اپنوں کی خوشیوں میں شامل ہو نے کے لیے اس دن واپس گھر لوٹ آتے ہیں۔ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا ان کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے ہیں

حنیف لودھی منگل جون

eid i to kya hua! mere bachay to bhukay hain
ابو داؤد شریف میں روایت ہے حضور نبی اکرم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے اس زمانہ میں اہل مدینہ سال میں دو دن۔’مہرگان،نوروز‘خوشی کے دن مناتے تھے یعنی ان کی عید تھی لفظ عید کا مطلب بھی خوشی ہے۔آپﷺ نے فرمایا یہ کیا دن ہیں؟ لوگوں نے عرض کی ”جاہلیت میں ہم لوگ ان دنوں میں خوشیاں منایا کرتے تھے۔فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہیں دیئے۔

عید الفطر،عیدالاضحی۔ اسلام نے ان ایام میں تجمل و زیب و زینت اور رکھ رکھاؤ کو تو باقی رکھا،البتہ زمانہ جاہلیت کی رسم و رواج،لہوو لعب اور کھیل کود میں وقت کے ضیاع کو ختم کر دیا اور جشن کے ان ایام کواللہ بزرگ و برتر کی اجتماعی عبادت کے ایام بنا دیا تاکہ ان کا یہ تجمل و اجتماع یاد الہٰی سے غفلت میں بسر نہ ہو۔

(جاری ہے)

ایک طرف اسلام نے اپنے ماننے والوں کیلئے دنیاوی فرحت و انبساط کے اہتمام کی اجازت دی تو دوسری طرف ان کیلئے بندگی کے دروازے کھول دئیے تاکہ یاد الہی سے بھی غافل نہ رہیں اور اسلامی برادری سے شناسائی کے مواقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔

سوشل میڈیا پر ماہ رمضان میں نصیحت بھری پوسٹیں دیکھنے پڑھنے کو ملتی رہیں سب میں دوسروں کو تلقین کی گئی تھی اور اور اپنے بچوں کے لیے ایسی مہنگی بھڑکیلی خریداری کی درجنوں تصویریں جاری کی گئی تھیں جیسا کہ لیزے شانزے سے مال خریدا ہو۔دیکھنے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی کسی نے نہیں سوچا۔ ہمارے طبقہ امر اور اشرافیہ کا بھی فرض ہے کہ عیدین کے مواقع پر اپنا دستر خوان بھی کشادہ رکھیں اور گھر کے دروازے بھی محروم لوگوں کے لیے کھلے اسی سے عید کے حقیقی تقاضے پورے ہونگے۔

ایسے کئی دکھ بھرے جملے گلی محلے میں پھرتے صدائیں لگاتے محروم اورمفلوک الحال لوگوں کے منہ سے عید سے قبل اور عید کے روز سننے کو ملتے ہیں کہ’مرے بچے بھوکے ہیں، ننگے ہیں میں انہیں عید کے موقع پر کچھ بھی خرید کر نہیں دے سکا کیونکہ میرے آجر نے مجھے عیدی تو درکنا ر میرا حق بھی نہیں دیا۔’بال بچے داروں کی عید کا ہی کوئی احساس کیا ہوتا‘۔

’ہم سے تو جھاڑو کش اچھے ہیں جنہیں عید کی سچی خوشیاں ملتی ہیں، کرسمس پر ہر شے سستی ہوتی ہے قیمتیں آدھی سے بھی کم اس سے بھی کم ہوجاتی ہیں،۔ ایسے درجنوں جملے سوشل میڈیا پربھی چھائے ہوئے ہیں۔ جاتے جاتے ماہ صیام کے آخری دنوں میں کسی نے دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق ایسی بھی پوسٹ وال کیں کہ افطار پارٹیوں کے بجائے کسی سفیدپوش پڑوسی کی مدد کرنا زیادہ بہتر ہے لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ بعض لوگوں کا عمل اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔

منافقت کی انتہا کو چھونے والے ایسے جملے لکھنے والوں کا دل اور باطن سب ہی انکی رو سیاہی کا پرتو ہوتا ہے۔بعض لوگ عید پر بھی بازار کاروبار تیز کرکے دوسروں کے بچوں کا رزق چھین کر اپنے بچوں کی خوشیاں دوبالا کرتے ہیں۔کسی کی بھوک پر شادیانے بجانے اور اسے کئے کی سزا قرار دینے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ خود کئی ماہ تک اذن حضوری اور چند ٹکے کسی کی بھر پور سفارش پر عوضانہ و منشیانہ پاکرپاگل ہونیوالے یہ کیوں یاد نہیں رکھتے کہ وہ جن کے کندھوں پر سوار ہوکر اوج ثریا کی منزل کو پہنچے ہیں ان کے بلکتے طفل بھی اپنے والدین کے ہاتھوں میں آئے چند ٹکلے نکلتے دیکھ کر اپنی آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ننھی ہتھیلیوں پر رکھی بددعاؤں کی قوت سے عرش الہی کے پائے ہلانے اور اپنے نالہ و فریاد سے دست قدرت کی فیاضی اور کے منتظر رہتے ہیں جبکہ بعض ہیں کہ اسی آس میں رہے ہیں کہ کسی دوسرے مزدور کے جانے سے اس کی روزی روٹی کھلے۔

دراصل دین اسلام کا منشا یہ ہے کہ مسلمان ایک ووسرے کے دکھ سکھ سے لاتعلق نہ رہیں۔ عید پرتمام رشتہ داروں کا ایک دوسرے سے ملنا، پر دیس میں کام کرنے والے بھی اپنوں کی خوشیوں میں شامل ہو نے کے لیے اس دن واپس گھر لوٹ آتے ہیں۔ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا ان کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے ہیں۔عید منانے کا مقصد کیا ہے،مقصد ہے اللہ کی خوش نودی اللہ کا شکر ادا کرنا جو اس نے ہم کو نعمتیں دیں۔

یہ شکر ہم خوش ہو کر مناتے ہیں خوشی انسانی فطرت ہے۔خوشی کا مقصد ہے اللہ کی رضا جو تب ملے گی اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کر کے عید کی خوشیاں منائیں مگر اس بات کا خیال رکھ کر کہ کسی کے لیے وہ غمی کا باعث نہ بنے دوسروں کو خوشیاں دے کر، خاص کر کم مایہ کو اپنے ساتھ خوشیوں میں شامل کریں تاکہ کوئی خوشیوں سے محروم نہ رہے اسی طرح ہم کو عید کی حقیقی خوشی ملے گی۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

eid i to kya hua! mere bachay to bhukay hain is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 June 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.