فرمی کا تناقض (Fermi paradox)

ہماری کہکشاں کو غیر ارضی مخلوق سے پُر ہونا چاہیے لیکن ہمیں ابھی تک کسی غیر ارضی مخلوق کی کوئی خبر نہیں ہے

قدیر قریشی پیر جنوری

Fermi paradox

کیا ہم کائنات میں تنہا ہیں؟ - قابلِ مشاہدہ کائنات کا قطر تقریباً 90 ارب نوری سال ہے – اس میں ایک کھرب سے زیادہ کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں – حال ہی میں ہم نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ کائنات میں بے شمار سیارے بھی موجود ہیں اور کائنات میں غالباً کھربوں ایسے سیارے موجود ہیں جن میں اصولاً زندگی ممکن ہے – چنانچہ کائنات میں زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر زندگی کے موجود ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے – لیکن یہ زندگی کہاں پر ہے؟ اگر کائنات میں زندگی اتنی ہی عام ہے تو ہمیں کائنات میں ہر جگہ خلائی جہاز نظر آنے چاہییں –
آئیے اس مسئلے پر کچھ تفصیل سے غور کرتے ہیں – اگر دوسری کہکشاؤں میں غیر ارضی مخلوق آباد ہے تو بھی ہم اس مخلوق کے بارے میں کسی بھی طریقے سے کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکتے – اگر ہمارے پاس انتہائی تیز رفتار خلائی جہاز ہوں تو بھی کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہمارے آس پاس کی چند کہکشاؤں کے علاوہ (جنہیں مجموعی طور پر لوکل گروپ کہا جاتا ہے) کسی اور کہکشاں تک ہمارا پہنچنا عملاً ناممکن ہو گا – تیز ترین خلائی جہازوں میں بھی دور دراز کی کہکشاؤں تک پہنچتے ہوئے اربوں سال کا عرصہ درکار ہو گا –
چنانچہ بہتر یہ ہو گا کہ ہم اپنی توجہ ملکی وے کہکشاں پر ہی مرکوز رکھیں جو ہماری کہکشاں ہے – ملکی وے کہکشاں میں تقریباً چار کھرب ستارے پائے جاتے ہیں – ان میں سے تقریباً بیس ارب ستارے ہمارے سورج جیسے ہیں – ایک اندازے کے مطابق ان میں سے کم از کم بیس فیصد کے گرد زمین کی قسم کا ایک سیارہ موجود ہے جس پر پانی مائع کی شکل میں موجود ہے – ان سیاروں پر اصولاً زندگی کا وجود ممکن ہو سکتا ہے – اگر ان میں سے صفر اعشاریہ ایک فیصد سیاروں پر بھی زندگی موجود ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ صرف ہماری کہکشاں میں ہی کم از کم دس لاکھ سیاروں پر زندگی موجود ہو گی – لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی – ملکی وے تقریباً تیرہ ارب سال پرانی ہے – اس کے آغاز میں کسی ستارے کے گرد زندگی ممکن نہیں تھی کیونکہ اس کے آغاز میں بہت سے ستارے سپر نووا ہو کر پھٹ رہے تھے – لیکن ایک دو ارب سال کے بعد ایسے سیاروں کا وجود ممکن ہو گیا تھا جن پر اصولاً زندگی ممکن ہو – زمین صرف ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے – گویا کہکشاں میں زمین سے پہلے کسی اور سیارے پر زندگی کے پنپنے کے کھربوں چانسز موجود تھے – اگر ان سیاروں میں سے کسی ایک میں بھی ذہین مخلوق موجود ہوتی جو خلا میں سفر کرنے کے قابل ہوتی تو اب تک ہمیں ان کا سراغ مل چکا ہوتا –
اگر کہیں اس قسم کی ذہین مخلوق موجود ہے تو یہ مخلوق کیسی ہو گی؟ ایسی ذہین مخلوق کے تین ممکنہ درجات ہیں – پہلے درجے کی ذہین مخلوق اپنے سیارے کی تمام تر میسر توانائی کو استعمال کرنے پر قادر ہو گی – اس سکیل کے مطابق انسان ابھی صرف 0.73 کے درجے پر ہی پہنچ پایا ہے – البتہ اگلے دو سو سالوں میں ہم اس پہلے درجے کی مخلوق کا مقام حاصل کر سکتے ہیں – دوسرے درجے کی مخلوق اپنے ستارے سے پیدا ہونے والی تمام توانائی استعمال کرنے پر قادر ہو گی – اگرچہ ایسا کرنا سائنس فکشن کی کہانی معلوم ہوتا ہے لیکن کم از کم اصولاً ایسا کرنا ممکن ہے – اس کا ایک ممکنہ طریقہ 'ڈائسن کا کرہ' یا Dyson Sphere ہے جو ایک عظیم فٹ بال کی طرح پورے سورج کو گھیر لے اور اس کی تمام توانائی کو محفوظ کر لے – تیسرے درجے کی مخلوق اتنی زیادہ ایڈوانسڈ ہو گی کہ وہ اپنی پوری کہکشاں کی توانائی استعمال کرنے پر قادر ہو گی – اتنی ترقی یافتہ مخلوق ہمیں شاید دیوتاؤں جیسی محسوس ہو گی
ہم ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی غیر ارضی مخلوق موجود ہے تو ہم اس کی موجودگی ڈیٹیکٹ کر پائیں گے؟ اگر ہم ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لیں جس کی بدولت ہم ایسے دیوہیکل سپیس شپ بنا سکیں جو ہزاروں سال تک اس میں موجود لوگوں کی آبادی کو (اور ان کی آئندہ نسلوں کو) زندہ رکھ پائے تو بیس لاکھ سال میں ہم ملکی وے کہکشاں کے ہر سیارے پر بستیاں بسانے کے قابل ہو جائیں گے – اگرچہ بیس لاکھ سال کا عرصہ بہت لمبا عرصہ ہے لیکن یہ بھی ذہن میں رکھیے گا کہ ملکی وے کہکشاں بھی بہت بڑی ہے –
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم بیس لاکھ سال میں تمام کہکشاں میں پھیل سکتے ہیں، ملکی وے کہکشاں میں کروڑوں سیاروں پر زندگی کا امکان موجود ہے اور دوسرے سیاروں پر زندگی کا آغاز اصولاً ہم سے پہلے ہو سکتا تھا تو یہ غیر ارضی مخلوق ہے کہاں؟ اس تناقض کا نام فرمی پیراڈاکس ہے یعنی اصولاً ہماری کہکشاں کو غیر ارضی مخلوق سے پُر ہونا چاہیے لیکن ہمیں ابھی تک کسی غیر ارضی مخلوق کی کوئی خبر نہیں ہے –
اس کی کچھ وجوہات تو ہم سمجھ سکتے ہیں –ایک وجہ تو فلٹر ہو سکتی ہے – فلٹر کسی ایسی رکاوٹ کو کہتے ہیں جسے زندگی پار نہ کر سکے – ان فلٹرز کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں – ممکن ہے کہ پیچیدہ زندگی کا ارتقاء اتنا مشکل ہو کہ ہم ان مشکلات کا ادراک بھی نہ کر سکیں – ابھی تک ہمیں یہ سمجھ نہیں ہے کہ زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا – یہ عین ممکن ہے کہ زندگی کے آغاز کے لیے اتنے پیچیدہ حالات کی ضرورت ہے کہ ان حالات کا کائنات میں ایک سے زیادہ دفعہ وقوع پذیر ہونے کا امکان انتہائی کم ہے – یہ بھی ممکن ہے کہ پوری کائنات میں زندگی کا وجود حال ہی میں (یعنی پچھلے چند ارب سالوں میں) ہی ممکن ہوا ہے اور اس سے پہلے کائنات اتنی ہولناک تھی کہ اس میں کہیں بھی زندگی کا امکان نہیں تھا – اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ہم کائنات کی پہلی ذہین مخلوق ہیں یا کم از کم پہلی چند مخلوقوں میں سے ایک ہیں -
یہ بھی ممکن ہے کہ ہمیں مستقبل میں بہت بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہو گا – ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کائنات میں بہت سے مقامات پر ذہین مخلوق ارتقاء پذیر ہوئی ہوں لیکن وہ سب کسی مقام پر پہنچ کر معدوم ہو جاتی ہوں – مثال کے طور پر کہیں انتہائی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی میں کسی فنی خرابی کے باعث پورے کا پورا سیارہ تباہ ہو گیا ہو – کسی سیارے پر کسی مخلوق نے ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہو جو اس مخلوق کے خیال میں ان کے تمام مسائل حل کر دے گی لیکن اس مشین کو چلانے کا بٹن دباتے ہی وہ سیارہ بھک سے اڑ گیا ہو – اگر ایسا ہے تو یہ ممکن ہے کہ نسلِ انسانی مستقبل قریب میں اپنے انجام کو پہنچ جائے گی –
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تیسرے درجے کی مخلوق کائنات میں بہت عرصے سے موجود ہے اور وہ حال ہی میں ارتقاء پذیر ہونے والی مخلوقوں پر نظر رکھے ہوئے ہے – اگر کوئی نئی مخلوق ایک حد سے زیادہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی حاصل کر لے تو اس مخلوق کو ختم کر دیا جاتا ہے – اگر ایسا ہے تو بہتر یہی ہو گا کہ ہمیں اس مخلوق کے بارے میں کچھ معلومات نہ ہوں کیونکہ ویسے بھی ایسی مخلوق کے بارے میں کچھ بھی جاننا ممکن نہیں ہے
ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ ہم واقعی کائنات میں واحد ذہین مخلوق ہیں – زمین کے علاوہ ابھی تک ہمیں کسی اور مقام پر زندگی کے کوئی آثار نہیں ملے – کائنات خالی اور مردہ ہی نظر آتی ہے – نہ تو کوئی مخلوق ہمیں کوئی پیغام بھیج رہی ہے اور نہ ہی ہمارے کسی پیغام کا جواب دے رہی ہے – ہم کائنات میں بالکل اکیلے ہیں اور اتنی وسیع کائنات میں ایک ننھے منے سے سیارے پر قید ہیں – کیا آپ کو یہ خیال خوفناک لگتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کا ردِ عمل درست ہے – اگر ہم زندگی کو اسی سیارے پر ختم کر دیں تو شاید کائنات میں پھر کبھی کہیں بھی کوئی اور مخلوق پیدا نہیں ہو گی – اگر ایسا ہے تو ہمیں ہی دوسرے سیاروں اور ستاروں تک جانا ہو گا – اور ہمیں ہی کائنات کی پہلی وہ مخلوق بننا ہو گا جو تیسرے درجے تک پہنچ جائے تاکہ زندگی کا یہ دیا ہمیشہ روشن رہے اور کائنات کے ہر حصے میں پھیل جائے – یہ کائنات اتنی خوبصورت ہے کہ مستقبل میں بہت سی مخلوقوں کو اس کا تجربہ ہونا چاہے

(جاری ہے)

Your Thoughts and Comments

Fermi paradox is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.