گستاخانہ مواد ، حکومتی غفلت ، تمام بلاگرز ملک سے فرار

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پر ردعمل نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سینٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ، فیس بک سے ایسا مواد ہٹانے اور آئندہ اس کا اعادہ نہ ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس سلسلے میں حکومت نے خاصی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور یوں ہی یہ مواد سامنے آیا حکومت اگر فوری طور پر اس کا نوٹس لیتی توبات یہاں تک نہ پہنچتی

ہفتہ مارچ

Gustakhana Mawad Hakomati Ghaflat
اسرار بخاری:
سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پر ردعمل نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سینٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ، فیس بک سے ایسا مواد ہٹانے اور آئندہ اس کا اعادہ نہ ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس سلسلے میں حکومت نے خاصی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور یوں ہی یہ مواد سامنے آیا حکومت اگر فوری طور پر اس کا نوٹس لیتی توبات یہاں تک نہ پہنچتی اب وفاقی وزیر داخلہ چودہدی نثار اس پر پشیمان ہیں کہ انہوں نے گرفتار شدہ بلاگرز کو کیوں چھڑایا اوران کے نام ای سی ایل میں ڈال کر ملک سے باہرجانے سے کیوں نہیں روکا۔

ان بلاگرز کے لاپتہ ہونے کی خبر آئی و ساتھ ہی یہ خبریں بھی میڈیا کی زینت بنیں کہ پاکستان میں امریکی سفیر اور برطانوی ہائی کمشنر اس طرح متحرک ہوئے جیسے یہ بلاگرز پاکستان نہیں امریکی شہری ہیں اور ان کے انسانی تحفظاان کی اولین ذمہ داری ہے۔

(جاری ہے)

بلکہ اس وقت ایسی سرگوشیاں بھی سنی گئیں کہ ان بلاگرز کی رہائی عمل میں نہ آنے پر امریکہ کی جانب سے بعض اعلیٰ پاکستانی شخصیات ے امریکہ میں رہائش پذیر بیوی بچوں کے ویزے ختم کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی ۔

بہر حال ازخود وئی قدم اٹھانے کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیر صدیقی ے حکم پر سوشل میڈیا چانے والی کمپنیوں اور امریکی حکومت سے رابطہ یاجا رہا ہے۔ سائبر کرائمز تو بلاشبہ سنگیں جرم ہے مگر توہین رسالتﷺ توسنگین ترین جرم ہے۔ اس کے مرتکب افراد کے لیے سخت ترین سزا ہی اس مذموم حرکت کو روکنے کا واحد طریقہ ہے ۔ حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ چاروں بلاگرز ملک سے فرار ہو گے اور حکومت کو اب ایسے الزامات کا سامنا ہے کہ بین الاقوامی دباوٴ سے بچنے کے لیے ان کے فرار کی راہ ہموار ی گئی۔


جب بلاگرز کے کچھ گستاخانہ پیجز، بھینسا، سنڈھا، موچی ، مینڈھا اور مچھر وغیرہ سامنے آئے اور بعض کی پراسرار روپوشی عمل میں آئی تو سینٹ، قومی اسمبلی،صوبائی اسمبلیوں ے ارکان جن کی دینی غیرت سوالیہ نشان بن سکتی ہے یہ طے ہوئے بغیر انہیں اٹھایا گیا یا خود روپوش ہوئے ان کے انسانی حقوق کیلئے تو ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دیکھے گے مگر افسوس اللہ ے رسول ﷺ ے حقوق کے لیے ان میں ایسی تڑپ کا شائبہ بھی نظر نہیں آیا یہ عزت و وقار کے کس بلند درجہ پر فائز ہیں کو کوی ٹریفک کا کانسٹیبل ان سے لائسنس طلب کر لے۔

کوئی آفیسر بات سننے میں لمحوں کی تاخیر کر دے تو ان کا استحقاق مجروح ہو جاتا ہے یہ تحریک استحقاق پیش کرتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی روک کر اس کی شان میں کئی گئی گستاخی کا نوٹس لیا جائے مگر شان رسالتﷺ میں گستاخی پر ایسی کوئی تحریک پیش کرنے توفیق کسی کو نہ ہوئی ۔کہ اسمبلی کی کارروائی روک کر شان رسالتﷺ میں گستاخی کا نوٹس لیا جائے اگر اس حوالے سے یہ سوال ذہن میں کلبلائے کہ کیا ممبر پارلیمنٹ زیادہ باعزت ہے تو غیر فطری نہیں ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیر صدیقی کی جانب سے اس دکھ کا اظہار کیا درست نہیں ہے ” میرے نزدیک اس وقت ملک کاسب سے بڑا اور اہم مسئلہ یہی (گستاخانہ پیجز ) ہے لیکن کوئی اس پر ایکشن نہیں لے رہا پارلیمنٹ بھی مکمل طور پر خاموش ہے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ اتنا کچھ ہو رہا ہے پتہ نہیں ان کو نیند کیسے آجاتی ہے“ ۔ ویسے ارکان پارلیمنٹ مکمل طور پر خاموش نہیں ہیں پانامہ کیس کی حمایت اور حمایت میں آسمان سر پر اٹھا رکھا ے حکمران (ن) لیگ کے ارکان بشمول وزراء اس پر قوتِ گویائی کا زبردست مظاہرہ کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ارکان بشمول قیادت ڈاٹر عاصم حسین، منظور کاکا، انور مجید، عزیز بلوچ اور شرجیل میمن جیسے ”مصوموں اور مظلوموں “ کیلئے دبلے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر پنیترے بدل رہے ہیں عمران خان کی شان میں گستاخی نے تحریک انصاف کے ارکان کو سیخ پا کر رکھا ہے مراد سعید تو تھپڑ تک گیا عمران خان تو اور آگے جانے کی بات کر رہا ہے بھلا ایسی ”ناگزیر مصروفیات میں“ تو جہ کسی اور جانب ہونے ی گنجائش کہاں نکل سکتی ہے۔


حکومت کو صرف اتنا ہی تو کرنا ہے ہ گستاخانہ پیجز بلاک کر دے اس کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائے تاکہ آئندہ ایسی گستاخی کا راستہ بند ہو جائے یہ بات جتنی آسانی سے کہہ یا لکھ دی گئی ہے اتنی آسانی سے عملی جامعہ پہن سکے گی یہ سوالیہ نشان ہے۔ امریکی اور یورپ میں لبرل اور ماڈرن ہونے کا جو تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بشرطیکہ وہ آڑے نہ آجائے۔


یہ افسوسناک حقیقت ے کہ ماضی میں اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا پی ٹی اے سے بھی رابطے ہوئے مگر کسی حد تک ایکشن ے باجود اس مذموم حرکت کو روکانہیں جا سکا۔ اب بعض حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاملے کو عدم توجہ کا شکار کر کے اجتماعی تحریک بننے دیا ہے تاکہ اس بنیاد پر فیس بک کو بند کیا جاسکے جس طرح چار سال قبل یوٹیوب کو بند کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت کچھ سکینڈل سامنے آنے والے تھے اور اب پانامہ کیس کا فیصلہ آنے والا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو طوفان برپا ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔

توہین رسالت ﷺ تو طے شدہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے خواہ وہ کتنا ہی بے عمل کیوں نہ ہونہ قابل برداشت ہے اسلام دشمنوں کی جانب سے ایسا کیا جاتا رہے گا اس لئے ضروری ہے کہ اس حواے سے کوئی مستقل پالیسی بنائی جائے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Gustakhana Mawad Hakomati Ghaflat is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 March 2017 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.