کفالت یتیم ، جنت سے رفاقت رسول تک

اسلام یتیم بچوں کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ نبی مہربان ﷺ خود بھی یتیم تھے اورآپ مسکینوں ، بیواؤں اور یتیموں کے لئے سب سے بڑھ کر پیکر جود و سخا تھے

Anam Ahsan انعم احسن منگل مئی

Kafalat e Yateem
میری یاداشت میں جو زندگی کی شبیہ ہے وہ میرے بابا کی ہے۔ میں کیسے ان کی انگلی پکڑے گلی سے گزری تھی اور انہوں نے مجھے آئس کریم دلائی تھی۔ شاید ہر فرد کی یاداشت میں جو زندگی کی ابتدا کی شکل ہے وہ اپنے والد ین کے ہمرا ہ ہی ہے۔لیکن کچھ ایسی بھی بیٹیاں ہیں جنہیں بابا کی جھولی میں کھیلنے اور ان کی انگلی تھامے زندگی کا سفر طے کا موقع نہیں ملتا اور نہ ہی ان کی یاداشت میں ایسی کوئی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے۔

ان کی یادیں معاشرے کا جبر سہتے ، والدین کی بانہوں میں کھیلتے ہم جولیوں کو ترستی نگاہوں سے دیکھنے کی ہوتی ہیں۔انہی بچوں کو دنیا یتیم بچوں کے نام سے جانتی اور پکارتی ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت صرف ایشیاء میں ہی 6کروڑ10لاکھ بچے یتیم ہیں۔

(جاری ہے)

اسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان میں42لاکھ بچے یتیم ہیں اور پاکستان یتیم بچوں کی تعداد کے حوالے سے پہلے 10ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔

اس وقت پاکستان بھر میں موجود یتیم بچے تعلیم، صحت ، روزگار اور خوراک کے بنیادی مسائل سے دو چار ہیں۔ جن کے لئے حکومتی سطح پر خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جاتے۔ تاہم چند فلاحی ادارے اور مخیر حضرات مادیت پرستی کی اس دور میں بھی ان بچوں کیلئے امید کے دئیے روشن کئے ہوئے ہیں۔
رمضان المبارک جہاں رحمتوں ، برکتوں اور رب کریم کی عنائیتوں کو سمیٹنے کا مہینہ ہے، وہیں اس ماہ میں مساجد آباد ہوتی ہیں، خیرات دی جاتی ہیں، اللہ کی راہ میں بے دریغ لٹایا جاتا ہے۔

امت مسلمہ کے اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ترکی کی سماجی تنظیم نے 11دسمبر2013کو 15رمضان المبارک کو عالمی یوم یتامی منانے کا اعلان کیا۔ترکی سے شروع ہونے والا یہ پیغام پاکستان پہنچا اور مختلف این جی اوز کے پلیٹ فارم پاکستان آرفن کیئر پروگرام کے تحت اس دن کو15رمضان المبارک کو ہی منانے کا فیصلہ کیا ہے اور سینٹ اور قومی اسمبلی نے بھی مئی2018ء کو اس دن کو سرکاری طور پر منانے کی قرارداد منظور کی اور ایوان صدر میں مرکزی تقریب منانے کا اعلان بھی کیا ۔

یہ دن منانے کا مقصد قومی سطح پر یتیم بچوں کے حوالے سے قومی سطح پر آگاہی پھیلانا ہے۔
اسلام یتیم بچوں کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ نبی مہربان ﷺ خود بھی یتیم تھے اورآپ مسکینوں ، بیواؤں اور یتیموں کے لئے سب سے بڑھ کر پیکر جود و سخا تھے۔سورہ بقرہ میں ارشاد خداوندی ہے”لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ، جواب دو کہ جو مال تم خرچ کرتے ہو اپنے والدین پر ، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافرو ں پر خرچ کروگے، اللہ اس سے باخبر ہوگا“۔

سورہ النسا میں ارشاد ہوا ”اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کیساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کروگے، وہ اللہ کے علم سے چھپی نہیں رہے گی، اسی طرح سورہ الضحٰی میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں پر سختی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نبی مہربان ﷺ نے فرمایا جس کسی نے یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ، تو اس کے ہاتھ کے نیچے آنے والے بالوں کے برابر نیکیاں اس کے حق میں لکھ دی جائیں گی۔


اس وقت پاکستان میں ایدھی فاؤندیشن ، پاکستان بیت المال اور الخدمت فاؤنڈیشن سمیت کئی مخیر ادارے یتیم بچوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔اگر الخدمت فاونڈیشن کی بات کی جائے تو اس ادارے نے 2005ء میں زلزلے کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کے لئے ”آغوش“ کے نام سے اٹک میں ایک سینٹر قائم کیا ، جس میں بچوں کو زندگی کی تمام بنیادی سہولیات دی گئیں۔

ان بچوں نے معاشرے کے دیگر بچوں کی طرح تعلیم حاصل کی۔اس وقت ملک بھر میں الخدمت کے13ٓٓٓآغوش سینٹر قائم ہیں ۔ جن میں 2ہزار سے زائد یتیم بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے۔ ان بچوں کو ایلیٹ کلاس کے بچوں کے برابر رہائش اور کھانا دیا جاتا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انہیں تعلیم دی جارہی ہے۔الخدمت نے حال ہی میں مری کے پرفضا مقام پر بورڈنگ نظام کے تحت سٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر تعمیر کیا ہے۔

جس میں بچوں کو دیگربچوں کے برابر سہولیات دی جارہی ہیں۔ فاونڈیشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مشتاق مانگٹ کے مطابق وہ ملک بھر 11ہزار سے زائد بچوں کی کفالت کر رہے ہیں، جن کا ماہانہ وظیفہ مخیر حضرات ان کے اکاؤنٹس میں بھیجتے ہیں۔ملک بھر ایسے کئی ادارے قائم ہیں ، ہمارا فرض ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایسے اداروں کے دست و بازو بنیں۔
آج کے یتیم بچے کل کو جوان ہوں گے، بچپن میں انہیں محرومیاں ، احساس کمتری ملتی ہے، اور یہی کمتری ان کی زندگی میں ان کے ساتھ ساتھ ہو گی۔

یہی محرومیاں ان کے مستقبل پر گہرا اثر مرتب کریں گی ،جس کا ازالہ کبھی بھی ممکن نہیں ہوگا۔اگر اس وقت حکومت ، معاشرے اور ہم نے انفرادی طور پر ان بچوں کی جانب توجہ نہ دی تو مستقبل میں اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔15رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم بلا تفریق رنگ ونسل اور مذہب یتیم بچوں کے دست و بازو بنیں ، انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ،تاکہ ملک میں کوئی بچہ بے آسرا نہ ہو۔

آئیں آج ہم عہد کریں کہ کسی یتیم بچے کا مستقبل کسی ورکشاپ کے تیل میں ڈوبنے نہیں دیں گے، کسی ہوٹل کے برتنوں کی کھنکھناہٹ میں ان کی ہنسی دبنے نہیں دیں گے۔ کوئی یتیم بیٹی اپنے سہانے خوابوں کی تعبیر کیلئے کسی بڑے صحن میں جھاڑو نہیں لگائے گی۔ کوئی بیوہ ماں اپنے بچوں کی کفالت کیلئے زمانے کے جبر برداشت نہیں کرے گی، آئیں ہم 15رمضان کو ایک شمع جلائیں، یتیم بچوں کے سہانے خوابوں کی تعبیر کیلئے تاریک راہوں میں ان کیلئے دئیے روشن کریں ، تاکہ وہ بھی آفتاب بن کر اس ملک کے افق پر چمک سکیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Kafalat e Yateem is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 21 May 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.