کشمیر کے ساتھ یک جہتی کااظہار

ہر سال پانچ فروری کو کشمیرا ور کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کااظہار کیا جاتا ہے۔اب یہ ایک رسم بنتی چلی جا رہی ہے کیونکہ ہم نے کنٹرول لائن کو بڑی حد تک بین الاقوامی سرحد کا درجہ دے رکھا ہے

جمعہ فروری

Kashmir K Sath Yak Jehti ka Izhaar
اسد اللہ غالب:
ہر سال پانچ فروری کو کشمیرا ور کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کااظہار کیا جاتا ہے۔اب یہ ایک رسم بنتی چلی جا رہی ہے کیونکہ ہم نے کنٹرول لائن کو بڑی حد تک بین الاقوامی سرحد کا درجہ دے رکھا ہے، بھارت جب چاہے اس کے تقدس کو مجروح کر سکتا ہے اور اکثر کرتا رہتا ہے۔آخری بار کسی پاکستانی حکمران نے دنیا سے یہ کہا تھا کہ ہم کشمیریوں کو ایک دوسرے کی مدد سے نہیں روک سکتے تو وہ جنرل مشرف تھے، یہ بات انہوں نے صدر کلنٹن کی اسلام آباد میں کی گئی نشری تقریر کے جواب میں کی تھی اورآخری بار جب ہم نے کنٹرول لائن کو مقدس نہیں سمجھا، وہ بھی جنرل مشرف کے ہاتھوں ہوا جب اس نے کارگل میں ایکشن کیا۔

اب ہمارااعلان ہے کہ ہم پاکستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک میں مداخلت یا دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

(جاری ہے)

اس سے مراد یہ ہے کہ پاکستان سے کشمیر کی آزادی کی تحریک نہیں چلائی جا سکتی۔ یہ اعلان بھی جنرل مشرف نے ایڈیٹروں کی ایک بریفنگ میں کیا جہاں میرے مرشد محترم مجید نظامی نے جذباتی انداز میں مکہ لہراتے ہوئے کہا کہ آ پ کشمیر سے غداری کریں گے تو اس کرسی پر ( قائم )نہیں رہ سکیں گے۔

مشرف نے جواب میں کہا کہ میں کیا کروں ، دنیا اس آزادی کی تحریک کو دہشت گردی سمجھتی ہے۔ مشرف نے یہ نہیں کہا کہ دنیا یہ بات بھارت کے پراپیگنڈے کے زیر اثر کرتی ہے، ہم گونگے ہیں اور اپناموقف دنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ہم نے آزادی کشمیر کے لئے جدو جہد کرنے والی تنظیموں پر پابندی عائد کر رکھی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے قواعد ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت اور افغانستان میں بھی ہم مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں، یہ ملک بھی اس پالیسی پر عمل کرتے ہیں ، جواب ہے نہیں، بالکل نہیں۔
کشمیریوں سے یک جہتی کے اظہار کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو یہ باور کرائیں کہ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں، ایسی ہی جدو جہد خود امریکہ نے کی، نیلسن منڈیلا نے کی اور یاسر عرفات نے کی۔

منڈیلاا ور عرفات کو عقوبت کا نشانہ بنایا گیا، انہیں تشدد پسند کہا گیا مگر ایک وقت آیا کہ یہی نیلسن منڈیلا اور یاسر عرفات آزادی اور انسانی حقوق کے ہیرو اور چیمپین کہلائے۔کشمیری بھی اپنے بنیادی حق کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھارت نے دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے ا ور ان کی مرضی اور منشا کے خلاف ان کی سرزمین پر قبضہ جما لیا ہے، کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد آٹھ لاکھ کے قریب جا پہنچی ہے۔

دیوار برلن کے انہدام ا ور مشرقی یورپ کی آزادی کے بعد کشمیر میں بھی تبدیلی کی ہوا چلی ا ور کشمیریوں نے بھی آزادی کے حصول کی جنگ تیز تر کر دی۔جواب میں بھارتی فوج نے ظلم، جبرا ور شقاوت کی انتہا کر دی، گزشتہ تیس برسوں میں ایک لاکھ کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے، ان کی قبر یں سری نگر، کپواڑہ اور شوپیاں میں موجود ہیں اور ان کے کتبوں پر ان شہیدوں کے نام پتے لکھے ہیں۔

یہ اسی سرزمین کے فرزند تھے اور ا س پر فدا ہو گئے۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں کی منظم نسل کشی کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے جرائم کا ریکارڈ مات کرتے ہوئے بھارتی قابض فوج نے پاکباز اور عفت مآب کشمیری خواتین کی عزت تار تار کی۔یہ ہماراالزام نہیں ،ا س کے خلاف بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے بھی بار بارصدائے احتجاج بلند کر چکی ہیں۔

اور بھارت کا ایک جرم یہ ہے کہ ا س نے کشمیریوں کے وسائل پر قبضہ جما لیا ہے اور ان کے دریاوٴں کے پانی پر بند باندھ کر اسے اپنے استعمال کے لئے مخصوص کر لیا ہے۔ یہ ظلم پاکستان کے خلاف بھی ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدے کی روسے کشمیر کے دونوں دریا وٴں پراس کا حق تسلیم کیا گیا تھا مگر بھارت نے پاکستان کو بھی ان کے پانی سے محروم کر دیا ہے۔ پاکستان کی زراعت بے حال ہے، بجلی پیدا کرنے کے لئے بھی وافر پانی دستیاب نہیں اور ہمارا ملک بنجرا ور ریگستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔

پاکستان کے خلاف بھارت نے ایک ظلم پہلے روز ہی کیا، آزادی اور تقسیم کے ایجنڈے کی رو سے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا کیونکہ یہ اس سے ملحقہ مسلم اکثریتی ریاست تھی مگر بھارت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وادی کشمیرا ور جموں میں فوج اتار دی۔اس غاصبانہ ا قدام کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بار بار جنگیں چھڑتی ر ہیں اوریہ خدشہ ہے کہ اب کوئی جنگ چھڑی تو دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی اسلحے کے ذخائر کی وجہ سے بر صغیر کی سوا ارب آ بادی راکھ ا ور چربی کا ڈھیر بن سکتی ہے۔

دنیا کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کر لیں تاکہ مسلح تصادم کی نوبت نہ آئے مگر مذاکرات کا یہ راستہ بھی بھارت کی طرف سے بار بار بند کر دیا جاتا ہے۔
کشمیر پر اگر پاکستان کو مداخلت کا حق حاصل نہیں تو بھارت کو بھی نہیں ہونا چاہئے مگر موجودہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے انتخابی منشور میں اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کر لیں گے۔

یہ اعلان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی وزرا یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ وہ بزور طاقت آزاد کشمیر کا علاقہ بھی ہتھیا لیں گے۔ان مذموم عزائم والے بھارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔سارا دباوٴ پاکستان ا ور کشمیریوں پر ہے۔ ایک طرف سے بھارتی فوج بر بریت کا مظاہرہ کر رہی ہے، دوسری طرف اقوام متحدہ کے قوانین نے ان کے ہاتھ پاوٴں میں بیڑیاں پہنا رکھی ہیں۔

ہم پانچ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں گے اور پھر ہم مختلف نوع کے دھرنوں میں مشغول ہو جائیں گے، ایک دھرنا ہمیں پی آئی اے کی غیر قانونی ہڑتال میں جاں بحق ہونے والے تین افراد کے لئے دینا ہے،دوسرے دھرنوں کے لئے ہمیں کسی عذر کی ضرورت نہیں۔ بھارت نے صرف گزشتہ ماہ آن ریکارڈ پندرہ نوجوان شہید کر دیئے مگر ہم باقی سارا سال بھارتی قتل و غارت پر خاموش رہیں گے ا ور ملک کے اندر کوئی جاں بحق ہو گیا یا نہ بھی ہوا تو ا سکے لئے دھرنے دیتے رہیں گے ا ور کشمیریوں کو اگلے سال پانچ فروری کو یاد کریں گے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Kashmir K Sath Yak Jehti ka Izhaar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 February 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.