مال روڈ دھرنا پوائنٹ“ بن گیا

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات منظور احتجاجی مظاہروں سے شہریوں کی زندگی مفلوج ، ٹریفک جام سے نظام زندگی تباہ

جمعرات اپریل

maal road dharna point ban gaya
رابعہ عظمت
لاہور کا مال روڈ چیئرنگ کراس دھرنا پوائنٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آئے روز مختلف شعبہ جات کے ملازمین و دیگر افراد اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو ایوان بالا تک پہنچانے کے لیے یہاں دھرنے دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مطالبات منوانے پر ہی اٹھتے ہیں۔ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو مال روڈ احتجاج کرنے والوں کے لیے سب سے اچھا پلیٹ فارم ہے۔

فی الوقت مال روڈ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا کئی روز تک جاری رہا۔ بالآخر ان کے مطالبات منظور کر لیے گئے۔ پنجاب حکومت کے نئے نوٹیفکیشن کے مطابق 50 فیصد لیڈی ہیلتھ سپروائزر گریڈ 7سے گریڈ10 میں پروموٹ ہو جائیں گی۔ 35 فیصد کو گریڈ12 مل جائے گا ۔جبکہ 15 فیصد کو گریڈ 14 ملے گا۔

(جاری ہے)

اسی عرصے میں 55 فیصد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گریڈ 5 میں 40 فیصد کو گریڈ 7 میں، 5 فیصد کو گریڈ 9 میں ترقی دی جائے گی۔

سیکرٹری ہیلتھ نے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اگست 2017 میں تقریبا 50 ہزار ورکرز کو ان کی ملازمتوں پر ریگولر کیا۔ ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں کا ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس کے دفاتر کے ذریعے بغیرکسی تعطل کے اجرا کیا گیا۔ اکتوبر 2017ء میں سروس رولز کی منظوری دی گئی اور نومبر کے گزٹ میں ان سروس رولز کی اشاعت کو یقینی بنایا گیا۔ یکم مارچ 2018 ء تک کی تمام تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کی گئی ہے۔

لیڈی ہیلتھ سپروائزر کے لیے ماہانہ پانچ ہزار روپے سپروائزری الاونس کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ حکومت کی بقایا جات کی مد میں ایک ارب بیس کروڑ روپے پہلی قسط کے طور پر جاری کر دیے ہیں۔ یہ رقم رواں ماہ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے اکاؤنٹس میں پہنچ جائے گی۔ اگر چہ بقایا جات کی ادائیگی وفاقی حکومت کی جانب سے بھی ہونا تھی۔ مگر صوبائی حکومت نے اپنی ملازمین کی مشکلات کا خیال رکھتے ہوئے صوبائی بجٹ میں سے یہ رقم فراہم کی ہے۔

سروس سڑکچرکی سمری پر کام کا آغاز جنوری 2018 میں ہوا۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سیٹوں کی اگست 2017 میں منظوری اور سروس سٹرکچر پر کام کی یہ تیز ترین مثال ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے مال روڈ پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب سے رپورٹ طلب کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مال روڈ پر دھرنے اور احتجاج ختم کرنے سے متعلق حکومت نے اب تک قانون سازی کی کوشش کیوں نہیں کی؟ عدالتی حکم کی روشنی میں مال روڈ سے دھرنا ختم کرایا جائے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ پنجاب کو عدالتی احکامات پر عمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ دوسری جانب مال روڈ پر دھرنوں سے شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے۔بچے، خواتین سمیت بزرگ شہری بھی اس بدترین ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔ ایمبولینس کو راستہ نہیں ملتا۔

مریضوں کو ہسپتال جانے میں دقت پیش آتی ہے۔ طالب علموں سمیت دیگر افراد کو اپنی منزل تک رسائی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ مال روڈ چیئرنگ کراس لا ہور کی سب سے اہم شاہراہ ہے۔ شہر کے دوسرے حصوں سے آنے والی ٹریفک کو بھی یہاں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور جب دھرنوں کی صورت میں مال روڈ بند ہوتا ہے تو ادھر ادھر سے آنے والی گاڑیوں کومتبادل راستہ کے لیے مشکل پیش آتی ہے جس سے ٹریفک بے ہنگم ہو جاتی ہے۔

مال روڈ کے تاجروں کا کاروبار تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ آئے روز کے دھرنوں کی بدولت مارکیٹیں بندرہتی ہیں۔ دکانوں پر بھی خریداری کم ہوتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ مال روڈ پر دیے جانے والے دھرنوں نے اس روڈ کے تاجروں کی معاشی طور پر کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ عدالتی حکم کے با وجود مقامی انتظا میہ دھرنے روکنے میں ناکام رہی اور بارہا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب انتظامیہ دھرنے روکنے میں ناکام رہی۔

اور بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہے۔ مال روڈ چیئرنگ کراس کے پانچ روزہ دھرنوں سے جہاں عوام الناس کی زندگی اجیرن بنی رہی ٹریفک مسائل بڑھے وہاں چڑیا گھر کے راستے بلاک ہونے پر صرف ٹکٹ ریونیو کی مد میں انتظامیہ کو 50 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ چڑیا گھر کے ریکارڈ کے مطابق 25 مارچ کو 29 ہزار717 افراد نے وزٹ کیا اور 9 لاکھ 45 ہزار900 روپے ٹکٹنگ کی مد میں اکھٹے ہوئے مگر 26 مارچ کو دھرنے کے بعد چڑیا گھر میں ٹکٹنگ کی آمدن میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

ڈائر یکٹر لا ہور زو کا کہنا ہے کہ جب بھی مال روڈ پر دھرنا ہوتا ہے یا روڈ بند ہوتی ہے چڑیا گھر کی آمدن پر اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ زیادہ تعداد میں سکولز و کالجز دور دراز کے علاقوں سے آنے والے وزٹرز پریشان ہوتے ہیں۔ چڑیا گھر میں اوسطاََ 30 ہزار سے 60 ہزار افراد وزٹ کرتے ہیں۔ چھٹی، جمعہ اور ہفتہ کو یہ تعداد بڑھ جاتی ہے۔ آئے روز کے دھرنوں کی وجہ سے مال روڈکچر اروڑبن چکی ہے۔

کچرے کے ڈھیر نے اس کی خوبصورتی کو ماند کر دیا ہے جبکہ دھرنوں کے دوران ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ بھی غائب ہو جاتا ہے۔ جگہ جگہ جوس کے خالی ڈبے اشیائے خورد و نوش کے خالی ریپرز اور مختلف بیکری کے خالی پیکٹ ادھر ادھر گرے ہوئے نظر آتے ہیں اور اگر دھرنا زیادہ دیر تک جاری ہے تو سڑک پر ہی کوڑا کچرا کے ڈھیر میں بدل جاتاہے۔ اور کارپوریشن کا عملہ بھی فرائض سے غفلت برتتے ہوئے اتنے دن غائب رہتا ہے۔ صفائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

Your Thoughts and Comments

maal road dharna point ban gaya is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 April 2018 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.