محمد علی جناح سے قائداعظم تک کا سفر

قائداعظم ہمارے ایسے ہی لیڈر ہیں۔ جرات مند بے باک و نڈر۔ ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنے طرز عمل سے ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں

کنول زریں بدھ ستمبر

Mohammad Ali Jinnah Se Quaid e Azam Tak Ka Safar
11 ستمبر مسلمانوں کے عظیم لیڈر قائداعظم کا یوم وفات جسکو دنیا بھر کے مسلمان نہایت عقیدت و احترام سے مناتے ہیں ۔ قائداعظم بظاہر ایک لفظ اسکے معنی کیا ہیں؟ یہ سوال آتے ہی ہمارے ذہنوں میں ایک ہی تصویر تخلیق ہوتی ہے اور وہ تصویر ہے قائداعظم محمد علی جناح کی لیکن ٓ بات جہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہیں سے تو تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں قائداعظم کا لفظ بظاہر اردو کے چند الفاظ کا مجموعہ ہے لیکن اسکا مطلب کیا ہے؟ یہ فرد واحد کا نام ہے؟کسی قوم کا نام ہے یا پھر کسی خطے کی نمائندگی کرتا ہے۔

اگر سوچا جائے تو قائد ایک ہی فرد ہے۔”لیڈر“ اور اعظم” سب سے بڑا “ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی کی ذات ہے اور جس فرد کے لئے یہ دونوں الفاظ مل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل نازل فر ما دیتا ہے۔

(جاری ہے)

جیسا کہ برصغیر پاک و ہند میں اٹھنے والا ایک ہی مجاہد جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے اسلامی ملک پاکستان کی لگام تھمائی اور اسکا نام تھا محمد علی جناح۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمد علی جناح سے قائدا عظم تک کا سفر انہوں نے کیسے طے کیا؟
وقی کی دھول کو اڑا ئیں تو تحریک پاکستان کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ جہاں سے مختلف نعروں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ بن کر رہے گا پاکستان لے کر رہیں گے پاکستان، اللہ اکبر ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ وغیرہ۔ یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں اجاگر کرنے والا یہی مجاہد تھا جس نے آگے بڑھ کر اللہ کی عطاکردہ اس لگام کو تھاما۔

جس اسلامی قلعے کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ یہی محمد علی جناح تھا جس نے پہلی اسلامیہ جمہوریہ ریاست قائم کی اور سکا نام پاکستان رکھا۔ جسکے پہلے لفظ کا مطلب ہی پاک سر زمین ہے۔
وقت اپنی محو پرواز ہے آج پھر 11 ستمبر ہے اسی مجاہد کی وفات کا دن جسکو قائداعظم کا لقب دیا گیا تھا۔ یہ دن ہر سال آتا ہے اور اسی ضمن میں پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر کچھ خصوصی نشریات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

تصویری نمائش جا بجا لگائی جا تی ہیں اور ان کی جدوجہد کے قصے بیان کئے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ لیکن ا س چیز کو یکسر فراموش کر دیا جا تا ہے کہ جو جد و جہد خطبہ آلہ آباد سے شروع ہوئی تھی اور پاکستان بننے تک اس کو کتنوں کے خون سے سنیچا گیا اور کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم اس بات سے بالکل بے خبر ہیں ۔

صرف باتیں کر کے اور ان کے جدو جہد آذادی کے کردار پر بحث کر کے ہم اپنا فرض پورا نہیں کر سکتے۔
محمد علی جناح جنھیں خدا نے خاص اسی مقصد کے لئے اس دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن ایک علیحدہ ریاست قائم کر سکیں۔ جہاں ان کو شخصی و مذہبی آزادی ہو۔ ان کے نام میں ہی قدرت نے اپنے راز عیاں کئے محمد ہمارے سرورِ کونین آقائے دو عالم کا نام اور علی شیرِ خدا اور یہی دو نام ان کے نام میں موجود تھے۔

جنھوں نے کافروں کی غلامی سے مسلمانوں کو نجات دلائی تھی اور مسلمانوں کے علیحدہ قومی تشخص کو اجاگر کیا۔
عظیم لیڈر 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم حاصل کر نے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے جہاں سے ایک کامیاب بیر سسٹر بن کر وطن واپس لو ٹے۔ شروع شروع میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد ازاں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ کانگریس تو ہندؤوں کی نمائندہ جماعت ہے یہ ہر بات میں اپنے آپ کو آگے رکھتے ہیں۔

اپنے ہی مفاد کے لئے لڑتے ہیں ان کو مسلمانوں کے حقوق کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ الٹا یہ انگریزوں کی پالیسوں میں ان کے ساتھ ہیں اور مسلمانوں کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں ان کا دوہرا معیار ہے مسلمان ہر لحاظ سے تعلیمی،معاشی، ذہنی غرض کہ یہ ہر لحاظ سے پس ماندہ ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ دیکھتے ہوئے انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی۔

ان کے مطابق مسلمانوں کی اپنی ایک الگ نمائندہ جماعت ہونی چائیے جو ہر مقام پر ہر لحاظ سے مسلمانوں کے احساس و جذبات کی ترجمانی کر سکے۔ چنانچہ آپ نے مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔
محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں نے ان کا بھر پورساتھ دیا۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال نے محمد علی جناح کو مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست کے قیام کا نظریہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایسا وطن ہونا چاہئے جہاں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جائے ۔ ان کی معاشرت، تہذیب و تمدن ، مذہب غرض ہر چیز ہندؤوں سے مختلف ہے۔ ہندو بتوؤں کو پوجتے ہیں جبکہ مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ۔ محمد کو اپنا آخری نبی مانتے ہیں تو کیونکر یہ دونوں قومیں اکٹھی رہ سکتی ہیں۔ اسی لئے ایک ایسی اسلامی ریاست قائم کی جائے جہاں مسلمانوں کو ہر طرح کی مکمل آزادی ہو بلکہ اقلیتوں کے حقوو کا بھی تحفظ کیا جائے۔

علامہ اقبال کی نظر میں ایسا صرف اور صرف مسٹر جناح ہی کر سکتے ہیں ان کو محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتوں کا بخوبی علم تھا جسکا اظہار انہوں نے اپنے اس قول سے کیا کہ ” مسٹر جناح کو اللہ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو شاذر نادر کسی شخص میں نظر آتی ہے۔“
آپ سے اکثر لوگوں نے سوال کیا کہ وہ کون سی اسی خوبی ہے۔ تو علامہ اقبال نے انگریزی میں اسکا جواب دیا جسکا ترجمہ یہ ہے کہ” انہیں نا تو بد عنوانی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی خریدا جا سکتا ہے۔


 میں1938 آل امن دہلی کے مدیر مظہر الدین نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے مسٹر جناح کے لیء قائداعظم کا لقب تجویز کیا۔ اس طرح محمد علی جناح قائداعظم اور بابائے قائد کہلائے۔ قائداعظم کی ان تھک دن رات کی مسلسل محنت سے آخر کار مسلمان آخر علیحدہ وطن لینے میں کامیا ب ہو گئے اور 14 اگست1947 کا دن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا کی تا ریخ میں امر ہو گیا اور پاکستان ایک علیحدہ اسلامی ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا اور قائداعظم اسکے پہلے گو رنر جنرل مقرر ہوئے۔


قائداعظم سے متعدد لوگوں نے سوالات کئے کہ علیحدہ وطن لے تو لیا چلائیں گے کیسے؟
پیسے کہاں سے آئیں گے؟ وغیرہ وغیرہ جسکے جواب میں قائداعطم نے خود فرمایا کہ
” مجھ سے اکثرپو چھا جاتا ہے کہ پاکستان طرزِ حکومت کیا ہو گا؟
پاکستان کے طرزِ حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے سو تیرہ سو سال قبل قرآنِ پاک نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔

الحمد اللہ قرآنِ مجید ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔“
ہمارا یہ عظیم لیڈر 11ستمبر1948ء کو ابدی نیند سو گیا۔
افق پر چمکنے والے بہت سے تاروں میں سے ایک تارہ ایسا بھی ہوتا ہے جس پر نظر ٹھہر سی جاتی ہے کیونکہ یہ ستارہ باقی ستاروں کی نسبت زیادہ روشن ہو تا ہے۔ اسی طرح قوموں کی تاریخ میں سے کوئی ایک قائد ایسا بھی ہوتا ہے جس پر قوم کو سب سے زیادہ فخر ہوتا ہے۔

قائداعظم ہمارے ایسے ہی لیڈر ہیں۔ جرات مند بے باک و نڈر۔ ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنے طرز عمل سے ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایک مشعل راہ ہوتے ہیں۔
آج کا دن مطلب 11 ستمبراس عظیم لیڈر کی وفات کا دن پھر ہمیشہ کی طرح عہدو پیماں کرتے ہوئے گزر گیا لیکن اپنے پیچھے کئی سوالات کی گٹھری چھوڑ گیا۔ اس گٹھری میں ہمارے قائد انہی مسائل کو بند کیا تھا جو آج سے72 سال پہلے موجود تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم نے اس کٹھری کو سمیٹا یا بکھیر دیا۔ سوچیئے!
بقول قائداعظم:۔
” دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں جو پاکستان کو وجود ختم کر سکے“
”ناکامی میرے لئے ایک نامعلوم لفظ ہے۔“

Your Thoughts and Comments

Mohammad Ali Jinnah Se Quaid e Azam Tak Ka Safar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 September 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.