مسز خان کی سچائی اور معافی

کچھ دن قبل مسز خان نے ایک پروگرام میں آج کے دور کی پاکستانی و مسلمان گھرانوں کی بچیوں کو گھربسانے کے لئے کچھ ٹپس دی تھیں جوکہ پاکستان میں بسنے والی ماڈرن و لبرل خواتین کو پسند نہ آئیں اور اس کا دی ایکٹ یہ ہوا کہ بے چاری مسز خان کو ہی گالیاں سننے کو ملیں

مہوش ظفر - جرمنی منگل اگست

Mrs Khan Ki Sachai Or Muaffi
کچھ دن قبل مسز خان نے ایک پروگرام میں آج کے دور کی پاکستانی و مسلمان گھرانوں کی بچیوں کو گھربسانے کے لئے کچھ ٹپس دی تھیں جوکہ پاکستان میں بسنے والی ماڈرن و لبرل خواتین کو پسند نہ آئیں اور اس کا دی ایکٹ یہ ہوا کہ بے چاری مسز خان کو ہی گالیاں سننے کو ملیں۔گو کہ وہ درست تھیں۔ان کا کہا گیا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی تھا۔مگر پھر بھی ان کو ایک اور شو میں آکر معافی مانگنی پڑی(جب تلخ حقیقت بیان کی جاتی ہے تو لہجہ تلخ ہو ہی جاتا ہے) ۔


لیکن میں اب بھی ان کے اس بیان پر کھڑی ہوں۔گو کہ میں خود بھی ایک عورت ہوں۔الحمداللہ اس وقت صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوں۔میرے سرتاج آج بھی تازہ کھانا نوش فرما تے ہیں۔گرم روٹی کے ساتھ ۔
گو کہ وہ مجھ سے اچھی کوکنگ کرلیتے ہیں کیونکہ خدمت خلق میں وہ مجھ سے بہت آگے ہیں۔

(جاری ہے)


مگر پھر بھی ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ میں ان سے کھانا پکانے کی امید رکھوں۔


وہ سارا دن باہر کام کاج کرکے ہمارے لئے رزق کماتے ہیں یہ اللہ نے ان کو ذمہ داری سونپی ہے کیونکہ اللہ نے ان کو قوام بنایا ہے۔اور گھر میں ان کی تمام کاموں کی دیکھ بھال میری ذمہ داری ۔گو کہ اگر میں نہ کرنا چاہوں تو گناہ گار نہیں۔مگر پھر بھی شوہر سے محبت کا تقاضہ مجھے ان کے ہر کام کو کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
یہ آفس سے آکر میز پر بیٹھ جاتے ہیں۔

بچوں کا ہوم ورک وغیرہ دیکھتے رہتے ہیں اور میں ہی ہر چیز ان کے آگے رکھتی بھی ہوں اور اٹھاتی بھی ہوں۔الحمداللہ ایسا کرنے سے مجھے خوشی ملتی ہے۔
اگر مجھے کہیں بھی جانا ہو تو اکثر میں ان سے اجازت ہی لے رہی ہوتی ہوں۔کیونکہ اس بات کا پابند مجھے میرے رب نے کیا ہے۔
اور اپنی والدہ کو بھی میں نے یہی سب کرتے دیکھا۔
دوسری مثال میری اپنی بھابھی بہترین ڈاکٹر ،
بہترین بیٹی،بہترین بیوی،بہترین ماں ،بہترین بہو اور بہتری بھا بھی۔

وہ جس طرح سے اپنے گھر کو ۔اپنے بچوں کو یہاں تک کہ انتہائ بیمار ساس کو سنبھالتی ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔گرم توے کی روٹی تو معمولی بات وہ رات کو بارہ بجے بھی اٹھ کر میاں جی کی من پسند ڈش بنا کر اس کو کھلا دیتی ہے۔
میں پچھلے دنوں پاکستان اس کے پاس گئ تو میری بہن بھی آئ ہوئ تھی۔اور میری بھا بھی دوپہر ہاسپٹل میں ڈیوٹی دینے جانے سے قبل میرا اور باجی کا کھانا تک میز پر لگا کر گئ کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں۔


اس کے بعد میری اپنی بہن۔3 بہن بھائیوں سے ماشاء اللہ 11 بہن بھائیوں میں گئ۔کیا کچھ نہیں کیا اس نے الحمداللہ ۔شادی کے دس سال بعد اپنی اعلی تعلیم کا شوق پورا کیا اور بہترین ہسپتال میں اچھے عہدے پر فائز ہے۔الحمداللہ ۔
آفس سے آکر کھانا بھی بناتی ہے اور پھیلے گھر کو سمیٹتی بھی ہے۔
میں نے کبھی اپنی بھابھی کو بھائ یا سسرال والوں پر غصہ کرتے نہیں دیکھا۔


اور ایسی ہی مثالیں میں نے اپنی سسرال۔میں دیکھیں جٹھانیاں اور نندوں کی صورت میں ان کے شوہروں اور سسرال والوں کے ساتھ حسن سلوک کی صورت میں۔
اللہ نے مرد کو عورت سے ایک درجہ فضیلت عطا فرمائ ہے جو کہ آج کی عورت امننے ہر تیار نہیں اور مرد کی برابری کرنے پر تلی ہے ،مگراسے ماننا پڑے گی۔
اور بات رہی زیادتی برداشت کرنے کی یا خاموش رہنے کی تو آپ اپنی بات کسی اور وقت بھی تو کہہ سکتی ہیں۔

ضروری تو نہیں کہ اپنا منہ بھی اسی وقت کھولا جائے جب معاملہ یا غصہ اپنے عروج پر ہو۔
بہر حال صبر اور برداشت عورت ہی کو کرنا پڑتا ہے کیونکہ اللہ نے اس میں یہ خاصیت رکھی ہے ۔اگر ایسا نہ ہو تو روز ہی گھر توٹ رہے ہوں۔جیسا کہ حالیہ دور میں ہو رہا ہے۔
دوسری طرف اللہ ہی نے عورت کو خلع کا حق بھی دیا ہے کہ جب حالات قابو سے باہر ہوں اور نبھا کی کوئ صورت نظر نہ آرہی ہو تو یہ راستہ بھی موجود ہے۔


مردوں کے لیے بس اتنا ہی کہنا چاہوں گیں کہ اپنے مرد ہونے کا ناجائز فائدہ ہرگز نہ اٹھائیں۔اپنی ماں بہنوں اور بیوی میں توازن رکھیں۔اور بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں یا کوتاہیوں پر غصے میں آپے سے باہر ہوکر بیوی کو زلیل کرنے سے باز رہیں اور اسے آرام سے سمجھانے کی کوشش کریں۔کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔عزت دو عزت لو۔

Your Thoughts and Comments

Mrs Khan Ki Sachai Or Muaffi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 August 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.