P.I.A ملازمین کی ہڑتال اور C.S ایکٹ کانفاذ؟

پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان جاری ہے یہ بھی یاد رہے کہ 2011ء کے بعد پہلی بار پی آئی اے کا تمام تر آپریشن مکمل طور پر معطل کیا گیا ہے۔ سوال یہاں پر اٹھے گا

منگل فروری

PIA Mulazmin Ki Hartaal or CS Act Ka Nifaaz
طاہر جمیل نورانی:
آپکا حافظہ اگرکمزور نہیں تو آپ کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ وہ ہم باکمال لوگوں کی لاجواب سروس پی آئی اے کی متاثرہ ساکھ کو بحال کرنے اسے منافع بخش اور ازسرِنو قابل اعتماد بنانے کیلئے میں انہیں سطور میں گزشتہ اڑھائی سال سے یہ قومی رونا رو رہا تھا! میرے اس رونے دھونے کا بنیادی مقصد ڈوبتی ائر لائن کی جانب حکومت کے ان ”بڑے صابوں“ کی توجہ مبذول کروانا تھا جنہوں نے سیاسی وجوہات کی بناء پر اس قومی فضائی کمپنی کا ایسا حشر کیا کہ بیشتر 747 طیاروں کی حالت ریلوے کے ناکارہ انجنوں سی ہو گئی۔

قوم کا حافظہ اگر کمزور نہیں تو انہیں یہ بھی بخوبی یاد ہو گا کہ 2002ء میں پی آئی اے کو پہلا 52 ملین ڈالرز کا بھاری نقصان ہوا ۔دوبارہ 2012ء میں پی آئی اے نے حکومت کو 25 ارب روپے کی فوری ضرورت کی درخواست دیدی اسی طرح 2014ء میں ”باکمال لوگوں کی اس لاجواب سروس“ کو ایک بار پھر 2 سو ارب روپے کے بھاری خسارے سے دوچار ہونا پڑا اس دوران یورپی اور امریکی کارگو سروس پر پابندی بھی لگ گئی۔

(جاری ہے)

اس شرمناک صورت حال کو دیکھتے ہوئے 13 جنوری 2014ء کو ” ولایت نامہ“ میں ہی میں نے حکومت، وزارت دفاع اور پی آئی اے کے کرتا دھرتا” سیاسی صوبوں“ سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی تھی کہ پاکستان کی اس بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی کی مزید رسوائی سے پہلے نجکاری کے عمل سے فوری گزرایں تاکہ عالمی سطح پر پی آئی اے کا وقار ایک بار پھر بحال ہو سکے۔

یہ معاملہ بھی ”رات گئی بات گئی تک محدود رہا اور یوں میرا قومی رونا بھی رائیگاں گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کالم میں، میں نے حکومت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ 55 طیاروں کو اڑانے پر اٹھنے والے خرچ پر بھی فوری نظر ثانی کی جائے! ہوا یوں تھا کہ پی آئی اے کا خسارہ جب آسمان کو چھونے لگا تو اس وقت فلیٹ میں 55 طیارے تھے جنہیں اس وقت 27ہزار عملے سے چلایا جا رہا تھا۔

خسارے کو دیکھتے ہوئے کسی ” بہت ہی بڑے صاحب“ کی تجویز پر طیاروں کی تعداد تو فوراً 24 کر دی گئی مگر عملے کی تعداد بدستور27 ہزار ہی رہنے دی گئی۔ طیاروں کو اڑانے اور انکی مینٹیننس پر مامور عملے کی اصولاً چھانٹی ہونی چاہئے تھی مگر ہوا یوں کہ 600 کپتان سینئر فرسٹ آفیسرز اور دیگر فضائی اور تکنیکی عملہ اسی تعداد کے ساتھ 24 طیارتے اڑاتے رہے۔

یہ سب کچھ حکومت کے سامنے ہوتا رہا۔ مگر پی آئی اے کی مضبوط یونینز کے سامنے کسی کی نہ سنی گئی۔ وزیروں‘ مشیروں اور پی آئی اے کے ”صابوں“ کوپی آئی اے میں وی آئی پیز سہولتیں میسر ہیں۔ اس لئے انہیں کیا پڑتی تھی کہ وہ پی آئی اے کی گرتی ساکھ اور شرمناک حد تک خسارے میں جانے والی اس فضائی کمپنی کیلئے فوری اقدامات کرتے؟ اب جب پانی سر سے گزر چکا ہے۔

اب حکومت کو جب یہ احساس ہوا کہ پی آئی اے کی بہتری اور اسکے ماہانہ 30 ارب روپے خسارے کو عوام کی جیبوں سے نکالنا ناممکن ہو چکا ہے تو مجوزہ نجکاری کے عمل کو فوراً تیز کر دیا بہرحال پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری سے سامنے آنے والی صورت حال پر حیرت اس لئے بھی نہیں کہ ایک نہ ایک دن ایسا ہونا ہی تھا۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت اور پی آئی اے کی یونینز کے درمیان پائے گئے تناو کے بعد حالات اس نہج پے پہ پہنچ گئے ہیں کہ اگلے روز کراچی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور ادارے کے ملازمین کی احتجاجی ریلی کے دوران فائرنگ اور شیلنگ سے 3 پی آئی اے ملازمین جاں بحق ہو گئے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی مبینہ طور پر 3 ملازمین کی ہلاکت کا ذمہ دار رینجرز کو ٹھہرا رہی ہے جبکہ پولیس اور رینجرز نے اس الزام کی واضح طور پر تردید کر دی ہے ایکشن کمیٹی کی ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے گو عدالتی تحقیقات کرانے پر آمادگی ظاہر کی مگر دیکھنا یہ ہے کہ احتجاجی ریلی پر گرلی چلانے کی نوبت کیونکر آئی۔اب جبکہ پی آئی اے میں ”لازمی سروسز ایکٹ 1952ء“ لاگو کر دیا گیا ہے اور وزیراعظم نے آئندہ 6 ماہ کے دوران اس قانون کی توثیق بھی کر دی تو اس قانون کے تحت تمام یونینز اب تحلیل تصور ہونگی اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد ملازمین کا STRIKEکا حق بھی ختم تصور ہو گا۔

ملازمت سے غیر حاضری یا احتجاج پر متعلقہ فرد یا افراد فوراً برطرف ہو سکیں گے۔ تالا بندی کرنے والے ملازمین کو بھی اب ہر طرف کیا جا سکے گا!دوسری جانب وزیراعظم محمد نواز شریف نے واضح کردیا ہے کہ پی آئی اے کے کسی ملازم کو نہیں نکالا جائے گا۔ البتہ ہڑتال کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ہڑتالیوں نے اگر احکامات پر عمل نہ کیا تو وہ ایک سال کیلئے جیل بھی جا سکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہڑتال کی وجہ سے پاکستان 80 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس لئے اب مزید نقصان کی ائر لائن اب متحمل نہیں ہو سکتی پی آئی اے میں بعض سیاسی پارٹیاں اپنی سیاست کر رہی ہیں ۔ جو درست نہیں، ادھر پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان جاری ہے یہ بھی یاد رہے کہ 2011ء کے بعد پہلی بار پی آئی اے کا تمام تر آپریشن مکمل طور پر معطل کیا گیا ہے۔

سوال یہاں پر اٹھے گا کہ پی آئی اے کی نجکاری کو 2016ء میں اب کیوں ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ ائر لائن کو 2002ء سے بھی پہلے شدید خسارے کا سامنا تھا۔ طیاروں کی حالت اور سروس پر اس وقت بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں۔ اگر لازمی سروسز ایکٹ 1952لاگو کرنا ہی تھا تو وقت کا درست تعین کیوں نہیں کیا گیا۔ ”ہڑتالوں اور احتجاجوں“ میں فوری طور پر اس ایکٹ کو لگانا اب ملازمین کو اشتعال دلوانے کے مترادف تصور کیا جا رہا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ”ٹف احکامات“ جاری کرنے سے پہلے ایسا ماحول ضرور پیدا کرے جس میں ” ٹیبل ٹاک“ اور Give And Take کا فارمولہ شامل ہو۔

یونینز پر یھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ملک کی معشیت کے استحکام کیلئے وہ پی آئی اے کے مکمل آپریشن کو بند کرنے سے اجتناب کریں کہ ملک کو پہلے ہی معاشی اور اقتصادی طور پر درجنوں مسائل کا سامنا ہے جن کے موثر حل کیلئے مزید قربانیاں دینا ابھی باقی ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

PIA Mulazmin Ki Hartaal or CS Act Ka Nifaaz is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 February 2016 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.