قومی زندگی میں نظم و ضبط کی اہمیت

لفظ ”نظم“ یا ”ضبط“ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ہر کہیں اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں پر نظم نہیں وہاں افراتفری اور غلط نتائج ہی نظر آئیں گے۔ دنیا کا ہر کام کسی نہ کسی ضابطے یا قاعدے کے تحت ہوتا ہے۔ یہ زمیں و آسمان، یہ چاند،ستارے اور سوج کس نظام کے تحت کا کررہے ہیں؟ یہ سب کسی قاعدے یا قانون کے تابع رہ کر چل رہے ہیں

منگل فروری

Qoumi Zindagi Main Nazm o Zabt Ki Ehmiyat
لفظ ”نظم“ یا ”ضبط“ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ہر کہیں اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں پر نظم نہیں وہاں افراتفری اور غلط نتائج ہی نظر آئیں گے۔ دنیا کا ہر کام کسی نہ کسی ضابطے یا قاعدے کے تحت ہوتا ہے۔ یہ زمیں و آسمان، یہ چاند،ستارے اور سوج کس نظام کے تحت کا کررہے ہیں؟ یہ سب کسی قاعدے یا قانون کے تابع رہ کر چل رہے ہیں۔

سورج کی گرمی، اس کی چمک، چاند کی دمک، لیل و نہار کا گھٹنا، موسموں کا تغیر و تبدل یہ سب کچھ ایک قانون کے تحت ہورہا ہے۔ سورج کا نکلنا، اس کا غروب ہونا، زمین کاگھومنا اور رات دن کا پیدا ہونا۔ان سب کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ ان میں سے کوئی عمل اپنے وقت مقررہ سے ایک سکینڈ بھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔ یہ سب کسی قانون کی بدولت ہے۔

(جاری ہے)

حیوانات، نباتات اور جمادات بھی ایک مخصوص قاعدے کے تابع ہیں۔

غرض کائنات کی ہر چیز کے لئے کوئی قاعدہ مقرر ہے اور وہ اس قاعدے سے باہر نہیں نکل سکتی۔
ندی‘ نالے‘ دریا سمندر بھی ایک خاص ضابطے کے تحت بہتے ہیں۔ انسان کے جسم میں جو اعضاء بنائے گئے ہیں وہ سارے کے سارے اپنا اپنا کام ایک مخصوص ضابطے یا قانون کے تحت کرتے ہیں ۔ دماغ کے لئے ایک ضابطہ مقرر ہے، وہ اس کے تحت کام کررہا ہے۔ جسم کے دوسرے اعضاء بھی ایک مقرر قاعدے کے تحت ہی کام کرتے رہتے ہیں۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون اور ضابطہ ایک ایسی چیز ہے جس سے کوئی چیز باہر نہیں۔
انسان کی بقاء و ارتقاء کے لئے مخصوص ضابطوں کی پابندی لازم ہے۔ اسلام اپنے اندر ایک مکمل ضابطہ حیات رکھتا ہے۔ نبی کریمﷺ بھی اس ضابطہ حیات کی تبلیغ و ہدایت کے لئے تشریف لائے۔ آپﷺ نے عملی طور پر ثابت کیا کہ انہوں نے جو نظام زندگی دنیا کو دیا اسی میں دکھی انسانیت کا مداوا ہے۔

اسلام ایک مکمل نظام حیات پیش کرتا ہے جس پر عمل کرکے قانون کے تحت زندگی بسر کرسکتے ہیں جو ہمیں راہ نجات پیش کرتا اور ہمارے لئے دین و دنیا کی بھلائی کا سبب بن سکتا ہے۔ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم پر دو قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی۔ ہمارا ہر فعل معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے، اگر ہم کوئی برائی کرتے ہیں تو اس کے اثرات دوسروں پر ضرور مرتب ہوں گے اور اگر ہم کوئی اصلاحی کام کرتے ہیں تو اس کے اثرات دوسروں پر ضرور پڑیں گے۔


کوئی قول یا فعل انفرادی طور پر کیا جائے یا اجتماعی طور پر‘ اس کے نتائج معاشرے پر ضرور ظہور پذیر ہوں گے تو ایسے میں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کے جذبات و احساسات کا احترام کریں اور ہمارا قول و فعل سوسائٹی کیلئے مفید ثابت ہو۔ اگر ہم معاشرے میں رہتے ہوئے کسی قانون اور ضابطے کا خیال نہیں کرتے تو اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

ایک ٹیم کو لے لیجیے ٹیم کے کھلاڑی اگر اپنے کپتان کے حکم کے تابع نہیں ہوتے اور کھیلتے ہوئے پورے نظم و ضبط سے کام نہیں لیتے تو ٹیم کی شکست یقینی ہوگی۔ اس میں کھلاڑیوں کا بھی نقصان ہوگا اور ملک و قوم کے لئے یہ ٹیم بدنامی کا باعث بنے گی۔ قوموں کی بقاء اور ارتقاء کیلئے نظم و ضبط کا ہونا لازمی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسے لوگوں کا نام و نشان باقی نہیں رہتا جو نظم و ضبط کو اپنا شعار نہیں بناتے۔


بانی پاکستان قائد ااعظم نے بھی اسی لئے قوم کو اتحاد، یقین اور تنظیم کا عظیم سبق دیا ہے جس قوم میں نظم و ضبط نہیں ہوتا وہ جلد صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوجاتی ہے۔ اسلام کا عروج بھی قومی نظم و ضبط، اتحاد و تنظیم کے طفیل ہوا۔ قومی اتحاد، یقین اور تنظیم کی بدولت مسلمانوں کی تھوڑی تعداد بھی اللہ کے فضل و کرم سے بڑی بڑے سلطنتوں کو فتح کرتی چلی گئی۔

یہ اتحاد اور نظم و ضبط کا ہی کرشمہ تھا کہ عرب قوم جو جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی تمام اقوام عالم سے آگے نکل گئی۔ معاشرے کے استحکام، قوموں کی آزادی اور سلطنتوں کی ترقی کے لئے نظم و ضبط اور یکجہتی کا فقدان ہوگا اور بے ضابطگیوں کا راج ہوگا وہاں ذلت، غلامی اور زوال قوم کا مقدر ہوں گے۔ اگر ہمیں اپنے آپ سے محبت اور معاشرے اور وطن سے پیار ہے اور ہم واقعی پاکستان سے مخلص ہیں اور اپنی قوم کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیئے۔ اور اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہر مقام پر ہر وقت اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ہمیں چاہیئے کہ اپنے افکار و افعال میں نظم و ضبط کے اصول کو کبھی فراموش نہ کریں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Qoumi Zindagi Main Nazm o Zabt Ki Ehmiyat is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 February 2017 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.