تعمیرِ شخصیت

آج کل معاشرے میں ہر چیز تعمیر ہورہی ہے۔اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائے تو جگہ جگہ سڑکیں،پُل،عمارتیں یا مختلف قسم کے مکانات تعمیر کیےجارہے ہیں لیکن ایک چیز جس کی تعمیر ہم بہت کم دیکھتے ہیں وہ شخصیت کی تعمیر ہے

حفصہ رضوی پیر جولائی

Tameer Shaksiyat
آج کل معاشرے میں ہر چیز تعمیر ہورہی ہے۔اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائے تو جگہ جگہ سڑکیں،پُل،عمارتیں یا مختلف قسم کے مکانات تعمیر کیےجارہے ہیں لیکن ایک چیز جس کی تعمیر ہم بہت کم دیکھتے ہیں وہ شخصیت کی تعمیر ہے۔انسان وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا جارہا ہے-اُس نے پرندوں کی طرح اُڑنا اور مچھلی کی طرح سمندروں میں تیرنا سیکھ لیا ہے مگر زمین پر انسان بن کر رہنا نہیں سیکھا۔


شخصیت سادہ الفاظ میں انسان کی ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔کبھی کبھی یہ خصوصیات مستقل رہتی ہیں اور  اکثر اوقات ان خصوصیات میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور یہی خصوصیات ایک انسان کو دوسرے انسان سے مختلف رکھتی ہیں۔
تعمیرِ شخصیت کے بنیادی اصول:
مثبت شخصیت کی تعمیر میں صبر کی حیثیت اور اہمیت گویا عمارت میں ایک ستون کی طرح ہے جیسے ایک عمارت بغیر ستونوں کے تعمیر نہیں ہوسکتی اِسی طرح شخصیت صبروتحمل کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتی۔

(جاری ہے)

تعمیرِ شخصیت کے بنیادی اصول جن پر انسان عمل کرکے اپنی شخصیت کو سنوار سکتا ہے اور بہت سے لوگوں میں اُس کی شخصیت نمایہ لگتی ہے مندرجہ ذیل بیان کی گئی ہیں۔
مثبت سوچ:
انسان کی زندگی میں منفی سوچ کا ایک خطرناک اثر یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کبھی کبھار ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جو حقیقت سے عاری ہے۔اِن فیصلوں اور بہت سارے نقصان دہ عمور سے بچنے کے لیے مثبت سوچ کا مالک بننا ضروری ہے۔

مثبت سوچ انسان کی شخصیت پر گہرہ اثر ڈالتی ہے۔مثبت سوچ سے انسان کی زندگی میں بیشتر بیماریوں کا امکان کم ہو جاتا ہے مثلاً ہارٹ اٹیک۔دوسرا انسان کی زندگی سے اسٹریس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ خوشحال زندگی گزارتا ہے۔مشکلات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں اور زندگی میں کامیابی اور ترقی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
منزل کا  تعین:
جس انسان نے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنا رکھا ہو اُس کی ساری توجہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگ جاتی ہے۔

بے مقصد انسان کی زندگی ایک بھٹکے ہوئے انسان کی طرح ہوتی ہے جو سمتِ سفر متعین نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کسی راستے نکل پڑتا ہے اور کبھی دوسرے۔منزل کا تعین ہونا تعمیر شخصیت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔با مقصد آدمی کے ذہن میں اپنی منزل کا تعین اور شعور ہوتا ہے۔اُسے پتہ ہوتا ہے کہ اُسے کس راستے سفر کرکے اپنی منزل تک پہنچنا ہے۔
اچھی عادتیں:
عادات دنیا کی وہ واحد چیز ہے جسے ہم لاشعوری طور پر بناتے ہیں اور بعد میں یہ عادتیں ہمارے مستقبل کو بناتی ہیں۔

انسان کے بہتر یا غلط ہونے یا شخصیت کی سہی خطوط پر تعمیر یا غلط راستوں پر گامزن ہونے میں عادتوں کو فیصلہ کُن اہمیت حاصل ہے۔جس کام کو کرنے کے لیے ارادہ نہ کیا جائے وہ کام عادتیں ہیں۔اچھی عادتیں نہ صرف ہماری تعمیر شخصیت میں کردار ادا کرتی ہیں بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مثبت ثابت ہوتی ہیں۔
خود اعتمادی:
خود اعتمادی خود یقینی کا دوسرا نام ہے۔

یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار ہوتی ہے۔جس آدمی میں خود اعتمادی کی صفت ہو وہ بہترین انسان سمجھا جاتا ہے۔خود اعتمادی والی شخصیت کے افراد نے نہ صرف دنیا میں اپنا نام روشن کیا بلکہ بسا اوقات اپنی قوم کو بامِ عروج پر پہنچایا ہے۔خود اعتمادی شخصیت میں بہتری پیدا کرتی ہے۔خود اعتمادی والے انسان کو اپنے کام کی درستی پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے اور خود اعتمادی انسان کو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔


ٹائم مینجمنٹ:
ٹائم مینجمنٹ ایک ایسا ہنر ہے جس کے لئے مہارت کامیاب اور خوشگوار زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔یہ ایک ایسی مہارت ہے جس میں مشق کےساتھ ساتھ رہنمائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔شخصیت سنوارنے کے لیے انسان کو ٹائم کا پابند ہونا لازمی ہے۔وقت اس لیے ہے کہ انسان اس کو استعمال کرکے اپنے آپ کو کامیابی کا اہل بنائے۔


مطالعہ اور علمی مہارت:
کامیابی ایک ایسا سفر ہے جو زندگی کے ہر مرحلے پر بے حد اہم ہے۔جس طرح اناج اُگانے کے لیے پانی ضروری ہوتا ہے بلکل اُسی طرح کامیابی کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے۔مطالعہ کے ذریعے انسان اپنی شخصیت کو ایک نئے طریقے سے پروان چڑھاتے،نئی معلومات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے اور کچھ حاصل کرنے کے لیے منفرد طریقوں پر عمل درآمد کرتا ہے۔

مطالعہ سے انسان کے دماغ میں نت نئے خیالات آتے ہیں اور یہ منفرد خیالات مستقبل میں انسان کی زندگی اور اُس کے کام پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔
شخصیت تعمیر کرنے کا سب سے اہم ستون یہ ہے کہ انسان کو اپنے آج کے کام کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ انسان کا کل کبھی نہیں آتا۔کل کرے سو آج کر،آج کرے تو اب کر۔انسان کی تعمیر شخصیت اس کی وقتِ پیدائش سے شروع ہو جاتی ہے۔

اس کی تعمیر شخصیت میں مختلف لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جس میں والدین،اساتزہ،دوست احباب اور خاندان کے دیگر افراد شامل ہوتے ہیں لیکن سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے۔انسان کو اپنے والدین سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔جو والدین اپنے بچٌوں کو جو عادتیں سیکھانا یا ویسا بنانا چاہتے ہیں وہ اچھے کام اپنے بچوٌں کے سامنے کرنا شروع کردیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچٌہ پڑھا لکھا بنے تو اُسکے سامنے اپینے آپ کو مثال بنا کر دکھائیں۔

اگر بچٌے نے ہمیشہ اپنے والدین کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ موبائل دیکھا ہوگا تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ میں بھی پڑھوں وہ بڑا ہوکر موبائل استعمال کرنے والا بنے گا۔ چونکہ تعلیم و تربیت میں انسان کی پہلی درسگاہ یا پہلی گود اسکے والدین کی ہے تو بچے کے لئے والدین کی شخصیت،سیرت،کردار سب سے پہلا رول موڈل ہے۔

Your Thoughts and Comments

Tameer Shaksiyat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 20 July 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.