تحریک انصاف کا لاہور میں بڑا جلسہ

مرکز اور صوبوں میں منتخب حکومتوں کا کائونٹ ڈائون شروع ہو چکا ہے، حکومتیں اب دنوں کی مہمان ہیں، آئندہ انتخابات کے لئے انتخابی مہم میں تیزی آ گئی ہے۔

جمعرات مئی

tehreek insaaf ka Lahore mein bara jalsa
فرخ سعید خواجہ
مرکز اور صوبوں میں منتخب حکومتوں کا کائونٹ ڈائون شروع ہو چکا ہے، حکومتیں اب دنوں کی مہمان ہیں، آئندہ انتخابات کے لئے انتخابی مہم میں تیزی آ گئی ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف، عمران خان، آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق اور دیگر سیاسی رہنما جلسہ ہائے عام کے ذریعے عوام تک اپنا اپنا بیانیہ پہنچا رہے ہیں۔

سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس تشکیل پا چکا ہے جس میں مسلم لیگ فنکشنل، عوامی تحریک سمیت سندھ کی بعض نامور شخصیات شامل ہیں۔ دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل کا بھی احیاء ہو چکا ہے جبکہ مولانا سمیع الحق اپنی جمعیت علماء اسلام سمیت جمعیت علماء اسلام نظریاتی، ملی مسلم لیگ، تحریک لبیک پاکستان اور بعض دیگر دینی سیاسی جماعتوں پر مشتمل نیا سیاسی اتحاد بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

(جاری ہے)

وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن 2013ء میں بنائے جانے والے اتحاد دینی متحدہ محاذ کو بحال کر دیا جائے جس میں ملی ملی لیگ اور تحریک لبیک پاکستان بھی شامل ہو جائیں۔ اب دیکھنا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے یا کسی نئے نام سے ان کا ’’سیاسی اتحاد‘‘ سامنے آتا ہے۔ ادھر جنوبی پنجاب میں قائم ہونے والا صوبہ پنجاب محاذ بھی پھل پھول رہا ہے۔ پنجاب کے جنوبی اضلاع سے آزاد حیثیت میں جیت کر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی تھی اب ان کی مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہو کر صوبہ جنوبی پنجاب محاذ اور پی ٹی آئی میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔

اکا دکا ممبران اسمبلی کسی اور طرف کا رخ بھی کر رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ بات خوش آئند ہے کہ الیکشن 2013ء میں ان کی ٹکٹ پر ممبران اسمبلی منتخب ہونے والوں کی کثیر تعداد پورے قد کے ساتھ نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ کھڑی ہے۔
مسلم لیگ (ن) مخالف قوتوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی زوال آ چکا اور اب الیکشن 2018ء میں یہ جماعت بھولی بسری داستان بن جائے گی۔

دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس پارٹی کی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو کر کسی بھی طریقے سے گھر بھجوائے آئندہ انتخابات میں اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں رہتا اور اسٹیبلشمنٹ جس دوسری جماعتوں کے سر پر دست شفقت رکھ دیتی ہے وہی برسراقتدار آتی ہے۔ اگر ہم اپنی 70 سالہ سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو واقعی ایسا ہوتا رہا ہے۔ سو مسلم لیگ (ن) مخالفین یہ کہتے نہیں تھکتے کہ الیکشن 2018ء میں پی ٹی آئی سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی۔

پیپلز پارٹی سمیت چند ایک مسلم لیگ (ن) مخالف دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی خاصی نشستیں ہوں گی جبکہ حکومت سازی میں آزاد منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی اہم کردار ادا کریں گے۔ پی ٹی آئی کا 29 اپریل کو مینار پاکستان پر جلسہ عام کی کامیابی کو بھی سند کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کہ ہم اس جلسہ عام کی تفصیل میں جائیں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماضی کو پیش نظر رکھیں تو اس استدلال میں وزن دکھائی دیتا ہے لیکن 2018ء میں حقائق بدل چکے ہیں۔

نواز شریف نے وزیراعظم کے عہدے سے نااہلی کے بعد جو بیانیہ اپنایا اور اسے عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو مسترد کرنے کا حق صرف عوام کے پاس ہے جو اپنے ووٹوں سے کارکردگی کی بنیاد پر ان کے مستقبل کا فیصلہ عام انتخابات میں کریں۔ انہوں نے 62 ون ایف کے تحت خود کو نااہل قرار دیئے جانے والے عدالتی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اس نے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے ووٹر اور سپورٹر کو نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں یکسو کر دیا بلکہ ملک بھر میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ عناصر خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ ہے وہ نواز شریف کی پشت پر کھڑا ہو گیا ہے۔

ہماری رائے ہے کہ الیکشن 2018ء اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو گا کہ پاکستان میں سول بالادستی ہونی چاہئے اور ایسا ہوتا ہے تو مسلم لیگ (ن) عام انتخابات میں اپنے حریفوں کو پچھاڑ دے گی۔
اب ہم آتے ہیں پی ٹی آئی کے جلسہ عام کی طرف جو کہ مینار پاکستان کے سائے تلے ہوا۔ پی ٹی آئی کے ماضی کے بڑے جلسوں کی طرح 29 اپریل کا جلسہ بھی ایک بڑا جلسہ تھا جس میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔

یوں تو جلسہ گاہ میں آنے والوں کا تعلق ملک بھر سے تھا لیکن خیبرپختونخواہ اور پنجاب سے زیادہ تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس جلسے کا موازنہ 30 اپریل 2011ء کے جلسہ عام سے نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ اس جلسہ عام میں لاہور کے شہریوں کی تعداد باہر سے آنے والوں سے زیادہ محسوس ہوتی تھی اور جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔ 30 اکتوبر کے جلسے کے شرکاء عمران خان کی تقریر کے خاتمے تک اپنی جگہ جمے بیٹھے رہے اور ان کا جوش و خروش دیدنی تھا لیکن 29 اپریل کے جلسے میں عمران خان کی تقریر کے دوران شرکاء اٹھ اٹھ کر جاتے رہے اور خان صاحب کی تقریر ختم ہونے تک لگ بھگ 25 فیصد پنڈال خالی ہو چکا تھا۔

تاہم اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ٹی آئی کا جلسہ عام ان کے کامیاب ترین جلسوں میں سے ایک تھا۔ اس میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے لگ بھگ دو گھنٹے کی تقریر کی جس میں گیارہ نکاتی انتخابی منشور پیش کیا۔ عمومی طور پر پی ٹی آئی کے انتخابی منشور کو سراہا جا رہا ہے۔ ادھر مسلم لیگ (ن) نے بھی انتخابی جلسوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے اور نواز شریف، شہبازشریف، مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنمائوں راجہ ظفر الحق، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال کی مختلف علاقوں میں جلسوں سے خطاب کی ڈیوٹیاں لگ گئی ہیں۔

میاں نواز شریف نے مریم نواز شریف کے ہمراہ یکم مئی کو ساہیوال کے جس جلسہ عام میں خطاب کیا وہ لاہور کی نسبت چھوٹا شہر ہونے کے باوجود حاضری کے لحاظ سے بہت بڑا جلسہ تھا جبکہ اگلے ہی روز رحیم یار خان میں ان کا جلسہ قابل دید تھا۔ انتخابی جلسوں میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ ساتھ عوام کی شرکت ہوا کا رخ بتا رہی ہے۔ آنے والے اگلے دنوں میں نواز شریف 4 مئی کو خیبرپختونخواہ میں چترال، 5 مئی پنجاب کے شہر جہلم، 6 مئی خیبر پختونخواہ کے شہر مانسہرہ اور پھر پنجاب کے شہروں خوشاب میں 8 مئی، چشتیاں 9 مئی، چکوال 10 مئی اور ملتان میں 11 مئی کو جلسوں سے خطاب کرینگے۔ ان کے برعکس پیپلز پارٹی کے روح رواں آصف زرداری نے لاہور شہر میں 5 جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اللہ تیری شان۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

tehreek insaaf ka Lahore mein bara jalsa is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 May 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.