استاد یا راہزن

تعلمی اداروں میں مرد اساتذہ کی جانب سے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات ہمارے سماجی رویوں اوراخلاقیات کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہیں۔

ہفتہ جنوری

Ustad ya Rahzan
حناجاوید:
پاکستان کے چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں میں بعض مرد اساتذہ کی جانب سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جوکہ ہمارے سماجی رویوں اور اخلاقیات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے،تعلیم کے نام پر استاد جو گھناونا کھیل کھیل رہے ہیں اس سے وہ نہ صرف تعلیم کی ساکھ کو نقصان پہنچارہے ہیں بلکہ طالبات کو مستقبل بھی تاریک ہورہا ہے استاد جس کو معاشرے میں والدین کے برابر درجہ حاصل ہے اور ”روحانی باپ“تسلیم کیا گیا ہے جب وہی روحانی باپ اپنی بیٹی کی عمر کے برابر طالبات پر بری نظر رکھتا ہے تو استاد جیسے عظیم درجے سے گر جاتا ہے تعلیی اداروں میں تعلیمی معیار کے گرنے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر تعلیم دینے والے اساتذہ خود تعلیم و تربیت کی کمی کا شکار ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہیں؟پرانے وقتوں میں جب ہر طرف تعلیم کا فقدان تھا اور والدین اپنی بیٹیوں کو چار دیواری میں قید رکھنے کے قائل تھے تب اساتذہ ہی تھے جنہوں نے نہ صرف والدین کو اپنے کردار سے متاثر کیا بلکہ انہیں بچیوں کی تعلیم کی طرف مائل بھی کیا،اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل لڑکیاں زندگی کے ہر شعبے میں بڑھ چڑھ کر کام کررہی ہیں اور ملک کا نام روشن کررہی ہیں یہ سب تو تعلیم کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے لیکن آج بھی بہت سی طالبات ایسی ہیں جو گھر سے دور بڑے شوق سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یونیورسٹیز تک آتی ہیں لیکن کچھ اساتذہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل محض طالبات کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے ان درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں ان کی ان گھناؤنی حرکات سے طالبات کی شخصیت ہی بری طرح متاثر نہیں ہوتی ان کی تعلیمی زندگی بھی خطرے میں پڑجاتی ہیں شرم وحیا کی وجہ سے طالبات ان باتوں کا ذکر اپنے والدین سے بھی نہیں کر پاتیں کہ کہیں والدین انہیں یونیورسٹی بھیجوانے سے ہی انکار نہ کردیں اس طرح نام نہاد اساتذہ کو اور بھی کھلی چھٹی مل جاتی ہیں عموماً ہوتا یہ ہے کہ ایسے استاد کلاس میں طلبہ کے ساتھ سخت برتاؤ رکھتے ہیں تاکہ انتظامیہ ان پر شک بھی نہ کرے لیکن پھر آفس میں ہی”بھیڑیے“اپنا اصل رنگ دکھاتے ہیں اور طالبات سے مختلف فرمائشیں کرتے ہیں انتظامیہ اور ادارے کے باقی اساتذہ یا تو بے بسی کا اظہار کرتے ہیں اوت یا استاد کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ طالبات کی زبان بند کردی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)


مرداساتذہ کو اتنی چھُوٹ کیونکر ملی؟ ماہر تعلیم اور پی ایچ ڈی اشرف مرد اساتذہ کے غیر سنجیدہ رویوں کے حوالے سے بتاتے ہیں ،موجودہ نظام تعلیم کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک سالانہ طریق امتحان کا سمسٹر سسٹم تبدیل ہونا چاہیے۔پہلے اساتذہ کا طلبہ سے میل جول سے بہت کم ہوتا تھا اور وہ امتحان کی تیاری نوٹس کے ذریعے کرلیتے تھے اور پاس ہوجاتے تھے لیکن پچھلے دس پندرہ سالوں سے ہر بڑی یونیورسٹی میں سمسٹر سسٹم رائج کردیا گیا جس کی وجہ سے طلبہ کا اپنے اساتذہ پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے ۔

اکثر اساتذہ اپنی عمر اور عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکیوں کو بے راہ روی پر بھی مجبور کرتے ہیں بعض اساتذہ طالبات کو اسائنمنٹ کے لئے طالبات کو اسائنمنٹ اور پراجیکٹ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجاتے ہیں جبکہ تعلیمی سرگرمیوں میں معاونت کے لئے طالبات کو اساتذکے دفتر کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں،،،اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرد اساتذہ کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی فرمائش کرتے ہیں ان کے پہننے اوڑھنے کی تعریفیں کرتے ہیں غرض یہ کہ طالبات کے ساتھ گھومنے پھرنے کی فرمائش کرتے ہیں ان کے پہننے اوڑھنے کی تعریفیں کرتے ہیں غرض یہ کہ طالبات کے ساتھ بے تکلفی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ایسے میں جو طالبات مزاحمتی رویہ اپناتی ہیں تو یہی مرد اساتذہ تعلیمی معاملات میں انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً امتحان اسائنمنٹ میں نمبر کم دئیے جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ پنجاب یونیورسٹی کی بی ایس آنرز کی طالبہ ماہ نور کے ساتھ پیش آیا وہ بتاتی ہیں پنجاب یونیورسٹی جیسی نامور یونیورسٹی میں پڑھنا میرا خواب تھا پہلے تین سال تو میرے سکون سے گزرے اساتذہ بھی بڑی توجہ سے پڑھاتے تھے لیکن جیسا ہی میرا آخری سال شروع ہوا میری پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا ایک دن میں اپنے ایک استاد کو اپنا پراجیکٹ دکھانے ان کے آفس گئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ پہلے میرے ساتھ باہر گھومنے چلیں پھر آپ کا پراجیکٹ دیکھوں گا میں حیران ہوگئی کہ اتنے عمر رسیدہ شخص میرے ساتھ کیا بات کررہے ہیں لیکن میں نے ہمت کرکے کہہ دیا کہ سر مجھے باہر گھومنے کی اجازت نہیں ، وہ اصرار کرنے لگے تو میں وہاں سے چکے گئی اوریونیورسٹی کی انتظامیہ اور دوسرے سینئر اساتذہ سے ان کی شکایت کردی مگر انہوں نے الٹا مجھ پر دباؤ ڈالا کہ خاموش رہوں تاکہ یونیورسٹی کا وقار مجروح نہ ہو لیکن مجھے یہ نا انصافی گوارا نہ تھی دراصل جس کا خمیازہ میں آج بھگت رہی ہوں میرے وہ اساتذہ جو طلبہ کو اخلاقیات کا درس دیتے نہیں تھکتے تھے انہوں نے ہی مجھ پر بدچلنی کے الزامات لگائے اور میری کردار کشی کی ،چونکہ میں قدامت پسند گھرانے تعلق رکھتی ہوں اور مجھے بمشکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملی تھی ایسے میں اگر میں ان مسائل کا تذکرہ اپنے گھروالوں سے کرتی تو میرا یونیورسٹی جانا بند کردیا جاتا ،اس لئے میں نے حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو پراجیکٹ تیار کرنے کے لئے میں نے دن رات ایک کئے دوسری طالبات کے مقابلے میں مجھے اس میں بہت کم نمبر دئیے گئے جس کا افسوس مجھے عمر بھر رہے گاکہ کسی مرد استاد کی انا اور انتقام کا نشانہ بن گئی ہوں میں سوال کرتی ہو ں کہ کیا استاد ایسا ہوتا ہے؟کیا اسے کہتے ہیں روحانی باپ“
کیا اساتذہ خود اپنامحاسبہ کریں گے؟ لمز کی ایک طالبہ فاطمہ کا کہنا ہے”میں تین سال سے لمز میں زیر تعلیم ہوں میں ایک ذہین طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی میرے اساتذہ میری کامیابی پر خوش تھے جیسے ہی میری تعلیم کا آخری سال شروع ہوا ہر ہفتے کوئی نہ کوئی اسائنمنٹ یا پراجیکٹ مل جاتا جس کے لئے ہمیں اساتذہ کی مدد کی ضرورت محسوس ہوتی۔

ہم گھنٹوں ان کے پاس بیٹھے رہتے اس سال ہمیں ایک نئے استاد اکاونٹس پڑھارہے تھے جن کی عمر کوئی ستر سال ہوگی وہ ایک سنجیدہ قسم کے استاد تھے کلاس میں ان کا رویہ کافی سخت ہوتا تھا لیکن جب ہم لڑکیاں اپنے پراجیکٹ کے سلسلے میں ان سے بات کرنے اس کے آفس جاتیں تو وہ مسکرا کر پیار سے بات کرتے ہم سب کو لگتا یہ ہمیں اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے ہیں اس لئے سر اور کندھے پر ہاتھ رکھتے تھے ،ایک دن میں اکیلی ان کے آفس میں ان کو اپنا پراجیکٹ دکھا رہی تھیں کہ اچانک انہوں نے میرے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی جس پر میں ایک دم سے گھبراگئی اور آفس سے نکل گئی اور فوراً یونیورسٹی کی انتظامیہ سے ان کی اس حرکے کی شکایت کی پہلے تو انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا کہ وہ عمر میں بہت بڑے ہیں وہ ایسا کیوں کریں گے لیکن میں نے اپنی دوسری دوستوں کے ساتھ مل کر زور دیا کہ وہ ان کے خلاف کوئی قدم اُٹھائیں بہر حال ایک کمیٹی بنی اور کمیٹی میں فیصلہ میرے حق میں دے دیا اور اس استاد کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا جن کی بنیادی ذمہ داری ہی طلبہ کو تعلیم دینا اور ان کے معاشرے کا کارآمد شہری بنانا ہے افسوس کہ ایک تعداد اپنے فرائض منصبی سے بہک رہی ہے،شایداب وہ وقت آگیا ہے کہ اساتذہ خود بھی محاسبہ کریں،دیکھا جائے تو یہ معاشرے کا وہ بھیانک روپ ہیں جس کا خیال ہی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے کیا کوئی استاد جس کو معاشرے کا ایک انتہائی معتبر مقام حاصل ہیں اپنی ہی طالبات کو غلط نظر سے دیکھ سکتا ہے؟یہ وہ درندے نما وحشی انسان ہیں جو اپنی ماؤں بیٹیوں اور بہنوں کو تو چار دیواری میں دیکھنا پسند کرتے ہیں اور خود دندنات پھرتے ہیں اگر ان باز پرس کی جائے تو الٹا وہ طالبات کی کردارکشی سے بھی نہیں چوُکتے۔


جن کا تعلیم کچھ نہیں بگاڑسکی: کہا جاتا ہے تعلیم انسان کو مہذب بناتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کا تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑسکتی بظاہر اساتذہ اداروں میں طالبات کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھارہے ہوتے ہیں لیکن خود یہ تفریق بھول جاتے ہیں اکثر اساتذہ ذہنی پستی کا شکار ہوتے ہیں ان کے نزدیک عورت ایسی مخلوق ہے جس کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کیا جاتا ہے۔

ماہر نفسیات جہاں آرا کا کہنا ہے کہ مرد ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طرح عورت کو استحصال کا نشانہ بناتے رہتے ہیں کیونکہ مرد ہمیشہ سے ہی فطرتاً غالب آنے کی کوشش کرتے ہیں ویسے ہی مرد ان چیزوں میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتے جن تک ان کی رسائی نا ممکن ہو جہاں تک یونیورسٹیز کی بات ہے تو طلباء اور طالبات کے اتنے مسائل نظر نہیں آتے جتنے اساتذہ کے ہوتے ہیں ،اس میں کچھ حد تک ہماری تعلیمی نظام کا بھی قصور ہیں جس کا بعض اساتذہ بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں اور طالبات کو اپنی اسائنمنٹ ریسرچ اور پراجیکٹ کے نام پر بلیک میل کیا جاتاہے،اس نظام کے تحت طالبات کو ہر میں اپنے استاد سے ملنا ہی ہے اورپھر کسی پر الزام نہیں لگاسکتابعض طالبات تو ذہنی دباؤ میں آکر اپنی جان تک لینے کی کوشش کرتی ہیں ۔

میرا خیال ہے اگر لڑکیاں ہمت کرکے آواز اٹھائے اور والدین کو ہراسمنٹ کے بارے میں آگاہ کریں تو ان کی شخصیت تباہ ہونے سے بچ سکتی ہیں،
قوانین کیا کہتے ہیں؟ بدقسمتی سے آج ہمارے اکثر تعلیمی اداروں میں اخلاقیات اور روایات کا قتل کیا جارہا ہے جس سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے وہ اساتذہ جو کلاس میں تو طالبات کو اصول اور قاعدوں کا سبق دیتے ہیں کلاس سے باہر اپنے ہی سکھائے ہوئے سبق کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں،تعلیمی اداروں میں نوجوان لڑکیوں کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے ماہر قانون دان سیدہ فیروزہ باب بتاتی ہیں ہر ترقی یافتہ ملک کے لئے نوجوان نسل قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں اگر یہی اثاثہ معاشرہ معاشرتی بھیڑیوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہو تو معاشرہ ترقی نہیں کرسکتاایسا ہی کچھ حال طالبات کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے قانون سازی کا بھی ہے گزشتہ کچھ برسوں سے خواتین کے لئے کام کرنے کی جگہوں پر تو ہراسمنٹ ایکٹ کا خاصا پرچار ہوا مگر تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کئے جانے کے متعلق ابھی تک کوئی مناسب اور واضح قانون سازی نہیں کی جاسکی ،اس کے باوجود ہراساں ہونے والا شخص خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی شکایت درج کروائے تو ملزم کو فوراً حراست میں لیا جاتاہے اور اسے سخت سے سخت سزا بھی دلوائی جاسکتی ہیں لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے دراصل شکایت نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لڑکیاں اپنے والدین کی عزت کے لئے خاموش ہوجاتی ہیں۔

تاہم2010 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہر یونیورسٹی میں ہراساں کئے جانے کے خلاف سیل بنانے کے احکامات جاری کیے تھے تاکہ کسی بھی طالب علم یا استاد کی جانب سے جس کو جنسی طور پر ہراساں کیا جارہا ہو اس کو تحفظ فراہم کیا جاسکے اور ملزم کے خلاف سخت کاروائی کی جاسکے،اس اقدام کو ظاہری طور پر سب یونیورسٹیوں نے قبول کرلیا تھا لیکن بعد ازاں اس پر عمل نہ کروایا جاسکا ۔

لیکن کئی تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کئے جانے کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں بدقسمتی سے ہم جس معاشرے میں پروان چڑھ رہے ہیں وہ ایسے حکمرانوں کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے جو اپنے آپ کو صحیح نہیں کرسکے تو اداروں کو کیا چلائیں گے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں توجہ دے اوراداروں کو کیا چلائیں گے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں پر توجہ دے اور طالبات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایسے قوانین بنائے جس سے ہر عورت اپنے آپ کو محفوظ سمجھے!!

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Ustad ya Rahzan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.