وائس چیئرمین کی زیادہ سیٹیں

عہدوں کے خواہشمندوں کو کھپانے کا نسخہ بلدیات کے الیکشن تو طوعا ”کرہا“ کروا دئیے گے مگر ابھی تک جوڑتوڑ کا مرحلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا جبکہ بظاہر نظریہ آرہا ہے کہ جوڑ توڑ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ”عالم بالا“ سے جو فیصلہ صادر ہوگا وہ قبول کرنا پڑے گا

بدھ جنوری

Vice Chariman Ki Ziada Seetain
خالد جاوید مشہدی:
بلدیات کے الیکشن تو طوعا ”کرہا“ کروا دئیے گے مگر ابھی تک جوڑتوڑ کا مرحلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا جبکہ بظاہر نظریہ آرہا ہے کہ جوڑ توڑ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ”عالم بالا“ سے جو فیصلہ صادر ہوگا وہ قبول کرنا پڑے گا ایک اور شرط جو لگائی گئی ہے کہ وزراء اور ارکان اسمبلی کے رشتہ داروں کو بلدیاتی عہُدے نہیں دیئے جائیں گے اس کے باعث بہت سے مضبوط امیدوار تو ویسے ہی ”نااہل“ ہو جائیں گے۔

مثلاََ ضلع کونسل وہاڑی کی چیئرمین شپ کے لئے سعید منیس کے صاحبزادے عاصم سعید منیس ، ضلع کونسل راجن پور کے لیے شیر علی گورچانی کے والد پرویز اقبال گورچانی کی جگہ اب متبادل امیدوار زیر غور ہیں۔ راجن پور کے لیے اب ایک نئے امیدوار صفدر حسین مزاری بھی آگے آئے ہیں جو عاطف مزاری ایم پی اے کے چچا ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کو رکن قومی اسمبلی جعفر خان لغاری کی حمایت حاصل ہے جبکہ نصراللہ دریشک گروپ، جو ضلع کونسل کی کم و بیش 20 سیٹوں کے ساتھ ایک مضبوط گروپ ہے، وائس چیئرمین شپ دئیے جانے کی شرط پر تعاون کے لیے آمادہ ہیں۔

ضلع وہاڑی کے لیے گزشتہ دنوں میاں ثاقب خورشید کی رہائش گاہ پر سعید احمد منیس ان کے صاحبزادے اور صوبائی وزیر آصف سعید منیس ، ارکان پنجاب اسمبلی یوسف کسیلیہ ، بلال اکبر بھٹی، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری نعیم اختر بھابھہ اور رکن قومی اسمبلی ساجد مہدی سیلم کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں بھی یہ صورتحال زیر بحث آئی کہ آصم سعید منیس کو ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں متبادل امیدوار کون ہوگا۔

؟ بعض حلقے عبدالقیوم کھچی کانام بھی لے رہے ہیں لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا مگر ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔ حکومت کی بلدیاتی اداروں کے مستقبل سے عدم دلچسپی کا یہ حال ہے کہ ابھی تک پنجاب میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن بھی نہیں ہوا۔ پہلے نوٹیفکیشن ہوگا پھر مخصوص نشستوں کے انتخابات ہوں گے۔ اس کے بعد حلف برداریوں کی نوبت آئے گی۔

دریں اثناء مسلم لیگ ن نے پنجاب کے بلدیاتی سربراہوں کے امیدواروں کا انتخاب کرنے کے لیے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو ضلع کونسلوں کے سربراہوں اور نائب سربراہوں اور میونسپل کا رپوریشن اور میونسپل کمیٹیوں کے عہدیداروں کے ٹکٹوں کا فیصلہ کرے گا۔بورڈ کے سربراہ تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہیں مگر عملاََ ان کی جگہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ہی کام کریں گے۔

جنوبی پنجاب کی نمائندگی کے لیے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی شیر علی گورچانی اور سینیٹر سعود مجید کو بورڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سب سے پہلے جنوبی پنجاب کے امیدواروں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پنجاب میں رحیم یار خان واحد ضلع تھا جہاں پیپلز پارٹی کو کامیابی ملی تھی مگریہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ سید احمد محمود کی کامیابی تھی جو جس پارٹی میں شامل ہوں تو وہاں سے کامیاب ہوجاتی ہے اور بظاہر نظر یہی آرہا تھا کہ سید احمد محمود کے صاحبزادے علی محمود ہی چیئرمین ضلع کونسل ہوں گے۔

مگر اب صورتحال میں تبدیلی کے کچھ آثار بھی نظر آنے لگے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے حلقوں میں سابق چیئرمین ضلع کونسل اظہر لغاری کا نام گردش کرتا رہا تاہم اب حقائق بدل گے ہیں اور سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی مخدوم خسرو بختیار نے کوئی داوٴپیچ لڑاکر ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں مسلم لیگ ن اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے مکمل پرا مید نظر آتی ہے مگر شاید اس اصول کی قربانی دینا پڑ جائے کہ وزراء اور ارکان اسمبلی کے رشتہ داروں کو بلدیاتی مناصب سے حصہ نہیں ملے گا۔

یہ اصول ٹوٹے گا تو کئی دوسروں کا بھی بھلا ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ وائس چیئرمینوں کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عہدوں کی ریوڑیاں دیکر بڑی سیٹوں پر اپنے امیدواروں کی کامیابی کی راہ بھی ہموار کی جار ہی ہے۔ رحیم یار خان کا ذکر آیا ہے تو اس خبر کا بھی تذکرہ ہو جائے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی کے لیے اسی ماہ میں پنجاب کا دورہ کر رہے ہیں جس کا آغاز رحیم یار خان سے کیا جائے گا۔

اس دورے کی تجویز سید احمد محمود نے انہیں دی ہے جس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جا رہی ہیں مگر دورہ رحیم یار خان سے قبل ایک پہلی اور بڑی آزمائش لاہور میں انہیں درپیش ہو گئی جب ہو لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب کریں گے اور سوال وجواب کا سیشن ہوگا۔ اس سے پہلے تو لکھی ہوئی تقریروہ پڑھ دیتے ہیں اور دال دلیا ہو جاتا ہے مگر اب واسطہ پڑھے لکھے گھاگ لوگوں سے پڑے گا جو بڑے بڑوں کی دال کا دلیا بنا سکتے ہیں۔سیاست مواقع اور امکانات کا کھیل ہے جس میں یہ سلسلے چلتے رہتے ہیں مگر مستقبل قریب میں پیپلز پارٹی کے پاس اپنی مقبولیت کی بحالی کو جانچنے کاکوئی پیمانہ نہیں ہو گا اور آئندہ الیکشن تک نہ جانے کن پلوں سے کتنا پانی گزر چکا ہوگا۔

Your Thoughts and Comments

Vice Chariman Ki Ziada Seetain is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 20 January 2016 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.