سنہرا ماضی

ہفتہ اپریل

Arshad Hussain

ارشد حسین

مجھے دکھ ہوتا ہے جب میں اپنی گزری ہوئی زندگی کو یاد کرتا ہوں۔ میں بہت زیادہ سمجھدار،  مالدار اور پرسکون تھا ۔ میں یہ کام کرتا تھا ، وہ کام کرتا تھا، بہت فائدہ تھا اس میں،  میں بہت نیک و کار تھا وغیرہ وغیرہ،۔ یہ باتیں یہ قصے اپ نے اکثر سنی ہوگی ۔ یہ ان لوگوں کی باتیں ہوتی ہیں جو زندگی میں ناکام،  نامراد،  اور فیل ہوتے ہیں۔

ان کا کام صرف گزری ہوئی باتیں یاد کرنا  ہوتی ہیں جو اکثر 90 پرسنٹ جھوٹ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اپ اکثر ان لوگوں سے ملتے ہونگے ، کبھی احساس ہوا ہے اپ کو کہ اپ ناکام اور بے منزل لوگوں سے مل رہے ہیں۔ ان لوگوں کو صرف قصے کہانیاں،  افسوس اور ملال ہوتا ہے۔ ان کا ماضی اتنا سنہرا نہیں ہوتا جتنا وہ ان کو بیان کرتے ہیں۔۔۔۔
ہم اج جس حال میں رہ رہے ہیں کل یہ ہمارے لئے ایک سنہرا گزرا ہوا کل ہو گا ۔

(جاری ہے)

یہ وہی کل ہوگا لیکن صرف ایک لفظ کا اضافہ ہو جائے گا "گزرا ہوا" ،، جو گزر گیا وہ گزر گیا اس پر  ہمارا کوئی اختیار باقی نہ  رہا ۔ وہ جیسا تھا الحمد اللہ،  اب اگے دیکھنا ہے ۔ اب اگے امتحانوں کو گننا ہے ، اگے دشمنوں سے نمٹنا ہے۔  دوستوں کے ساتھ میل ملاپ رکھنا ہے، اگے بنائے ہوئے منصوبوں پر عمل کرنا ہے۔ ماضی سے صرف سبق سیکھنا ہے۔ غم ملال،  افسوس کرنا صرف حال کو برباد کر دیتا ہے۔

ماضی ہم کو کیوں اچھا اور حال ناکام لگتا ہے۔ کبھی غور کیا ہے آپ نے؟
ماضی میں ہم پر ذمہ داریاں کم ہوتی ہیں، ہم سٹوڈنٹ،  ہم چھوٹے موٹے اپنے لئے کمانے والے ہوتے ہیں۔ ہمارا چھوٹا سا منافع ہمارے لئے بڑا ہوتا ہے ۔ ہمارے ضروریات محدود ہوتے ہیں۔ ہمارے کام اور مقابلے ،دوستی دشمنیاں محدود ہوتی ہیں۔ لیکن جو جو وقت گزرتا چلا جاتا ہے   مصروفیات میں ،امتحانات میں،  کاروبار ، اور عملی زندگی میں مقابلے،  مقابل ، اور تکالیف انا شروع ہو جاتے ہیں ۔

جس سے ہم کو حال برباد ، مشکلات سے بھرا ہوا اور تکلیف دہ نظر آتا ہے اور ماضی سنہرا اور خوبصورت مثلا پرانے زمانے میں دنیا محدود تھی گلوبل ویلج کا تصور نہ تھا ۔ دنیا کلومیٹرز اور ایکڑز پر ماپا جاتا تھا ، میڈیا صرف پی ٹی وی، اور مشرق اخبارتک  تھا۔ بڑے بڑے ادیب جن کا ایک ایک قول اور فقرا سمندر ہوتا تھا کی رہنمائی تھی۔ گاؤں دیہات میں نیٹ وغیرہ کیا،  ٹیلیفون کا بھی تصور نہیں تھا ۔

تو دنیا محدود اور پرسکون تھی ۔
لیکن وہ داور وہ ماضی گزر چکا ہے  ۔ اج ہم ٹیکنالوجی اور مقابلے کے دنیا میں جی رہے ہیں۔ جس میں اب فاصلے ختم ہو چکے ہیں جس میں مقابلہ اب سخت ہو چکا  ہے ۔ اب وہ کامیاب ہوگا وہ کامران ہوگا جو حوصلہ رکھے گا ، جو صبر اور محنت کو اپنا لائف سٹائل بنائے گا۔ جو ماضی کو ماضی رہنے دے گا ، جو جھوٹی موٹی کہانیوں سے اجتناب  کرے گا۔

جو اپنے ٹارگٹ،  اپنے منزل تک راستہ تلاش کریگا ۔ جو راتوں کو سجدوں،  دن کو محنت مشقت میں گزرے گا ۔ جو کام سے جی چرانے کے لئے قصے اور اببیتی نہیں سنائے گا۔ جو اپنے بادشاہ سے غلام بننے تک کا قصہ صرف اپنے اپ تک محدود کریگا ۔جو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے گا ۔ جو اپنے مشکل کشا کو آنسو   اور ندامتوں کا ہدیہ پیش کریگا۔ جو راتوں کو پپ جی اور دوسرے فضول قسم کے اپلیکیشن میں ضائع نہیں کریگا ۔

جو ہر صبح ایک نئی امتحان کے لئے تیار ہوگا وہی مرد مجاہد اور مرد کامران ہوگا۔ ۔۔۔۔
ساتھیوں ماضی کو ماضی رہنے دو ۔ کل جو کیا جو ہوا ، اس کو بھول کے حال پر توجہ دینی چاہئیں ۔ ماضی چاہے جتنا بھی سنہرا ہو اگر حال پر سکون،  اور زبردست نہیں تو اس کو بیان کرنے کا کوئی ضرورت اور مقصد نہیں۔
اپنے حال پر وقت لگاو مقابلے کے لئے خود کو تیار کر لو ۔ نئی نئی چیلنجز کے لئے خود کو تربیت دو ۔ قصے کہانیوں کو بھول جاو انشاءاللہ ایک نئی صبح،  نئی منزل اور کامیابی اپ کی میزبان ہوگی ۔۔۔۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Sunehra Maazi Column By Arshad Hussain, the column was published on 24 April 2021. Arshad Hussain has written 49 columns on Urdu Point. Read all columns written by Arshad Hussain on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.