حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ (1703-1762)

جمعرات 16 ستمبر 2021

Javed Ali

جاوید علی

 شاہ ولی اللہ 21 فروری 1703 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شاہ عبد الرحیم تھا جو اک صوفی اور عالم دین تھے جنہیں اورنگریب عالمگیر کے دربار میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ آپ کو قطب الدین احمد کا نام دیا گیا اور بعد میں شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہور ہوۓ۔ اپنے ہی والد کے یہاں مدرسہ رحیمیہ سے سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا اور دس سال کی عمر میں حدیث کا بھی علم مکمل کیا۔

اس دور میں دینی اور دنیاوی تعلیم کیلئے علیحدہ علیحدہ مکتب نہیں تھے اس لئے ہر قسم کی تعلیم کا مرکز مدرسہ ہی تھا آپ نے منطق، فلسفہ اور میڈیکل سائنسز کے علوم بھی حاصل کیے۔ والد کی وفات کے بعد بطور استاد مدرسہ سے منسلک رہے۔ 1724 میں حج کرنے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے وہاں تقریباً آٹھ سال عظیم اساتذہ سے علم حاصل کیا جن میں شیخ احمد شناوی، شیخ احمد قردی اور شیخ عیسی جعفری مغربی نمایاں نام ہیں۔

(جاری ہے)

جولائی 1732 میں واپس دہلی تشریف لائے اور پھر درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔
اس دور میں مسلمانوں کا حال کچھ یوں ہے کہ ایک طرف اورنگریب کی وفات کے بعد مغل خاندان کی آپس میں اقتدار کی جنگ جاری ہے اور اس وجہ سے مغلیہ سلطنت لرزا رہی ہے اور سادات بارہ (عبداللہ خان اور ہاشم خان) کنگ میکر بنے ہوئے ہیں اور صرف دس سالوں 1710-1720 کے درمیان تقریبا چھے بادشاہوں کو تاج پہنایا گیا اور ان سے تاج گردن کے ساتھ واپس لیا گیا تو دوسری طرف پنجاب میں گرو گوبند سنگھ کے انڈر سکھوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے کیونکہ جہانگیر نے گرو ارجند کو پرنس خسرو کو سپورٹ کرنے پر قتل کروایا تھا اور ایک طرف مراٹھہ اور جاٹ تو دوسری طرف بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی نواب سراج الدولہ کے خلاف میدان جنگ میں۔

مسلمان از خود مذہب سے دور، بد اخلاقی اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ سید بلھے شاہ (1680_1757) اپنے کلام میں یوں نقشہ پیش کرتے ہیں کہ
در کھلا حشر عذاب دا
بُرا حال ہویا پنجاب دا
ڈر ہاویئے دوزخ ماریا
سانوں آ مل یار پیاریا
ان حالات میں شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے اور مغلیہ اقتدار کو بچانے کی بھر پور کوشش کی۔

شیعہ سنی فساد کو کم کرنے کے لئے دو کتابیں "خلیفتہ الخلفا اور ازالعتہ الحیفا" مرتب کیں تاکہ ان کے درمیان تضاد ہے اسے کم کیا جا سکے۔
 ان حالات کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کی قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوری تھی بلکل آج کی طرح کے حالات تھے لوگ کچھ نام نہاد صوفی اور ملا کے ہاتھوں کھیل رہے تھے جن کا دین سے کوئی خاص تعلق تو نہیں تھا لیکن روپیہ سے رشتہ داری ضرور تھی جنہیں شاہ ولی اللہ 'دوکاندار' کہتے تھے۔

آپ اپنے وقت کے بہت بڑے صوفی بزرگ تھے جو سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ اور شطاریہ کے خلیفہ تھے۔ آپ نے تصوف کے چیلنج کو قبول کیا اور صوفیاء کو سمجھانے کی کوشش کی کہ طریقت سب کچھ نہیں ہے بلکہ شریعت تک پہنچنے کی اک راہ ہے۔
آپ نے کل 51 کتابیں مرتب کیں جن میں 28 کتابیں فارسی اور 23 عربی زبان میں ہیں۔ جن میں قرآن پاک کا فارسی ترجمہ (تاریخ اسلام میں پہلی بار کیا گیا) کیا تاکہ عام آدمی قرآن پاک کو سمجھ سکے اور عمل کر سکے اور حجتہ البلاغہ میں اندھی تقلید کے خلاف آواز اٹھائی اور مسلمانوں کو قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کا مشورہ دیا گیا اور اجتہاد کو ریانٹروڈیوسڈ کروایا تاکہ اس وقت کے چیلنجز اور مسائل سے نبردآزما ہو سکیں اور جس میں حضرت معاذ بن جبل رض کی مثال پیش کرتے ہیں جب "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن  ( کا گورنر )  بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:  جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟  معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟  تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟  انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے" (سنن ابی داود 3592)
آپ فرماتے ہیں کہ اجتہاد وہ راستہ ہے جو اللہ نے ہمارے لئے اپنے فضل وکرم سے کھلا رکھا ہے ہم اجتہاد کر کے اس وقت کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں کیونکہ ہمارے وقت کے مسائل پہلے کے زمانہ سے مختلف نوعیت کے ہیں۔


انسان نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے ایک دوسرے سے تعاون کیا جس کے نتیجے میں معاشرہ وجود میں آیا جس کا مقصد لوگوں کی زندگی کی حفاظت، ان کی افزائش نسل اور ضروریات زندگی کو پورا کرنا تھا کیونکہ انسان اکیلا اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ پس جب انہوں نے اکٹھا رہنا شروع کیا تو اس نے برائی اور غلط کاری کو روکنے کےلئے ایک سیاسی تنظیم بنائی۔

بعد میں انسانی تنظیمیں اور سیاسی یونٹس مل کر سوسائٹی میں کنورٹ ہو گئے، چھوٹے شہر بڑے شہروں میں اور بڑے شہر ملکوں میں بدل گئے۔ جب ملک بنے تو اپنی حفاظت کرنے کے قابل ہوئے تو انہوں نے حکومت کی ضرورت محسوس کی اور ایک سربراہ منتخب کیا جو ان کی حفاظت کرے اور قانون کو لاگو کرے۔
آپ خلافت پر بات کرتے ہیں کہ امہ مسلمہ کو جوڑنے کے لیے ایک خلیفہ کا ہونا بہت ضروری ہے جو شریعت کو نافذ، قانون کو لاگو، مسلم ممالک کی حفاظت، صحیح اور غلط میں فرق، قومی مفاد کی حفاظت اور عدل وانصاف قائم کرے۔

اسے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبیلہ قریش سے ہی ہونا چاہیے جسے سلطان منتخب کریں گے جو مختلف ریاستوں کے سربراہ ہوں گے۔ جن کےلئے جسمانی طور پر فٹ، اچھے کردار کا مالک، ذہین، مرد، اچھا مقرر، بہادر، انصاف پسند، دینی اور دنیاوی علوم کا علم، دوراندیش، مسلمان، سادگی پسند اور اقربا پروری سے بچنے والا ہونا چاہیے۔ جسے ایلیٹ، علماء اور آرمی جنرلز منتخب کرے جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض کو منتخب کیا گیا یا پھر مجلس شوریٰ منتخب کرے جیسے حضرت عثمان غنی رض کو منتخب کیا گیا یا پھر خلیفہ نومینیٹ کرے جس طرح حضرت عمر فاروق رض کو منتخب کیا گیا۔


آپ ہندوستان کے مسائل کی دو بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں ایک عوامی خزانہ پر ایسے  بہت سے لوگوں کا بوجھ جن کی خدمات کا معاشرے  کو کوئی فائدہ نہیں تھا جن میں درباری شاعر، گلوکار، علماء اور ریٹائرڈ آرمی آفیسرز وغیرہ جو دربار سے تعلق رکھتے تھے اور دوسرا ظالمانہ ٹیکس سسٹم جس کی وجہ سے لوگ حکمران جماعت سے بیزار ہوتے جا رہے تھے اور مغل حکمرانوں کے خلاف جو تھے ان کا ساتھ دینے کےلئے تیار ہو رہے تھے۔

آپ غیر منصفانہ دولت کی تقسیم کو ہر حال میں ختم کرنے کا کہتے ہیں تاکہ دولت کی گردش چند ہاتھوں تک ہی محدود نہ رہ جائے اور غریب غریب تر ہوتا جائے اور امیر امیر تر ہوتا جائے۔
آپ برصغیر میں مسلمانوں کی ڈوبتی کشتی کو بہت قریب دیکھ رہے تھے تو انہوں نے سابق فوجی جرنیلوں اور مختلف ریاستوں کے سربراہ کو خط لکھے بلآخر ان سب سے مایوس ہو کر نادر شاہ کو خط لکھا جو آپ سے بہت متاثر تھا اس نے آپ کے خط پر لبیک کہا اور 1761 میں 1700 سپاہیوں کے ہمراہ چلے۔

ان کا ساتھ نجیب الدولہ اور شجاع الدولہ کی فوجوں نے بھی دیا۔ پانی پت کے میدان میں مراٹھوں اور جاٹوں کا ایسا ملیا میٹ کیا کہ وہ دوبارا سر اٹھانے کے قابل نہ رہے اور پھر نادر شاہ واپس چلا گیا لیکن یہ فتح عارضی خوشی تھی کیونکہ جنگ پلاسی 1757 میں شکست کے بعد نواب سراج الدولہ کا بنگال کنٹرول میں نہ رہا۔ اس پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قبضہ کر لیا۔
20 اگست 1762 کو شاہ ولی اللہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے اور ان کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی ہمیں اسی طرح کے چراغ کی ضرورت ہے جو ہمارے مسائل کی نوعیت سمجھ سکے اور ہمیں سمجھاۓ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hazrat Shah Wali Ullah RA Column By Javed Ali, the column was published on 16 September 2021. Javed Ali has written 32 columns on Urdu Point. Read all columns written by Javed Ali on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.