آزادی اظہار رائے

بدھ 27 اکتوبر 2021

Naeem Kandwal

نعیم کندوال

معروف فلاسفر ہیگل کے مطابق ” غیر مشروط آزادی معاشرے میں خوف و دہشت پیدا کرتی ہے“۔ کسی بھی ملک کا آئین اور قانون اپنے شہریوں کو بلا تفریق اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے۔ لیکن یہ حق بھی کچھ حدود و قیود کے تابع ہے ۔ آزادی اور بے لگامی کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔کچھ پابندیاں ہیں جن کے اندر رہ کر ہم اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں کیونکہ جہاں ہم آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہیں وہیں ہم قوانین کے بھی پابند ہیں۔

ہماری رائے آئین و قانون سے بالا تر نہیں ہوسکتی۔کچھ نادان دانستہ یا غیر دانستہ طور پرآزادی اظہار رائے کی آڑ میں دوسروں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں جو کہ انتہائی غیر مہذب اور قابل مذمت ہے۔حتیٰ کہ بعض اوقات تو یہ نادان آزادی اظہار رائے کے نام پراپنے ملک و قوم کے خلاف غیروں کے پروپیگنڈوں کا حصہ بھی بن جاتے ہیں جو کہ انتہائی خطر ناک ہے۔

(جاری ہے)

آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ شتر بے مہار کی طرح جو جی میں آئے بول دیا جائے ، یہ آزادی نہیں بلکہ بے لگامی ہے۔


”اظہار رائے کی آزادی “کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو بھی کھل کر اپنا نقظہ نظر بیان کرنے، سوال اُٹھانے، اختلاف اور تنقید کرنے کی اجازت ہے لیکن کسی دوسرے کی تذلیل اور کردار کشی کرنے اور دوسروں پر تہمتیں لگا کر ان کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت ہر گز نہیں۔ اظہار رائے کی آزادی انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے ۔ تنقید برائے اصلاح ہر شخص کا مسلمہ حق ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ جہاں تنقید کی حد ختم ہوتی ہے وہیں سے تذلیل کی حد شروع ہوجاتی ہے۔

تنقید برائے اصلاح ہو نہ کہ اس کا مقصد کسی کی کردار کشی اور عیب بیان کرنا ۔
یہ حقیقت ہے کہ ہماری آزادیاں ایک دوسرے کے حقوق کے ساتھ جڑی ہیں۔جہاں ہم اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں وہیں ہمیں اپنے فرائض کا بھی علم ہونا چاہئیے۔ہماری رائے آئین اور ریاستی قوانین سے بالا تر نہیں ہوسکتی۔آئین و قانون ہمیں کہتا ہے کہ آپ اس آزادی کی آڑ میں منافرت اور فرقہ واریت ہرگز نہیں پھیلا سکتے اور بغیر ثبوت کسی ادارے یا شخص کے خلاف ذاتی عناد پر مبنی مہم نہیں چلا سکتے۔


بد قسمتی سے پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے بارے میں بات کرتے وقت مغربی ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان ممالک میں آزادی اظہار رائے کے متعلق قوانین موجود ہیں اور ان ممالک میں بسنے والے تمام لوگ بلا تفریق ان قوانین پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ ان ممالک میں آزادی اظہار رائے کے غلط استعمال پر سخت سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔

اس کی سب سے بڑی مثال تحریک انصاف کے رہنما ذوالفقار عباس بخاری المعروف ذلفی بخاری کے ہتک عزت کے کیس کی ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔ جس کے جی میں جو آئے وہ شتر بے مہار کی طرح کہ دیتا ہے۔کچھ سال پہلے مشہور صحافی ریحام خان نے ذلفی بخاری پر الزام لگایا۔ زلفی بخاری نے اس الزام کو ایک پروپیگنڈہ قرار دیکر ریحام خان کے خلاف لندن کی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا۔

رواں ماہ لندن کی عدالت نے اس کیس کا فیصلہ دیاجسمیں ریحام خان کو نہ صرف زلفی بخاری سے معافی مانگنے کا کہا گیا بلکہ پچاس ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ یہ عدالتی فیصلہ ان لوگوں کے لئے ایک دعوت فکر ہے جو آزادی اظہار رائے کے حوالے سے مغربی ممالک کی مثالیں دیتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہئیے کہ مغربی ممالک میں جہاں اظہار رائے کی آزادی ہے وہیں اس کے غلط استعمال پر سخت سزائیں بھی موجود ہیں۔


ان دنوں ہمارے ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے متعلق ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ حکومت میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایک قانون لانے کی تیاری میں ہے۔کچھ لوگ اس قانون کی مخالفت اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اس قانون کی آڑ میں لوگوں سے آزادی اظہار رائے کا حق چھیننا چاہتی ہے۔حکومت کا خیا ل ہے کہ آزادی اظہار رائے کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔

حکومتی رہنما زلفی بخاری کے کیس کا بھی حوالہ دے رہے ہیں جس کا فیصلہ حال ہی میں لندن کی عدالت نے دیا۔ میرے خیال میں آزادی اظہار رائے کے غلط استعمال پر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان میں آزادی اظہار رائے کو شتر بے مہار کی طرح استعمال کیا جارہا ہے جو کہ انتہائی افسوسنا ک عمل ہے۔ہر شخص دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی چکر میں ہے۔

جس کے جی میں جو آئے کہ دیتا ہے۔الزام تراشی اور کردار کشی سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے جو کہ انتہائی خطر ناک ہے۔یہ حقیقت ہے کہ منافرت ، الزام تراشی اور فرقہ واریت پر مبنی معاشرے زیادہ دیر تک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتے۔ یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہم مغرب کی طرح آزادی اظہار رائے تو چاہتے ہیں لیکن مغرب کی طرح آزادی اظہار رائے کے غلط استعمال کے خلاف بننے والے ممکنہ قانون کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Azaadi Izhar Raye Column By Naeem Kandwal, the column was published on 27 October 2021. Naeem Kandwal has written 47 columns on Urdu Point. Read all columns written by Naeem Kandwal on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.