،،ممبران بے کارخاص ،،

جمعرات ستمبر

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

فاٹاکے خیبرپختونخوامیں انضمام اورہزارہ کے علاقہ تورغرکوضلع کادرجہ دے کرقومی دھارے میں لانے کے بعدملک میں ،،علاقہ غیر،،کاتصوراوروجودتقریباًختم ہوچکا لیکن اس کے باوجودملک کے اندرایک دونہیں کئی اضلاع اورشہروں کے ساتھ علاقہ غیروالاسلوک اوررویہ آج بھی جاری وساری ہے۔حکومتی رٹ ،انتظامی افسران کی موجودگی ،ممبران قومی وصوبائی اسمبلی اوربلدیاتی ممبران کے انتخاب کے باوجودایسے علاقوں میں عوام کی حالت زاراوربنیادی سہولیات کی مسلسل عدم فراہمی کودیکھ کریہ گمان بلکہ اکثراوقات تویہ یقین ہونے لگتاہے کہ شائدان علاقوں کاکسی کے ساتھ کوئی تعلق اورواسطہ نہیں ۔

ان علاقوں میں حکمرانوں کی سردمہری ،انتظامی افسران کی نوابی،منتخب ممبران کی خاموشی ،اندھیرنگری اورچوپٹ راج کوچوکوں ،چوراہوں اورگلی ،محلوں میں جابجاناچاتے ہوئے دیکھ کریوں محسوس ہوتاہے کہ ،،علاقہ غیر،،جنہیں کہاجاتاہے شائدوہ یہی علاقے ہوں ۔

(جاری ہے)

ایسے ہی بدقسمت علاقوں میں ہزارہ کاضلع بٹگرام بھی شامل ہے جو حکومتی رٹ،جمہوریت ،آئین اورقانون کی حکمرانی ہونے کے باوجودآج بھی علاقہ غیرکامنظرپیش کررہاہے۔

پورے ملک میں تقریباًیہ وہ واحداوربدقسمت ضلع ہے جس کے عوام کواپنے منتخب ممبران کادیدارپانچ سال بعداس وقت نصیب ہوتاہے جب منتخب حکومت خوددم توڑجائے یاکوئی اس کادھڑن تختہ کردے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباداورپشاورمیں سنگ مرمرسے بنے محلات میں مستقل ڈیرے ڈالنے والے یہاں کے منتخب ممبران کی آنکھیں ہی اس وقت کھلتی ہیں جب انہیں حکومت جانے کی کوئی آوازکہیں سے سنائی دیتی ہے۔

حکومت کادھڑن تختہ ہونے کے بعدبٹگرام سے منتخب ہونے والے ممبران پھراپنابوریابسترباندھ کرواپس علاقے کارخ کرتے ہیں ۔یہاں سے منتخب ہونے والے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی یہ خاصیت ہے کہ اقتدارکاسورج غروب ہونے سے پہلے ان کے اپنے ضلع میں آندھی آئے یاکوئی طوفان وہ پھربھی اپنے حلقے وعلاقے کارخ نہیں کرتے۔لوگ ووٹ دے کراپنے لئے نمائندے اس لئے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کریں گے اورعلاقے کوترقی کی راہ پرگامزن کریں گے مگرافسوس میرے آبائی ضلع کے عوام عام انتخابات میں اپنے لئے ممبران کاانتخاب کرکے خودکونت نئے مسائل میں پھنسادیتے ہیں ۔

یہاں سے منتخب ہونے والے ممبران ووٹ نہ دینے والوں کاجیناتوپھرحرام کرتے ہیں ،ان کے راستے اورپانی توبندکرتے ہیں مگرووٹ دینے والوں کی کوئی خیرخبرلیناگوارہ نہیں کرتے۔منتخب ممبران کی اس بے حسی کی وجہ سے بٹگرام میں واپڈاسمیت ہرمحکمے کاافسرغریب عوام کے لئے پھر نواب بن جاتاہے۔پورے ضلع میں بجلی کامسئلہ سالوں سے چل رہاہے لیکن آج تک منتخب ممبران سمیت کسی ذمہ داربندے کواس بارے میں زبان کھولنے کی جرات نہیں ہوسکی۔

بٹگرام کے ہزاروں عوام سالوں سے بجلی کارونارورہے ہیں لیکن ان کی اشک شوئی کے لئے کوئی نہیں ،رمضان،عیدسمیت خوشی کاکوئی موقع ہویاغمی کا۔حکومت کی جانب سے ملک میں بجلی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے اعلانات ہوتے ہیں لیکن اس بدقسمت ضلع میں نہ دن کوبجلی ہوتی ہے نہ رات کو،عیدپریہاں بجلی آتی ہے نہ رمضان کے موقع پر۔اندھیرنگری اورچوپٹ راج کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ یہاں برسوں سے چل رہاہے اورمعلوم نہیں کہ مزیدکب تک چلے گا۔

۔؟اس ضلع میں ہرسرکاری محکمے اورسرکاری افسرکی اپنی حکمرانی اوراپنی بادشاہی ہے۔واپڈاپچھلے پندرہ بیس سال سے یہاں کے عوام کی امنگوں اورامیدوں کاخون کررہاہے مگراس محکمے کے بدمست افسران سے کوئی پوچھنے والانہیں ،شدیدگرمیوں میں بھی ملک کے دیگرعلاقوں میں چندگھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے مگربٹگرام میں شدیدسردی کے موسم میں بھی بجلی کاکہیں نام ونشان نہیں ہوتا۔

خان خوڑڈیم اسی ضلع میں بنا،پاک چین دوستی کی لازوال مثال شاہراہ ریشم بھی اسی ضلع سے ہوکرگزرتی ہے۔قیام پاکستان کی تحریک میں یہاں کے ایک دونہیں ہزاروں سپوت وطن پرقربان ہوئے ۔اس ضلع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افرادآج بھی ملک وبیرون ممالک اپنی خدمات سرانجام دے کرملک کی ترقی اورخوشحالی کے لئے اہم کرداراداکررہے ہیں لیکن اس کے باوجودحکمرانوں کی نااہلی اوریہاں کے منتخب ممبران اسمبلی کی بے حسی کی وجہ سے اس علاقے کودورجدیدمیں بھی علاقہ غیربنادیاگیاہے۔

بٹگرام کے عوام کوتووہ سہولیات بھی نہیں مل رہی جوعلاقہ غیرمیں زندگی گزارنے والوں کوملتی ہیں ،بجلی،ہسپتال،سکول،سڑک،پانی سمیت یہاں کے عوام زندگی کی ہربنیادی سہولت سے محروم ہیں ۔تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ پنجاب میں اس شخص کوہم نے وزیراعلیٰ بنایاجس کاتعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے،قدرتی حسن سے مالامال میراآبائی ضلع تمام ترنعمتوں اورسہولتوں کے ہوتے ہوئے بھی سیاسیوں کے ہاتھوں جس طرح پسماندہ ہے ایسابدقسمت ضلع اورعلاقہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکابھی نہیں ہوگا۔

عثمان بزدارکے آبائی ضلع میں توبجلی ،پانی سمیت دیگرچیزیں سرے سے ہی نہیں ہونگی مگرمیرے آبائی ضلع میں توبجلی کے کھمبے لگے ہوئے ہیں ،پانی کے لئے جابجاپائپ بھی بچھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجودضلع کے اکثرعلاقوں میں سالوں سے نہ بجلی ہے اورنہ پانی ۔پانی کے پائپوں سے بچے کھیلتے ہیں جبکہ بجلی کے تاروں پرلوگ کپڑے خشک کرنے کاسوچ رہے ہیں ۔

جس ضلع اورعلاقے کے منتخب ممبران چوڑیاں پہن کرایوانوں میں جائیں وہاں کے عوام پھرزندگی کی بنیادی سہولیات کے لئے اسی طرح ترستے اورتڑپتے رہتے ہیں ۔بٹگرام سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی پرنس نوازخان آلائی اورتاج محمدخان ترنداچھے بھلے پڑھے لکھے اورکام کے بندے ہیں مگرمعلوم نہیں اسلام آباداورپشاورکی رنگینیوں نے انہیں ،،ممبران بے کارخاص ،،کیسے بنادیاہے۔

سوشل میڈیاپربٹگرام کاہرشخص مسائل کارونارواوربنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پرچیخ رہاہے۔ان آوازوں پرلبیک کہناپرنس نوازاورتاج محمدترندکی بنیادی ذمہ داری اورقومی فرض ہے۔ہم اس کالم کے ذریعے بٹگرام کے منتخب ممبران سے گزارش کرتے ہیں کہ جوہواسوہوا۔اب کی بارخدارایہاں کے عوام کومایوس نہ کریں ۔بٹگرام آپ کااپناعلاقہ اوریہاں کے لوگ آپ کااپناخون ہے۔

آپ نے اسلام آباداورپشاورمیں رہتے ہوئے بھی ایک نہ ایک دن آخرضروران لوگوں سے آنکھیں ملانی ہے۔ضلع اس وقت مسائل کی دلدل میں دھنساہواہے ۔سابق ممبران نے علاقے اورعوام کے لئے کچھ نہیں کیا ،یہاں کی سڑکیں پچھلے پانچ سال سے کھنڈرات اوربجلی کھمبوں پرلٹکتی تاریں توانائی کی قوت وطاقت سے محروم ہیں ۔آپ خداکانام لے کربجلی کے مسائل حل کرنے سے یہاں ترقی کاآغازکردیں ۔

آپ یہاں کے افسروں اوراہلکاروں کوعوام کے خادم بنائیں ۔آپ لوگوں کوپانی اورروشنی دے کران کوجینے کاحق دیں ۔ان لوگوں نے آپ کوووٹ دے کرآپ پربہت بڑااحسان کیااب آپ بھی ان کوزندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بناکران پرایک احسان کیجئے۔سابق ممبران کی طرح اب کی باراگرآپ نے بھی اس ضلع کے عوام کومایوس کیا۔ان کودھتکارا۔ان کی آوازپرلبیک نہ کہی توپھرآپ کوبھی سابق ممبران کی طرح ،،ممبران بے کارخاص ،،کہنے میں کوئی حرج نہیں ہوگی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Membran Bekar Khas Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 20 September 2018. Umer Khan Jozvi has written 300 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.