میرے کپتان یہ ہے آپ کاانصاف۔۔؟

پیر اکتوبر

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

یہ توسچ ہے کہ نوازشریف،آصف علی زرداری اورپرویزمشرف جیسے حکمران توملک کے سادہ لوح عوام کوخشک نعروں اوردعوؤں سے بہلاپھسلاکرخاموش کراتے رہے اورعوام بھی اپنی خاموشی کو شرافت سمجھ کرحکمرانوں کے مظالم سہتے اورسالوں سے خشک نعرے اوردعوے سنتے رہے۔جس کی وجہ سے ملک میں امیرامیرسے امیرتراورغریب غریب سے غریب ترہوتاگیا۔عوام کی اسی مجرمانہ خاموشی کے باعث ہم جہاں ایک طرف کالے ہندوؤں کی غلامی سے نجات کے بعدگورے انگریزوں کی غلامی میں جکڑے گئے وہیں ملک بھی تباہی کے آخری دہانے کوچھونے لگا۔

میرے کپتان وہ آپ ہی توتھے جس نے اسلام آبادکے تاریخی ڈی چوک میں 120دن سے زائدکاتاریخی دھرنادے کرحکمرانوں کے ظلم وستم اوراپنے عصب شدہ حقوق پرخاموشی کوبدترین ظلم اورگناہ قراردیتے ہوئے سادہ لوح عوام کواپنے حقوق کیلئے گھروں سے باہرنکلنے کادرس دیا۔

(جاری ہے)

میرے کپتان ہمیں اچھی طرح یادہے آپ نے تواس دھرنے کے دوران عوام کویہاں تک کہاکہ جب تک آپ کوآپ کاحق نہیں ملتاآپ بجلی اورگیس کے بل پھاڑکرحکمرانوں کی نافرمانی کواپنے اوپرلازم پکڑیں ۔

میرے کپتان آپ ہی کی قیادت میں ہونے والے اسی تاریخی دھرنے اوراحتجاج کے دوران نہ صرف پی ٹی وی سمیت دیگرقومی عمارتوں پرحملے ہوئے،پتھربرسائے گئے ،ان کے شیشے اوردروازے توڑے گئے بلکہ ملک میں انصاف کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ کے درودیواروں پرشلواریں بھی لٹکائی گئیں ۔ اسی دھرنے کے دوران آپ کے شیروں نے قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں اورقوم کے محافظوں کی وردیاں پھاڑکرانہیں بدترین تشددکانشانہ بھی بنایالیکن میرے کپتان اس وقت ملک میں ظالموں کی حکومت تھی پھربھی اس ظالم حکومت کے کسی اہلکاراورملازم نے آپ کے کسی کارکن کوہاتھ تک نہیں لگایا۔

لیکن میرے کپتان یہ کیا۔۔؟اب جب ملک میں انصاف کی حکومت ہے اورآپ اس ملک کے وزیراعظم ہیں وہی احتجاج اوردھرنے جن کوآپ ثواب کادرجہ دیتے تھے اب جرم اورگناہ دکھائی دینے لگے ہیں ۔میرے کپتان پشاوریونیورسٹی کے نہتے طلبہ توآپ ہی کے یادکئے ہوئے سبق پرعمل کرکے اپنے حقوق کے لئے نکلے تھے ،جواب میں آپ کی ظالم پولیس نے ان کے معصوم جسموں کولاتوں،مکوں اورڈنڈوں سے زخمی زخمی کرکے چکناچورکردیا۔

میرے کپتان اپنے حقوق کیلئے باہرنکلنا،احتجاج کرنااوردھرنادیناکیاواقعی ناقابل معافی جرم اورکوئی بہت بڑاگناہ ہے۔۔؟میرے کپتان حکومت وقت کی ظالمانہ پالیسیوں اوربرے اقدامات کیخلاف آوازاٹھاناکیاحقیقت میں آئین وقانون کیخلاف ہے۔۔؟میرے کپتان اگرایساہی ہے توپھرسب سے بڑے مجرم اورگناہ گارتوآپ ہی ہیں ،کیونکہ میرے کپتان آپ ہی نے تو اس بھولی بھالی قوم کواپنے حقوق کے لئے باہرنکلنے کادرس دیا۔

آپ ہی نے تواس قوم اوراس قوم کے بچوں کویہ باورکرایاکہ جب تک آپ کوآپ کاحق نہ ملے تواس وقت تک آپ حکمرانوں کی نافرمانی کرکے اپنے مئوقف پرڈٹے رہیں ۔میرے کپتان اپنے حق کے لئے لڑنا،احتجاج کرنااوردھرنادینااگرہرشخص کابنیادی حق ہے توپھریہی حق پشاوریونیورسٹی کے نہتے طلبہ کے لئے جرم اورگناہ کس طرح بنا۔۔؟میرے کپتان وزارت عظمیٰ کی منصب سنبھالنے اوراقتدارکی رنگینیوں میں کھوکرآپ بھی نوازشریف،آصف علی زرداری اورپرویزمشرف جیسے حکمرانوں کی طرح اصول،میرٹ،آئین اورقانون کویکسربھول گئے ہیں ۔

کل تک جوچیزآپ اورآپ کے حواریوں کے نزدیک جائزتھی اب وہ دوسروں کے لئے ناجائزہوگئی ہے۔آپ کی قیادت میں دوسروں کے خلاف احتجاج،مظاہرے اوردھرنے تونہ صرف جائزبلکہ آئین اورقانون کے بھی عین مطابق تھے۔لیکن آج جب قوم کے نونہال اورمہنگائی تلے دبے ہوئے عوام آپ کی حکومت کے خلاف احتجاج،مظاہرے اوردھرنے دینے کی کوشش کرتے ہیں توآپ کے کھلاڑی انہیں غیرقانونی اورناجائزکہہ کرمظاہرین کولہولہان کئے بغیرنہیں چھوڑتے۔

۔؟میرے کپتان پشاوریونیورسٹی کے طلبہ کاقصوراورگناہ توصرف یہتھاکہ وہ غریب اورنہتے طلبہ آپ کی حکمرانی میں یونیورسٹی فیسوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کیخلاف صدائے احتجاج بلندکررہے تھے۔اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پرنکلنے والے طلبہ پرلاتوں،مکوں اورڈنڈوں کی بارش کرنے کی کیاضرورت تھی ۔۔؟میرے کپتان آپ کے حواری نہتے طلبہ پربہیمانہ تشددکوجائزقراردینے کے لئے ،،احتجاج کے پیچھے سیاسی مقاصد،،کاڈرامہ رچانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔

میرے کپتان سکول،کالج اوریونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے کیاسیاسی مقاصدہوسکتے ہیں ۔۔؟آپ کی ظالم پولیس کے ہتھے چڑھنے والے غریب اورنہتے طلبہ کے مقاصدصرف غریبی کاروناروناتھاجوآپ کی حکمرانی میں انہیں رونے بھی نہیں دیاگیا۔ویسے کسی احتجاج ،مظاہرے اوردھرنے کے پیچھے سیاسی مقاصدہونابھی اگراتنابڑاجرم ہے تومیرے کپتان اس جرم اورگناہ میں بھی پھرآپ اورآپ کے کھلاڑی سب سے آگے ہیں کیونکہ اسلام آبادتاریخی دھرناآپ نے کوئی ثواب کمانے یاوظیفہ پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ منظم سیاسی مقاصدکے لئے دیاتھا۔

پھرتوانصاف یہ تھا کہ نہتے طلبہ سے پہلے پولیس کے ان بے رحمانہ ڈنڈوں،لاتوں اورمکوں کے لئے آپ تحریک انصاف کے کارکنوں اورسونامیوکوآگے کرتے۔اس کے بعدپھراگر پشاوریونیورسٹی کے طلبہ آپ کی حکمرانی میں اس طرح تشددکانشانہ بنتے بھی توہمیں ہرگزکوئی اعتراض اورگلہ نہ ہوتا۔مگرمیرے کپتان سیاسی مقاصدکے لئے ڈی چوک تاریخی دھرنے میں آسمان سرپراٹھانے اورماردھاڑکرنے والے توسیاسی مجاہدٹھہرے اورپشاوریونیورسٹی کے طلبہ کومجرم بناکرتشددکے مراحل سے گزاراگیا۔

جوہرگزہرگزانصاف نہیں ، اپنے حقوق کے لئے پرامن احتجاج ہرشخص کابنیادی حق ہے،میرے کپتان اسلام آبادمیں جس طرح تاریخ کاطویل ترین دھرنادیناآپ کاحق تھااسی طرح پشاورمیں اپنے حقوق کے لئے احتجاج اورمظاہرہ بھی غریب طلبہ کاحق تھا،آپ کی پولیس نے علم کی پیاس بجھانے کے لئے دوردرازسے آنے والے طلبہ پرجس طریقے سے ظلم وستم کے پہاڑتوڑے کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔

میرے کپتان مجھے یقین ہے آپ نے ڈی چوک میں مظلوم عوام کواپنے حقوق کے لئے لڑنے اورڈٹنے کاجودرس دیاتھاآپ آج بھی اس پرقائم ودائم ہوں گے،آپ آج بھی احتجاج،مظاہرے اوردھرنے کوعوام کاحق تسلیم کرتے ہوں گے ۔اس لئے میرے کپتان آپ کی حکمرانی میں جنہوں نے بھی نہتے طلبہ پرڈنڈوں کی بارش کی ،ظلم وستم کے پہاڑگرائے آپ ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائیں ،میرے کپتان نونہالان قوم یہ اس ملک ،قوم اورآپ کااثاثہ ہے،آپ کی پشت پراکثریت ہی ان نونہالوں کی ہے۔

آپ اگرانہیں تحفظ نہیں دیں گے۔۔؟آپ اگران کی آوازنہیں سنیں گے ۔۔؟توپھرآپ کو2018کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی سے ہمکنارکرنے والے ان بچوں کے زخموں پرمرہم کون رکھے گا۔میرے کپتان آپ ہی توان نونہالوں کے لیڈراوروزیراعظم ہیں ۔خداراسیاسی مفادات کی خاطرقوم کے ان بچوں کے ارمانوں کاخون مت کیجئے،پھٹے ہوئے سراورگریبان ہاتھ میں پکڑکرپشاوریونیورسٹی کے غریب طلبہ امیدبھری نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں آپ بھی اگران کے لئے نوازشریف،آصف زرداری اورپرویزمشرف بن گئے تومیرے کپتان پھرتاریخ آپ کوبھی کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

اس لئے آگے بڑھےئے اورپولیس ڈنڈوں،لاتوں اورمکوں سے زخمی زخمی ان طلبہ کوسہارادیجےئے۔ان کوگلے سے لگاےئے۔کیونکہ یہی غریب طلبہ ہی آپ کااوراس ملک کاقیمتی اثاثہ ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Mere Kaptaan Yeh Hai Ap Ka Insaaf Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 08 October 2018. Umer Khan Jozvi has written 308 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.