منتخب احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے‘شہبازشریف

احتساب سب کا منصفانہ بے لاگ اور بلاامتیاز ہونا چاہیے،اسی سے معاشرہ توانا ہوتا ہے،صاف پانی کا سکینڈل ہم نے چھپایا نہیں کیونکہ ہم شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کیساتھ عوام کو بھی جوابدہ ہیں،ہم نے اس بارے میں اپنی ناکامیاں کو قوم کو خود بتایا تھا کیونکہ اس منصوبے میں 70ارب روپے کا ڈاکہ ڈالاجارہا تھا جسے ہم نے عین موقع پر پکڑااور قوم کے 70ارب روپے بچائے، ایف آئی آر درج کروائیں اور کیس انٹی کرپشن کو دیا،اس وقت نیب کہاں تھا اربوں کھربوں ر وپے جو دب گئے ہیں، انکو واپس لانا نیب کی قانونی اورآئینی ذمہ داری ہے ،اگر یہ پیسے واپس آئینگے تو سب نیب کی ستائش کرینگے سیاسی ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے،اداروں کے درمیان عدم تعاون نہیں بلکہ تعاون اوراشتراک ہونا چاہیے،پاکستان کو درپیش چیلنجز اورمسائل سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ ،عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کو ایک ہونا ہے وزیراعلیٰ پنجاب سے دانش سکولز سے فارغ التحصیل ہوکراعلی تعلیمی اداروں میںتعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی ملاقات

جمعرات اپریل 21:14

منتخب احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے‘شہبازشریف
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے 2008-09ء میں دانش سکولز کا جو پودا لگایا تھا کل یہ پودا ایک تن آور درخت بن چکا ہے جس کے سائے میں قوم کے ہزاروں بیٹے اوربیٹیاں اعلی تعلیم سے آراستہ ہوگئے ہیں اورہورہے ہیں ،یہ ایک خواب لگتا ہے تاہم پنجاب حکومت کی پوری ٹیم نے اس میں حقیقت کے رنگ بھرے ہیں،جس کا کریڈٹ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو جاتا ہے،جس نے ایک ویژن کے ساتھ خواب دیکھااوراس کو شرمندہ تعمیر کیا ،دانش سکولز کے عظیم بیٹوں اوربیٹیوں نے جس اعتماد کیساتھ آج اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ قابل ستائش ہیں ،دانش سکولز کے عظیم بیٹوںاوربیٹیوں نے بین ا لاقوامی مقابلوں میں بھی حصہ لیا ہے،ان بچوں کے اساتذہ اورپرنسپلز نے ان کا حوصلہ بڑھایا، اس طرح پاکستان کے اندر ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ہے،قائد اعظمؒ اورعلامہ اقبالؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھاتھایہ اس خواب کی طرف بہت بڑا قدم ہے ،یہ عظیم بچے اوربچیاں قائد ؒاوراقبالؒ کے افکار اورسوچ کا عملی نمونہ ہیں ۔

(جاری ہے)

وہ دانش سکولز سے فارغ التحصیل ہوکراعلی تعلیمی اداروں میںتعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات سے خطاب کررہے تھے،جنہوں نے یہاںوزیراعلیٰ شہبازشریف سے ملاقات کی۔دانش سکولز سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلی یونیورسٹیوں اورکالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اوردانش سکولز کے قیام پروزیراعلیٰ شہبازشریف کے ویژن کی تعریف کی ۔

انہوںنے کہاکہ جب پنجاب حکومت نے دانش سکولز کی بنیاد رکھی تو اس پر بے جا تنقید کی گئی کہ پیسہ فضول میں خرچ کیا جارہا ہے ۔وہ سیاسی لیڈر جنہوںنے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تعلیم کے میدان میں اپنے صوبے میں علمی اقدامات کریں گے وہ ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں،حالانکہ وہ تنقید کرنے میں سب سے آگے تھے ۔ان سیاسی لیڈرنے اپنے صوبوں میں دانش سکولز کیا بنانے تھے بلکہ تعلیم کے میدان میں ان کی کارکردگی انتہائی بری رہی ہے۔

انہوںنے کہا کہ آج دانش سکولز سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہزاروں سکالرز ،لمز،فاسٹ،زرعی یونیورسٹی ،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور دیگر اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں ۔اگر ان بچوں کو یہ مواقع نہ ملتیں تو یہ اپنے دیہات کی گلیوں کی دھول بن جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہاتھ تھاما اورکم وسیلہ اوریتیم بچے اوربچیوں کیلئے دانش سکول سہارا بنا۔

دانش سکولز نے یتیم بچوں کیلئے والد اور والدہ کا کردارادا کیا ہے ۔دانش سکولز نے ان بچوں کے سرپر دست شفقت رکھا ہے ۔ان میں ان کے اساتذہ کی محنت بھی شامل ہیںجنہوں نے ان بچوں کو ہیرے کی طرح تراشا ہے ۔میں ناقدین کو کہنا چاہتا ہوں کہ تنقید کرنا بہت آسان ہیں لیکن یہ بچے اوربچیاں کم وسیلہ ہونے کے باوجود آج اعلی مقام کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔

اللہ تعالی کا بے پایاں فضل و کرم سے یہ قائد ؒاوراقبالؒ کے پاکستان کی تعبیر ہے ۔اگر 70برس کے دوران صحت عامہ اورتعلیم میں اسی طرح محنت اورعزم کیساتھ کام کیا جاتا تو آج پاکستان عملی دنیا میں مشعل راہ ہوتا،بدقسمتی سے یہ نہیں ہوا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دانش سکول کے بچوں اوربچیوں کو اس مقام پر لیجانے میں سب نے ملکر کردارادا کیا ہے ۔جس پر میں وزراء ،متعلقہ سیکرٹریز،،پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ اوردیگر متعلقہ محکموں کو مبارکباد دیتا ہوں ،ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

انہوںنے کہاکہ قیام پاکستان کا بنیادی مقصدسب کیلئے یکساں مواقع فراہم کرناہے۔آج یہ بچے ایچی سن کالج اورگرائمرسکولزکے بچوں کاڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قابل ہوچکے ہیں اورمجھے ان بچوں کا حوصلہ اوراعتماد دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے ۔انشاء اللہ یہ بچے پاکستان کو غربت سے نجات دلائیں گے اورپاکستان کو صحیح معنوں میں قائدؒ کا پاکستان بنائیں گے۔

یہ عظیم بچے قوم کے معمار بنیں گے اور قوم کا قرض اتاریں گے۔جو ناقدین ناجائز الزامات لگاتے تھے وہ ہوش کے ناخن لیں اوران عظیم بچوں سے ملیں ان کا ہوش ٹھکانے آجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے یکساں مواقع عام آدمی کے بچے کا حق ہے۔امیر اورغریب کے درمیان خلیج کو کم کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔انشاء اللہ یہ بچے امیر اورغریب کے درمیان بڑھتی خلیج کو مٹائیں گے اورپاکستان عظیم ملک بنے گا۔

نیب کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیب کو اپنی ذمہ داری ہر صورت ادا کرنی چاہیے۔نیب اگر متحرک ہوا ہے تو ہمیں خوشی ہے اوراس کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ احتساب سب کا منصفانہ بے لاگ اور بلاامتیاز ہونا چاہیے،اسی سے معاشرہ توانا ہوتا ہے۔ چیئرمین نیب کی یہ ا پروچ ہے توکوئی اس سے اختلاف نہیں کرے گا۔ماضی قریب میں اربوں ،کھربوں روپے لوٹ لیے گئے ،نیب ان کا احتساب کرنے نکلا ہے تو قوم کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔

نیب پنجاب میں بڑی تیزی کے ساتھ کارروائیاں کررہا ہے ۔ہم ان کو کاغذات اوردیگر چیزیں مہیا کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ صاف پانی کا سکینڈل ہم نے چھپایا نہیں کیونکہ ہم شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کیساتھ عوام کو بھی جوابدہ ہیں۔ہم نے اس بارے میں اپنی ناکامیاں کو قوم کو خود بتایا تھا کیونکہ اس منصوبے میں 70ارب روپے کا ڈاکہ ڈالاجارہا تھا جسے ہم نے عین موقع پر پکڑااور قوم کے 70ارب روپے بچائے ،ہم نے ایف آئی آر درج کروائیں اور کیس انٹی کرپشن کو دیا،اس وقت نیب کہاں تھا۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے مختلف منصوبوں میں شفافیت کے ذریعے اس غریب قوم کے کئی سو ارب روپے بچائے ہیں اورترقی کا پہیہ بہت تیزی سے گھمایا ہے ۔جن لوگوںنے خون پسینہ گرا کر ترقی و خوشحالی کیلئے کام کیا ہے پوری قوم کو ان کی بھر پور ستائش کرنی چاہیے تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو۔تاہم جہاں کرپشن ہوئی ہے اس کھوج لگانا اوراسے سامنے لانا نیب کی ذمہ داری ہے ۔

نیب کو اس شاندار اقدام کی بھی تعریف کرنی چاہیے جہاں قوم کے اربوں روپے بچائے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے نندی پور پاور پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 50،60ارب روپے کے اس منصوبے کیلئے کوئی بڈنگ نہیں کرائی گئی اوراس زمانے کی حکومت نے اس منصوبے کو بغیر بڈنگ کے آگے ایوارڈ کردیا۔عدالت نے یہ کیس نیب کو دیا اورجسٹس رحمت حسین جعفری نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس منصوبے میں تاخیر کے ذمہ دار بابر اعوان ہیں۔

اربوں روپے اس منصوبے میں بابر اعوان کی وجہ سے ضائع ہوئے اورکراچی پورٹ پر پلانٹ پڑا پڑا زنگ آلود ہوگیا۔اس سے بڑا اور کیا جرم ہوسکتا ہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی کے دور میں اسلام آباد میں سیف سٹی پراجیکٹ لگایا گیا،،سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا۔16ارب روپے کے اس منصوبے کے تحت صرف 2ہزار کیمرے لگائے گئے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کا لاہورمیںلگنے والا سیف سٹی پراجیکٹ اسلام آباد کے مقابلے میں چار گنا بڑا ہے اوراس میں 8ہزار کیمرے لگائے گئے ہیں اوراس منصوبے کو 13ارب روپے میں مکمل کیاگیا ہے اوراربوں روپے بچائے بھی گئے ہیں۔

ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ اربوں کھربوں ر وپے جو دب گئے ہیں، ان کو واپس لانا نیب کی قانونی اورآئینی ذمہ داری ہے ۔اگر یہ پیسے واپس آئیںگے تو سب نیب کی ستائش کریںگے تاہم منتخب(Selective) احتساب کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے۔انہوںنے کہا کہ چنیوٹ میںلوہے کے ذخائر پر بھی اربو ںروپے کے ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور2010ء میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر یہ کیس نیب کو دیاگیا۔

نیب نے اس کو بند کردیا اورکلین چٹ دے دی ،اب اس کا دوبارہ نوٹس لیا گیا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔اسی طرح این آئی سی ایل ،رینٹل پاورپراجیکٹس اورای او بی آئی میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی اگر یہ اربوں کھربوں واپس آتے ہیں تو نیب کو دعائیں ملیں گی ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ پنجاب کے سکولوں میں لاکھوں بچوں کو داخلے دیئے گئے ہیں اورمحکمہ سکولز نے تاریخی کام کیا ہے ۔

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے 90ہزار بچوں کو سکول داخل کرایاگیا ہے ۔ان بچوں کو فری کتابیں،یونیفارم اوروظیفہ بھی دیا جارہا ہے ۔ایسی مثال بھارت میں بھی موجود نہیں ہے ۔ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈکے تحت 3لاکھ50ہزار بچوں کووظیفے دیئے گئے ہیں ۔۔پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ووچر سکیم کے تحت 26لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا ہے ،تاہم جہاں سونامی آنا تھا ،تبدیلی آنی تھی اورنیا پاکستان بننا تھا، انہوںنے اپنے صوبے میں تعلیم کو یکسر نظر انداز کیا ہے ۔

اسی طرح سندھ اوربلوچستان میں بھی تعلیم کے شعبے پر توجہ نہیں دی گئی ۔۔پنجاب حکومت کے تعلیمی شعبے میں اقدامات کا موازنہ خیبر پختونخواہ،،سندھ اوربلوچستان کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم نے تعلیم کے میدان میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ جن لوگوں نے عوام کی ترقی اورخوشحالی کیلئے کام کیا ہے ان پر تنقید ی نشتر لگائیں گے تو مایوس ہوجائیںگے ۔

آپ کو ایسے لوگوں کی تعریف کرنی چاہیے تاہم جہاں خرابی ہو اس کو درست کرنا اورپکڑنا ضروری ہے ۔ ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوان بچے بلاول زرداری نے انکل عمران کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ آپ کس کو دھوکہ دے رہے ہیں ،آپ نے تو ہمیں ووٹ دیئے تھے ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ سیاسی ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے ۔

اداروں کے درمیان عدم تعاون نہیں بلکہ تعاون اوراشتراک ہونا چاہیے اوراسی کو پرموٹ کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں ملک کی بقاء ہے ۔۔پاکستان کو درپیش چیلنجز اورمسائل سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ ،عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ کو ایک ہونا ہے کیونکہ ان چیلنجز سے نمٹنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔مسائل کے حل کیلئے سب کو یکجان اوردوقالب ہونا ہوگااوراسی طرح ہم اپنے مسائل سے نمٹنے سکتے ہیں ۔

ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ قصور میں انتہائی غلط اورغلیظ زبان استعمال کی گئی اورکوئی مذہب معاشرہ یہ برداشت نہیں کرسکتااورہم نے انصاف کے بے لاگ نظام کو مضبوط کرنا ہے ۔عدل اورانصاف کے بول بالے کے لئے سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔قصور میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی غلط تھا جس پر میں نے فوراً ایکشن لیا۔میں نے پولیس کو ہدایت کی کہ جنہوںنے بھی یہ زبان استعمال کی ہے ان کیخلاف بلاامتیاز ایکشن لیا جائے ۔اس پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اگر ہم آج اس پر سمجھوتہ کیا تو اس قوم کی بنیادیں ہل جائیںگی ۔انہوںنے کہا کہ عدلیہ کے کسی فیصلے سے اتفاق کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہیں لیکن اداروں کا احترام لازم ہے۔