پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کا نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ کی فیسوں میں سو فیصد اضافہ

کرنے کے فیصلے پر شدید احتجاج حکومت فی الفور نظرثانی کر کے پرانے شیڈول کو بحال کر ے یا آزاد خطہ کو مستثنیٰ قرار دے ‘حکومت سے مطالبہ

بدھ اپریل 18:58

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر نے نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ کی فیسوں میں سو فیصد اضافہ کرنے کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور نظرثانی کر کے پرانے شیڈول کو بحال کر ئے یا آزاد خطہ کو مستثنیٰ قرار دے ، بصورت دیگر تمام سیاسی ، مذہبی ، سماجی ، طلباء ، وکلاء ، صحافتی ، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی راست اقدام پر مجبورہو جائے گی ۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید میر نے گزشتہ روز اخباری نمائندوں سے شناختی کارڈ کی فیسوں میں ہونے والے اجافہ پر اپنے شدید ردعمل کے اظہار میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پہلے ہی دوہرے ٹیکسز کا نفاذ کرکے سالانہ اربوں روپے دونوں ہاتھوں سے بٹورے جارہے ہیں جبکہ سہولیات کے بجائے سرخ جھنڈی دکھا دی جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

نیلم جہلم پراجیکٹ کے نام پر ٹیکس ،لبریشن سیل کے نام پر ٹیکس ، تعلیمی اخراجات پر ٹیکس ، پی ٹی وی کے نام پر ٹیکس ، سیل ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر مدات میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا نظام رائج ہے ۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی فوری طور پر یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیکر عوام سے انصاف کریں اور مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کیلئے کھربوں ڈالر آسان طریقہ سے حاصل کرنے کے فرسودہ حربے ترک کریں بلکہ پانامہ مالیاتی سکینڈل ، قطر کیس ،ائربلیو اور سرکاری خزانے سے اورنج لائن ، ٹرین لائن سے ہونے والی اندھی کمائی سے انتخابی مہم چلائیں ۔

سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف وفاقی حکومت کو عوام دشمن فیصلہ واپس لینے کی ہدایت کریں ۔ وفاقی حکومت کی بجٹ سفارشات تیار کرنے سے قبل قومی مالیاتی ایوارڈ پر تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا عدم اتفاق اور اجلاس کا بائیکاٹ حکومت کے منہ طماچہ ہے ۔ شوکت جاوید نے کہا کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کشمیر کونسل کو ختم کرواتے کرواتے غنڈہ ٹیکس اپنے غریب لوگوں پر نافذ کروا بیٹھے جو ہر فرد ہر حال میں دینا پڑیگا۔

لہذا وہ وفاقی حکومت سے دوٹوک بات کرکے حق نمائندگی ادا کریں یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے اور فرائض منصبی کا تقاضہ بھی‘ وفاق میں بیٹھے چند بیوروکریٹس اور وفاقی وزراء آزاد کشمیر کے عوام سے انتقام لے رہے ہیں جو سراسر ظلم ، ناانصافی کے مترادف ہے ۔ آزاد کشمیر کے عوام کو اضافے سے مستثنیٰ کیا جائے جبکہ 2ہزار میگاواٹ بجلی آزاد کشمیر سے پیدا ہورہی ہے اور ساڑھے تین سو میگاواٹ بغیر لوڈ شیڈنگ کے عوامی ضرورت ہے مگر دوسالوں سے ، 12، سے 18گھنٹے تک فورس لوڈشیڈنگ مسلط کرکے پاکستان سے ختم کردی گئی ہے اس طرح کی ناانصافیاں نظریاتی رشوں میں دراڑیں پیدا کرتی ہیں۔